ڈاکٹرظفرالاسلام خان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ درج

نئی دہلی:دہلی پولیس کی خصوصی برانچ نے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ پوسٹ کے الزام میں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ معلومات ہفتہ کو ایک اہلکار نے دی۔ پولیس نے وسنت کنج کے رہنے والے ایک شخص کی جانب سے شکایت ملنے کے بعد خان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے (غداری) اور 153 اے (دین، نسل اور جائے پیدائش کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی بھڑکانے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے بتایا کہ درج کرائی گئی ایف آئی آرمیں شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ خان کا پوسٹ اشتعال انگیز ارادتا اور غداری پر مشتمل تھا اور اس معاشرے کی ہم آہنگی کو خراب کرنے اور تقسیم کرنے پر مرکوز تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کرائم برانچ معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ خان نے منگل کو پوسٹ کیا تھا، لیکن کچھ دیر بعد ہی اسے ہٹا لیا تھا اور معافی مانگ لی تھی۔ بی جے پی نے خان کو کمیشن سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔خان نے ایک بیان میں کہاکہ مجھے احساس ہوا کہ جب ہمارا ملک طبی ایمرجنسی کا سامنا کر رہا ہے اور پوشیدہ دشمن سے جنگ لڑ رہا ہے، تو میرا ٹویٹ غلط وقت پر تھا اور غیر حساس تھا۔ میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 اپریل کے ان کے ٹویٹ نے کچھ لوگوں کو دکھ پہنچایا ہے جس میں انہوں نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں ہندوستان کے مسلمانوں کے استحصال کی آواز اٹھانے پر کویت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ خان نے کہا کہ ان کا ارادہ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا بالکل نہیں تھا۔