ڈاکٹر محمد رفعت مرحوم سیرت و افکار کی روشنی میں ـ سمیع اللہ خان

زیرنظر کتاب ایک ایسی عظیم اللہ والی اور تحریکی شخصیت کےمتعلق ہے جس پر دو حرف لکھنا میرے لیے بڑی سعادت ہے دن بھر میں، میں نے اس کتاب کے بیشتر حصے کا مطالعہ کیا اور پھر یہ سطریں لکھ رہا ہوں ـ
ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اللہ کی رحمت میں جا چکےہیں، اور اپنے پیچھے عظمتوں کے نقوش چھوڑ گئے ہیں اپنی نشست گاہ اور مسند کو ہمیشہ کےلیے سُونا کرگئے ہیں ـ
رواں سال ۸ جنوری کو ان کی وفات کا سانحہ پیش آیا جس نے سرگرم تحریکی و فکری حلقوں کو سوگوار کردیاـ
ڈاکٹر محمد رفعت صاحب اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا ” سیمی ” کے پہلے منتخب صدر تھے یہ ان کا تحریک اسلامی کا پہلا اور تربیتی پڑاؤ تھا،یہاں سے جو سفر ان کا شروع ہوا وہ ہوتے ہوتے انہیں جماعت اسلامی کی مرکزی لیڈرشپ میں لے گیا اور اپنی وفات کے وقت وہ تمام ہی تحریکی و فکری خیموں کے قدآور رہنما تھے، عزیمت پسند اور ترقیاتی فکروں کے حامل تھےـ
زیر نظر کتاب ڈاکٹر محمد رفعت صاحب کی حیات و خدمات پر ایک قیمتی مجموعہ ہے، رفعت صاحب کی وفات کےبعد جو موقر سمینار منعقد ہوا اس میں سینئر اہل علم و دانش نے شرکت کی تھی ان کے مقالات اس مجموعہ میں شامل ہیں، ان میں شامل تمام مضامین پر تو تبصرہ کرنے کی ابھی گنجائش نہیں ہے لیکن مجموعی طورپر یہ کتاب ڈاکٹر رفعت صاحب کے افکار کی معنویت کو پیش کرتی ہے، ایس۔آئی۔ایم میں طلبہ ایکٹوزم سے لیکر تحریک اسلامی کا قدآور فکری رہنما بننے تک ان کے زندگی کے قابلِ استفادہ گوشوں سے واقف کراتی ہےـ
اس کتاب کے شروع میں اشہد صاحب کا نہایت قیمتی استقبالیہ بیان ہے، اس کے ایک بیانیے سے اپنی نااتفاقی درج کراتا ہوں، انہوں نے کہا ہے کہ امیرِ جماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے قیمتی اوقات فارغ کرکے رفعت صاحب کے لیے منعقدہ اس سیمینار میں شرکت کی، مجھے لگتاہے کہ کسی جماعت کے مرکزی رہنما اور فکری لیڈر کی وفات پر منعقدہ پروگرامز میں اس قسم کی باتیں نہیں ہونی چاہییں ـ امیر جماعت کا فرض تھاکہ وہ اپنے ایسے رہنما کی وفات پر ان کی تعزیت و اعترافات کی مجالس میں شرکت کریں، اور یقینًا امیر جماعت نے ایسا ہی کیا، لیکن قابلِ تعجب ہے کہ یہ غیر موزوں کلمہ جو سمینار کے استقبالیہ میں ادا کیاگیا اسے کتاب مرتب کرتے وقت بھی اشاعت میں شامل رکھاگیا اور اشاعت میں شامل کیے جانے کےبعد ہی بندہ اس سے نااتفاقی ظاہر کررہاہے اور اس پر تنقید بھی، قیمتی اوقات ایسے کلمات دیگر تقاریب میں تو جچتے ہیں لیکن تعزیتی قسم کی نشستوں میں یہ موزوں نہیں ۔
آگے اس کتاب میں بیشمار قیمتی مقالات ہيں، مولانا جلال الدین عمری صاحب کے تاثرات بعنوان ” ایک عزیز کی یاد، جو سب کا عزیز تھا ” دل سے نکلے ہوئے کلمات و تاثرات ہیں، امیر محترم سید سعادت اللہ حسینی صاحب کا صدارتی خطبہ ہے جس میں انہوں نے بہترین انداز میں مرحوم ڈاکٹر رفعت صاحب کے آدابِ اختلاف کو برتنے والے شاندار وصف اور رخصت و عزیمت کے پہلوﺅں پر گفتگو کی ہے، جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہےـ
