ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی بحیثیت مصنف

تصنیف:ڈاکٹر سفیر اختر اسلام آباد
ترتیب وتقدیم: عرفات اعجاز اعظمی
تبصرہ: شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

ڈاکٹر الیاس اعظمی ادب وانشا، فکر وتحقیق اور تحریر و تصنیف کی دنیا کا بہت بڑا اور قد آور نام ہے، انھوں نے سرکاری اسکول کی تدریسی ملازمت کے باوجود مختلف موضوعات پر اس قدر وسیع کارنامے انجام دیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے، ان کی خدمات کا دائرہ متنوع بھی ہے اور وقیع بھی، ڈاکٹر صاحب نے سوانح بھی لکھی ہے اور تاریخ بھی خاکے بھی لکھے ہیں اور تبصرے وتجزئے بھی، تحقیقی دریافتیں بھی کی ہیں اور فن تجوید میں بھی بیش بہا معلومات فراہم کی ہیں، لیکن ان تمام اصناف میں جس موضوع پر انھوں نے تاریخ ساز اور شاندار کارنامہ انجام دیا ہے اور اس کے نتیجے میں عظمتوں کے آسمان تک رسائی حاصل کی،وہ جہان شبلی اور شبلی شناسی ہے،اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب نےاس قدر عظیم الشان اور وسیع خدمات انجام دی ہیں اور فکر شبلی وعلوم شبلی کی متنوع جہات کو اس طرح آشکارا کیا ہے کہ علمی وتحقیقی دنیا میں ماہر شبلیات کا لقب ان کی شناخت بن گیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے تخلیقی وتحقیقی قلم سے اب تک مختلف موضوعات پر جن میں گراں قدر تحقیقات وتصنیفات کے علاوہ ترتیب وتدوین اور تعلیقات بھی شامل ہیں پر پینتالیس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، اور اپنی وقعت وعلمیت کی بنا پر علمی وادبی حلقوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر اپنی طرف توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کردیا ہے، ان فتوحات میں تقریباً بیس تصنیفات تو صرف جہان شبلی سے متعلق ہے،اہل ادب اور اہل نظر نے ان کتابوں پر تبصرے لکھے،تجزیاتی مضامین لکھے، مفصل تحریروں کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ قابل ذکر بات یہ ھے کہ ان تبصرہ نگاروں میں وہ شخصیات بھی ہیں جو فکر ونظر کے اعتبار سے امتیازی شان رکھتی ہیں، اور علم وتحقیق کی دنیا میں انہیں مرجعیت حاصل ہے،مثلا پرفیسر ریاض الرحمان خان شیروانی، مولانا عمیر الصدیق ندوی ضیاء الدین اصلاحی،
پروفیسر خورشید نعمانی اور شمس الرحمن فاروقی وغیرہم۔

انہیں قدردانوں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر سفیر اختر پاکستان کا بھی ہے، جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کی تحقیقات کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھا بلکہ اپنے عالمانہ ومورخانہ قلم سے متعدد گراں قدر تبصرے لکھ کر جہاں ڈاکٹر صاحب کی فتوحات کی عظمت میں اضافہ کیا وہیں انہوں نے دبستان شبلی اور فکر شبلی سے گہری وابستگی کا بھی ثبوت فراہم کیا۔

