ڈاکٹر خاورہاشمی:ایک قصباتی دانشور-معصوم مرادآبادی

کسی علمی وادبی شخصیت کے کمالات کا اعتراف کرنے کے لیے ہمارے ہاں عام طورپر اس کے مرحوم ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بہت معمولی اور سطحی قسم کے لوگ اپنی زندگی میں ہی اپنے بارے میں ایسی ایسی باتیں لکھوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جن کاان میں کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں شعر وادب کی دنیا میں یہ بدعت عام ہے۔جبکہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو علم وادب کی بیش بہا خدمت انجام دینے کے باوجود اپنے بارے میں کسی سے دولائن لکھنے کا بھی مطالبہ نہیں کرتے۔ میں آج آپ کو ایک ایسے ہی شخص سے روبرو کراتا ہوں، جو اپنی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے باوجود گوشہ نشینی کی زندگی گزاررہا ہے اوربیش قیمت علمی وادبی خدمات انجام دینے کے باوجود کسی صلے اور ستائش کا تمنائی نہیں ہے۔ یہ شخصیت ہے ڈاکٹر خاورہاشمی کی، جنھوں نے کسی زمانے میں روزنامہ’قومی آواز‘ میں ایسے مضامین لکھے کہ پڑھنے والوں پر علم ودانش کی گرہیں کھلتی چلی گئیں۔ان مضامین میں تحریر کی چاشنی اور تسلسل کا ایسا کمال تھا کہ لوگ آج تک ہونٹ چاٹتے ہیں۔ان کی تحریروں کا کمال اخباری کالموں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اب تک ان کی جو دس کتابیں منظر عام پر آئی ہیں، ان میں انھوں نے تحقیق وتنقید کے جو دریا بہائے ہیں، ان کا مقابلہ آج کے بڑے بڑے محققین نہیں کرسکتے۔
ڈاکٹر خاورہاشمی نہ تو کسی دانش گاہ سے وابستہ ہیں اور نہ ہی کسی ادبی گروہ کے اسیر ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ انھیں زیادہ توجہ حاصل نہیں ہے یا پھر اس میں ان کی اس طبعی قناعت پسندی اور استغنٰی کو دخل ہے جسے انھوں نے تاعمر اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ میں کوئی پچیس تیس برس سے انھیں بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ اس دوران میں نے ان کی شخصیت کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ان کی صحبت میں بیٹھ کر علم وادب کے جو راز کھلتے ہیں وہ کسی اور کی صحبت میں نہیں کھلتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مصنوعی دانشوری کا کوئی لبادہ اوڑھے بغیر ایک قصباتی انسان کی طرح گفتگو کرتے ہیں اور زمینی حقائق بیان کرتے ہیں۔ان کا مطالعہ اور مشاہدہ دونوں ہی وسیع ہیں۔
ڈاکٹر خاورہاشمی کی تربیت دہلی یونیورسٹی کے جن اساتذہ کے زیرسایہ ہوئی، ان میں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی، پروفیسر عبدالحق اور پروفیسر قمررئیس کے نام قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے باجود اردو زبان وادب کو کسب معاش کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ وہ زیادہ محنت اور مشقت کے کام میں جٹ گئے جو ان کی ذہنی تربیت کے قریب ترتھا۔
ڈاکٹر خاور ہاشمی جن کا اصل نام عطاء اللہ ہے،17جنوری 1942ء کو مغربی یوپی کے مردم خیز قصبے بچھراؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بچھراؤں و مرادآباد کے مسلم انٹرکالج اور گورنمنٹ کالج سے حاصل کی۔ تلاش روزگار میں دہلی آگئے اور ادارہ ’ہمدرد‘ سے وابستگی کے دوران 1966 میں دہلی کالج (شبینہ) سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن کیا اور تمغہ غالب کے مستحق قرار دیے گئے۔ بعد ازاں ایوننگ انسٹی ٹیوٹ دہلی یونیورسٹی سے فرسٹ کلاس ایم اے پاس کیا۔ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کی نگرانی میں دہلی یونیورسٹی سے ہی ”اردو ادب کے ارتقاء میں دارالمصنفین کا حصہ“ کے موضوع پر دوسال سے بھی کم عرصے میں پی ایچ ڈی مقالہ مکمل کیا۔اس مقالے کی تیاری کے دوران انھیں اپنے نگراں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کے علاوہ جن شخصیات کا تعاون اور سرپرستی حاصل ہوئی ان میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسی نابغہ روزگارشخصیات شامل ہیں۔