آگے ضیاءالدین فلاحی اور احمد اللہ صدیقی صاحبان کے مرحوم کی کتابی و عملی زندگی سے متعلق بڑے ہی معلومات افزا مقالے ہیں، پھر نعمان بدر صاحب کا تفصیلی مضمون ” ڈاکٹر رفعت صاحب کا طلبائی ایکٹوزم ” ہے، جو مرحوم کی ابتدائی تحریکی سرگرمیوں سے روشناس کراتا ہے اور سیمی میں ان کی فعال سرگرمیوں کےمتعلق معلومات بہم پہنچاتا ہےـ
ایسے ہی ایس۔امین حسن صاحب کا ایک مضمون ہے بعنوان ” مخاطب کا نفسیاتی فہم ” یہ بھی معلوماتی اور سبق آموز ہے، معاذ رفعت کا مضمون ” ڈاکٹر رفعت۔ایس آئی او کے لیے شجر سایہ دار ” اور رشاد رفعت کا مضمون ڈاکٹر رفعت صاحب کی گھریلو زندگی، اپنے اندر سیکھنے کے کئی زاویے پر مشتمل ہیں، ان کا مطالعہ راہ نما ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر سلیم اور خان یاسر صاحبان کا مضمون مرحوم کی شفاف سیرت اور فکری پختگی کو بیان کرتاہے، ہمارے رفعت صاحب کے عنوان سے ذکی کرمانی صاحب کا مضمون بھی معلومات اور محبتوں سے بھرپور ہے
اس کےبعد ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کا مضمون ہے ” ڈاکٹر محمد رفعت زندگی نو کی ادارت اور اداریے ” یہ مضمون بہت ہی مربوط اور مرحوم کی دس سالہ عملی زندگی سے متعلق ہے، کیونکہ ڈاکٹر رفعت صاحب ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۹ تک جماعت کے ترجمان و آرگن "زندگیِ نو” کو سنبھالتے تھے اور ان کے اداریے و اشارات شوق اور اشتیاق سے پڑھے جاتےتھے، مولانا رضی الاسلام صاحب نے اس طرح مرحوم کی دس سالہ صحافتی و ادارتی زندگی کو حسنِ انداز میں سمیٹا ہےـ
اس مجموعے میں برادرم ابوالاعلیٰ سبحانی کا مضمون بصورت تبصرہ بر کتاب ” فکر اسلامی کا سفر۔ راہ اور راہی ” شامل ہے، یہ مضمون جہاں مرحوم کی شاہکار تحریکی تصنیف کا سیرحاصل تعارف ہے وہیں کتابوں پر تبصرہ کرنے کے سلسلے میں درکار عرق ریزی کی سمت رہنمائی بھی کرتاہے، ان کی فکری تصنیف پر یہ تبصرہ بڑا خوبصورت خراج ہے مرحوم کےلیےـ
بعداز مرگ، کسی بھی علمی اور فکری شخصیت کیلیے یہ بڑا اعزاز و شرف ہوتاہے کہ اس کے افکار و نگارشات پر گفتگو ہوتی رہے، خواہ تنقیدی ہو یا توسیعی ـ
جی تو چاہتا تھا کہ، اقبال ملا صاحب، عبیداللہ فہد، حسن رضا، وقار انور، یوسف امین، غطریف شہباز اور خالد مبشر صاحبان کے مقالوں پر بھی تبصرہ کروں، جگہ جگہ سے انہیں پڑھا تو فکر و معلومات میں افزائش ہوئی، لیکن وقت اجازت نہیں دیتا، سفر در سفر کا عالم ہے، ایسےمیں مزید باحوالہ اور مربوط گفتگو کےلیے میرے پاس وسائل نہیں ہیں، اس لیے جو کچھ کتاب میں درج سامنے آیا اس پر اپنی معمولی سی رائے کا اظہار کردیا ہے ۔
یہ مجموعہ بڑا ہی قیمتی، اور راہ نما ہے، اس کو مطالعے میں رکھنا چاہیے، اس سے بہت ساری فکری و تحریکی رہنمائی ملتی ہے، وہیں تحریکِ اسلامی کی اس عظیم عارف باللہ شخصیت سے نسبت بھی قائم ہوتی ہےـ
ادارۂ تحقیق کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک کارآمد سیمینار کو یقینی بنایا،مرتب کو مبارکباد، اور ہدایت پبلشرز کا بہت شکریہ جنہوں نے اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور کتاب کو جاذب نظر بناکر پیش کیاہےـ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس اپ نمبر: 9891051676ــ91+ پر رابطہ کیا جاسکتا ہےـ