ڈاکٹر ریحان غنی کی رہائش گاہ پر جلسۂ سیرت النبی اور نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد

پٹنہ:سیرت رسول اور نعت پاک کی محفل میں شریک ہونا بڑی سعادت ہے۔ایسی پاکیزہ، بابرکت اور معیاری محفل میں شریک ہو کر مجھے خوشی ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کیا۔ وہ مشہور صحافی ڈاکٹر ریحان غنی کی رہائش گاہ، عالم گنج میں نعتیہ مشاعرہ کی محفل کی صدارت فرما رہے تھے۔ نعتیہ مشاعرہ سے قبل جلسہ سیرت البنی ﷺ سے خطاب فرماتے ہوئے خانقاہ بلخیہ فردوسیہ کے سید شاہ نصر الدین بلخی فردوسی نے سیرت رسولﷺ کے عملی پہلوئوں پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اطاعت کے بغیر محبت ادھوری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لینا ہی اصل محبت رسول ہے۔ جلسہ سیرت النبی کا آغاز نوجوان عالم دین مولانا نظر الہدی قاسمی کی تلاوت اور اُسامہ غنی کے سلام سے ہوا۔ نظامت کا فریضہ دوردرشن، پٹنہ کے نیوز اینکر سلمان غنی نے انجام دیا۔ جلسۂ سیرت کے بعد نعتیہ مشاعرہ کی محفل آراستہ کی گئی۔ اس کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد اور ناشاد اورنگ آبادی نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر ریحان غنی نے انجام دیا۔کامران غنی صبا کے اظہار تشکر اور مولانا فضل کریم قاسمی کی دعا کے ساتھ مشاعرہ کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں سید شاہ حسین احمد،الحرا پبلک اسکول شریف کالونی کے ڈائرکٹر محمد انور،بزم کیف کے ڈائرکٹر آصف نواز، اختر عادل گیلانی ،مظہر عالم مخدومی، محمد شعبان، مولانا حامد حسین ندوی،شیث احمد، محمد کریم، فضل کریم ندوی، سرفراز احمد، احمد رضا ہاشمی، مظفر زاہدی،انظار احمد صادق، شمشاد احمد، ریاض الدین فردوسی،محمد منہاج الدین، تابش نقی، خرم ملک، ہدایت قادری،عمران احمد،نوازش الرحمن، صبغۃ اللہ رحمانی سمیت کثیر تعداد میں دانشوران علم و ادب اور خواتین بھی موجود تھیں۔ نعتیہ مشاعرہ میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:
پروفیسر اعجاز علی ارشد
تیرا مقام عرش الٰہی کے سائے میں
رتبہ ترا خدا کی قسم بس خدا کے بعد
ناشاد اورنگ آ بادی
یا نبی لب پہ آیا ہے نام آپ کا
نعت خواں آج ہے یہ غلام آپ کا
پروفیسر اسرائیل رضا
مدینہ کیسی بستی ہے بلا لو یا رسول اللہ
مری آنکھیں ترستی ہیں بلا لو یا رسول اللہ
اثر فریدی
معاف کرنا جسے تھا ناممکن
معاف اس کو بھی کر گئی خوشبو
مشتاق سیوانی
وہ خیر البشر وجہ تکمیل دیں ہے
نبی کا سراپا کتاب مبیں ہے
کاظم رضا
دہن غنچہ، گہر دنداں، لب و رخسار لاثانی
مہکتے پھول برساتی ہوئی گفتار لاثانی
مولانا مکرم حسین ندوی
اگر نعرہ لگاتے ہو بہت عشق محمد کا
تمہاری زندگی میں ان کی سیرت بھی ضروری ہے
معین گریڈیہوی
مصیبت دور ہو جاتی ہے راحت جگمگاتی ہے
نبی کا نام لیتا ہوں تو قسمت جگمگاتی ہے
نصر بلخی
عذاب فرقت میں جل رہے ہیں، تمہارے روضے پہ آ گئے ہیں
محبتوں میں حجاب کیسا تم اپنے جلوے کو عام کر دو
کامران غنی صبا
مرے غم گسارو! مرے چارہ سازو! مجھے لے چلو شہر طیبہ دکھا دو
زمیں پر نہیں ہو تو زیر زمیں ہو، مدینے میں میرا بھی اک گھر بنا دو
افتخار عاکف
غلام نبی ہوں مقدر جگا دے
خدایا مجھے بھی مدینہ دکھا دے
احمد غیور اقطاب
وہ ہو چاندنی یا شعاع شمس کی ہو
در مصطفی کے قدم چومتی ہے
ضیاء العظیم
مرے اللہ مجھے ایسا تو جینا لکھ دے
آخری سانس کی خاطر تو مدینہ لکھ دے
شارق خاں
آمد مصطفی ہو گئی
نور کی ابتدا ہو گئی