،ڈاکٹر سفیر اختر صاحب بہترین نثر نگار،دیدہ ور مورخ، قدیم وجدید ماخذ ومصادر پر گہری نظر رکھنے والے محقق ، وسیع النظر مبصر اور جہان شبلی پر مورخانہ نگاہ رکھنے والے دانشور ہیں،انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے لیکر نیویارک تک کی عالمی درسگاہوں سے فیض حاصل کیا ہےاور ان سرچشموں سے علم کی پیاس بجھائی ہے، ان کے قلم سے اب تک بیس کتابیں مختلف موضوعات پر منصہ شہود پر آکر اہل علم سے داد تحقیق وصول کرچکی ہیں،اور درج ذیل تحققی ومعیاری رسالے و وجرائد مثلاً جہات الاسلام،پنچاب یونیورسٹی،پیام اخوت،اکیڈمی اسلام آباد،نقطہ نظر اسلام آباد،اخبار اردو اسلام آباد،سہ ماہی فکر ونظر اسلام آباد، کتاب شناسی اسلام آباد،کوہ ودمن گورمنٹ کالج مری میں مکمل آب وتاب کے ساتھ ان کا تحقیقی تاریخی اور تنقیدی سفر جاری ہے، فکر ونظر اسلام آباد اور اخبار اردو اسلام آباد کے تو وہ مدیر ہیں اور دیگر مذکورہ رسالوں میں کسی نہ کسی منصب پر فائز ہیں، بیک وقت اتنے رسالوں میں ان کے مناصب سے ان کی تخلیقی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سفیر اختر صاحب دبستان شبلی کے قدرداں بھی ہیں اور اس کے زبردست سیاح بھی، اسی وجہ سے ان کی نگاہ میں ڈاکٹر الیاس اعظمی صاحب کی بڑی قدر ہے،انھوں نے ڈاکٹر صاحب کی 8/کتابیں جو دارالمصنفین کی تاریخی خدمات،عظمت کے نشان ،شاہ معین الدین احمد ندوی حیات وخدمات ،متعلقات شبلی،مطالعات ومشاہدات، کتابیات شبلی، مکتوبات شبلی پر ایک نظر شبلی شناسی کے سو سال ، کے نام سے منظر عام پر آئیں ان پر ،9 تبصرے کئے ہیں، تبصرہ نگارنے ان تحریروں میں اس قدر عرق ریزی،جانفشانی اور تحقیق وجستجو سے کام لیا ہے’کہ وہ متعلقہ موضوع کا پورا خلاصہ اور نچوڑ کی حیثیت اختیار کرگئی ہیں۔
یہ تبصرے نہایت جامع،موضوع کو محیط، اور معلومات سے مملو ہیں،اور علم وتحقیق کے حوالے سے شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں مصنف کا شاندار اجمالی تعارف بھی ہے اور موضوع کے حوالے سے مستند معلومات بھی، تحقیقات پر تحسین بھی ہے اور معمولی سے سقم سے لیکر نمایاں سہو تک پر عالمانہ اور مورخانہ گرفت بھی، ان کے تبصرے پڑھ کر جہاں ان کی بالغ نظری،باریک بینی، دیدہ وری اور مطالعات شبلی پر دسترس کا اندازہ ہوتا ہے وہیں، تبصرہ نگاری میں ان کی فنی عظمت، تنقیدی مہارت،اور محققانہ عظمت بھی سامنے آتی ہے، سفیر اختر صاحب کی یہ تحریریں پاکستان کے مذکورہ جراید ورسالوں میں قید تھیں اور اہل ہند کے قدردانوں کی دسترس سے باہر تھیں ان کی وقعت وعلمیت کا تقاضا تھا کہ انہیں ترتیب دے کر کتابی شکل دیدی جائے تاکہ ہندوستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ان سے استفادہ آسان ہوجائے۔

گرامی قدر رفیق مکرم مولانا محمد عرفات اعجاز اعظمی جو ڈاکٹر الیاس اعظمی صاحب کے نہایت قدرداں اور ان کے کارناموں پر گہری نظر رکھتے ہیں، انھوں نے اس تقاضے کو شدت سے محسوس کیا اور جمع وترتیب کے لئے اپنی توجہ مرکوز کردی،ان کی گراں قدر محنتیں رنگ لائیں اور ،،ڈاکٹر الیاس اعظمی بحیثیت مصنف،،کی شکل میں ایک قیمتی متاع علم و کتاب کے افق پر نمودار ہوگئی۔ مولانا عرفات صاحب نے اس کتاب پر نہایت مفصل جامع، خوبصورت اور شاندار مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں ڈاکٹر الیاس اعظمی صاحب کی علمی وفکری بلندی اور ان کے کارناموں کی تصویر کے ساتھ ساتھ تبصرہ نگار جناب ڈاکٹر سفیر اختر صاحب کی صلاحیت و کارنامے اور ان کی علمی وفکری بصیرت اور ان کے وسیع کارناموں کی بھی جھلک آگئی ہے۔
زبان وادب اور فکرو نظر کی معلومات کے حوالے سے یہ کتاب اس قابل ہے اسے پہلی فرصت میں حاصل کیا جائے اور اس کے مطالعے سے دل ونگاہ کو روشن کیا جائے۔ مکتبہ جامعہ اردو بازار دلی،اور اعظمی کتاب گھر پیراڈائز ٹریولس اعظم گڈھ رابطہ نمبر 9695174799سے یہ کتاب حاصل کی جاسکتی ہے۔