ڈاکٹرخاور ہاشمی کی اہم تصنیفات میں ”قومی یکجہتی کا مسئلہ“ (1985ء) ادبی مضامین کا ”مجموعہ لوح وقلم“ (1986ء) حکیم عبدالحمید، ذات وصفات (2005ء) کے علاوہ ادب اور قومی زندگی“ اور ”ڈاکٹر سید عابد حسین، فکر وعمل کی داستان“ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔پچھلے دنوں ان کی نئی کتاب’جدید ہندوستان کا معمار اوّل سرسید احمد خاں‘ منظر عام پر آئی تو اسے علمی اور ادبی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ ڈاکٹر خاور ہاشمی نے علمی اور ادبی شہ پاروں کی تخلیق وتدوین کے علاوہ صحافت کی دنیا سے بھی راہ ورسم رکھی۔ مختلف اخبارات میں سیاسی موضوعات پر مضامین لکھنے کے علاوہ انہوں نے ماہنامہ ”لوح وقلم“ اور پندرہ روزہ ”نوائے ملت“ کے نام سے جریدے شائع کئے۔ علمی ادبی اور سماجی موضوعات پر ان کے لاتعداد مضامین ”تہذیب الاخلاق“ (علی گڑھ) ماہنامہ ”معارف“ (اعظم گڑھ) اور روزنامہ ”قومی آواز“ (دہلی) میں شائع ہوئے۔
ڈاکٹر خاورہاشمی کو دیکھ کر گزرے زمانے کے وہ کردار یاد آتے ہیں جنہیں ہم نے یا تو کتابوں میں پڑھا ہے یا پھر اپنے بزرگوں کی زبانی ان کی داستانیں سنی ہیں۔ انھوں نے پوری زندگی علم وادب کی خدمت میں صرف کی لیکن نام ونمود سے ہمیشہ دور رہے۔اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے’دارالمصنّفین‘ کے موضوع پر جو پی ایچ ڈی مقالہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے لکھا تھاوہ 36سال تک اشاعت کا انتظارکرتا رہا۔اگر میر اصرار نہ ہوتا تو یہ شاید کبھی شائع ہی نہیں ہوتا۔ وہ صلے اور ستائش کی تمنا کے بغیر زندگی گزارتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے علمی اور ادبی کارناموں کے لئے کبھی کسی استنادکی ضرورت محسوس نہیں کی۔نہ ہی انہوں نے ذاتی رشتوں کو اپنا قد بلند کرنے کے لئے استعمال کیا۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جن پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کی نگرانی میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی تھی‘ انہوں نے نہ جانے کتنے طالب علموں کو دانش گاہوں میں اچھی اچھی ملازمتیں دلوائیں۔ ڈاکٹر خاور ہاشمی کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھاکہ وہ خواجہ صاحب کا سہارا لے کر دیگر پی ایچ ڈی اسکالروں کی طرح دہلی یونیورسٹی یا کسی دیگر سینٹرل یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوکر عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ خاور صاحب نے طویل عرصے تک خواجہ صاحب پر یہ بات بھی ظاہر نہیں ہونے دی کہ وہ بھی اسی بچھراؤں کی سرزمین کے فرزند ہیں جہاں خواجہ صاحب کی پیدائش و پرداخت ہوئی تھی۔یہ دراصل ڈاکٹر خاور ہاشمی کی طبیعت میں رچی ہوئی اس بے نیازی کا ثبوت ہے جس نے انہیں بیساکھیوں کی بجائے خود اپنے پیروں پر چلنا سکھایا۔دوسروں کا احسان لینے یا ان سے امیدیں وابستہ کرنا ڈاکٹر خاور ہاشمی کی لغت میں اپنی خودی کا سودا کرنے کے برابر ہے۔
ڈاکٹر خاور ہاشمی کی پرورش پرداخت جن ہاتھوں میں ہوئی ہے انہوں نے انہیں خدا اعتمادی اور خود اعتمادی کا ایسا ہنر سکھایا تھا، جسے سیکھ کر انسان زندگی کی دوڑ میں کبھی ناکام نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ شاندار تعلیمی کیریئر کے باوجود انہوں نے کبھی دوسروں کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی اور اپنی مصنوعی شخصیت تعمیر کرنے کے بجائے جدوجہد اور سنگھرش کا راستہ اختیار کیا اور ایک ایسے ادارے میں ساری عمر خودداری کے ساتھ ملازمت کی جہاں محنت اور مشقت ہی کامیابی کی ضمانت تھی۔
ان کی تحریروں کو پڑھئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے خیالات میں بیباکی، لفظوں میں روانی اور تحریر میں وہ رچاؤ ہے جو آج کل کے اکثر لکھنے والوں کے یہاں نظر نہیں آتا۔ میں نے انہیں کبھی عہدے، دولت یا ایوارڈوں کا تعاقب کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔اقبال اور ٹیگور کے تقابلی مطالعہ پر مبنی ان کی زیر طبع تصنیف ایک نئی بحث کوجنم دے گی۔انہوں نے اردو ادب کے گہرے مطالعے کے ساتھ ساتھ ہندی ادب اور اس کے نشیب وفراز کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ ہندی ادب کی کج کلا ہیوں سے متعلق ان کے لاتعداد مضامین اس بات کے گواہ ہیں کہ اگر ہندی والے سنجیدگی سے ان کا مطالعہ کریں تو اپنی زبان اور تہذیب کو ایک بہت بڑی بیماری سے بچا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خاور ہاشمی کو عصری موضوعات اور سیاسی امور پر بھی خاصا عبور حاصل ہے۔سیاسی موضوعات پر ان کے مضامین میں تاریخ اور ادب کی چاشنی بلا کی دلچسپی پیدا کرتی ہے۔