ڈاکٹر حنیف ترین کی یاد میں-سہیل انجم

تین دسمبر 2020 کو میں اپنی دفتری مصروفیات کے سبب صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک نہ تو کسی کو فون کر سکا اور نہ ہی سوشل میڈیا کا جائزہ لے سکا۔ مصروفیات سے فراغت کے بعد جب میں نے فیس بک پر نظر ڈالی تو پہلی خبر سے ہی دل و دماغ کو شدید دھچکہ لگا۔ خبر معروف شاعر اور ہمارے ایک دیرینہ دوست ڈاکٹر حنیف ترین صاحب کے انتقال کی تھی۔ میں نے معروف ادیب و نقاد اور ہم دونوں کے مشترکہ دوست حقانی القاسمی کو فون کرکے اس خبر کی تصدیق چاہی تو انھوں نے اظہار حیرت کیا کہ آپ کو پتہ نہیں۔ ان کا انتقال تو صبح ہی ہو چکا ہے۔ فیس بک پر ان کے چاہنے والوں کی پوسٹ بھری پڑی ہے۔ پھر میں نے جو دوبارہ فیس بک چیک کیا تو واقعی درجنوں افراد نے اظہار رنج و غم کیا تھا اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔
ڈاکٹر حنیف ترین سے میری پہلی ملاقات 1988 میں سابق رکن پارلیمنٹ و سابق سفیر ہند جناب م۔ افضل صاحب کے ہفت روزہ ”اخبار نو“ کے دفتر واقع ترکمان گیٹ نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ اس وقت میں اس کے ایڈیٹوریل میں شامل تھا۔ وہ افضل صاحب کے دوست تھے۔ وہ دفتر میں کیا آئے کہ ایسا لگا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ کوئی طوفان ہو جو انسانی روپ دھارن کرکے آفس میں گھس آیا ہو۔ اخبار نو کا دفتر انتہائی چھوٹا جسے افضل صاحب بعض اوقات کبوتر خانہ بھی کہا کرتے تھے، ان کی پرشور آواز اور فلک شگاف قہقہوں سے بھر گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ ڈاکٹر حنیف ترین ہیں، سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ بہت اچھے شاعر ہیں۔ لیکن طوفان بردوش ہیں۔ بسیار گو ہیں۔ البتہ ہر شخص کو اپنا دوست بنانے کے فن میں ماہر ہیں۔ انھوں نے دفتر سے نکلتے وقت مجھ سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ ”ڈیئر تم سے ملاقات ہوتی رہے گی“۔ اور واقعی ملاقات ہونے لگی۔ وہ اپنی تخلیقات اس ہدایت کے ساتھ میرے پاس بھیجنے لگے کہ انھیں کہیں چھپواو ¿۔ کبھی سعودی عرب کے عر عر میں ہونے والی شعری نشست کی رپورٹ بھیجتے اور کبھی کچھ اور۔ عرعر سعودی عرب کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ وہ اس کے ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے عرعر کو ہندوپاک میں متعارف کرا دیا۔
کچھ دنوں کے بعد دہلی آئے تو پھر ملاقات ہوئی۔ لیکن یہ ملاقات بڑی عجیب و غریب تھی۔ دیکھتے ہی سختی سے چمٹ گئے اور رخسار پر بوسے پر بوسہ دینے لگے۔ بہت عجیب لگا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ میں خاموش رہا اور برداشت کرتا رہا۔ پھر تو یہ معمول بن گیا۔ ان کے ساتھ کچھ جگہوں پر جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ جو بھی مل رہا ہے اس کے ساتھ ان کا وہی ہنگامہ خیز دوستانہ سلوک ہے۔ وہی پکڑ دھکڑ اور وہی چمٹ جانا اور گال پر بوسے دینا۔ کسی سے میں نے پوچھا کہ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ عربوں کا کلچر ہے۔ کسی شناسا سے ملتے ہیں تو اظہار محبت و الفت کے لیے رخسار پر بوسہ دیتے ہیں۔ اس سے گھبرانا نہیں۔ اس میں کسی بری نیت کا دخل نہیں ہے۔ خیر میں ان کی اس عادت کا عادی ہو گیا۔ حنیف ترین سعودی عرب سے اکثر فون کیا کرتے اور طویل ترین گفتگو کرتے۔ کہتے کہ میری جان میں انڈیا آرہا ہوں۔ فلاں فلاں کام کرنا ہے۔ فلاں فلاں سے ملنا ہے۔ تم سے مجھے بہت کچھ مدد ملے گی۔ تم سے میں بہت کام لوں گا۔ ”میری جان“ ان کا ایک طرح سے تکیہ کلام تھا۔ جب بھی وہ انڈیا آتے تو ان کے حلقہ ¿ احباب میں دو چار دس کا اضافہ ہو جاتا۔ گفتگو میں اکثر و بیشتر بڑے مسلم پولیس افسروں اور شاعروں و ادیبوں کے نام لیتے اور کہتے کہ ان کے پاس جانا ہے یا ان سے مل کر آرہا ہوں۔ ان لوگوں سے ان کی واقعی شناسائی تھی۔ بلکہ بعض سے دوستانہ بھی تھا۔ جب جناب ندیم ترین نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک ہاسٹل کی تعمیر کروائی تو بڑے فخر سے کہتے کہ میرے بھائی نے کتنا بڑا کام کیا ہے۔ نام کی مناسبت سے میں سمجھتا تھا کہ وہ ان کے سگے بھائی ہوں گے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔ وہ سنبھل کے محلہ سرائے ترین کے رہنے والے تھے۔ اس لحاظ سے وہ اپنے نام کے ساتھ ترین لگایا کرتے تھے۔ جس طرح ڈاکٹر حنیف ترین نے سعودی عرب کے چھوٹے سے قصبے عرعر کو ہند و پاک میں مشہور کر دیا اسی طرح انھوں نے ترین کو بھی شہرت دے دی۔ انھوں نے اور ان کی اہلیہ نے بھی، جو کہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں، مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ بھی ایم بی بی ایس تھے او ران کی اہلیہ بھی ایم بی بی ایس ہیں۔ ایک بیٹا اور بیٹی بھی ایم بی بی ایس ہیں۔ جبکہ ایک بیٹا انجینئر ہے۔
اسی درمیان انھوں نے جامعہ نگر کے علاقے جوگابائی میں واقع پرساد کمپلیکس میں ایک فلیٹ لے لیا تھا۔ پھر کیا تھا۔ میں ذاکر نگر میں وہ جوگا بائی میں۔ جب چاہا فون گھما دیا اور اپنے پاس بلا لیا۔ یوں تو ان کا حلقہ بہت بڑا تھا۔ لیکن جو قریبی حلقہ تھا اس میں خاکسار کے علاوہ حقانی القاسمی بھی تھے۔ میں تو بعض اوقات ڈاکٹر صاحب کا مذاق بھی اڑا دیا کرتا تھا لیکن حقانی صاحب ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔ اسی درمیان مجھے ایک معاملے میں کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ان کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا۔ انھوں نے پوچھا کتنا چاہیے۔ میں نے کہا اتنا چاہیے۔ انھوں نے فوراً اتنی رقم کا ایک چیک بھیج دیا۔ ان دنوں میری مالی پوزیشن بہت کمزور تھی۔ جب میں کافی دنوں کے بعد قرض ادا کرنے کی پوزیشن میں آیا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ وہ لے لیجیے۔ کیا لے لیجیے۔ جو آپ نے دیا تھا۔ بہت سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ تم میرے چھوٹے بھائی ہو۔ میں نے لینے کے لیے تھوڑی دیا تھا۔ پھر ایسی بات کبھی مت کرنا۔ اسی درمیان انھو ںنے مجھے ایک فیکس مشین دی اور کہا کہ اسے اپنے گھر پر لگا لو۔ شاید کبھی کام آئے۔ لیکن اس کی کبھی ضرورت نہیں پڑی اور کچھ دنوں کے بعد میں نے وہ مشین ان کو واپس کر دی۔ میرے کسی کام کی نہیں تھی۔
اس درمیان ان کے جو بھی شعری مجموعے آتے وہ میرے پاس بھیجتے اور میں کوشش کرتا کہ ان پر تبصرہ لکھوں اور کہیں چھپوا دوں۔ ایک بار جب وہ ہندوستان آئے تو مجھ سے کہا کہ فلاں تاریخ کو ساہتیہ اکیڈمی میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں میری کتاب کا اجرا ہے۔ تمھیں تو اس میں چلنا ہی ہے، میرے اوپر ایک مضمون بھی پڑھنا ہے۔ میں نے ہامی بھر لی۔ میں نے ایک خاکہ نما مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ”طوفان بردوش ڈاکٹر حنیف ترین“۔ میں نے اس تقریب میں اسے پیش کیا۔ لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ بعد میں وہ مضمون کہیں چھپا بھی تھا۔ تقریب کے بعد ان کی اہلیہ ڈاکٹر شمیم اختر صاحبہ نے جن کا میں بہت احترام کرتا ہوں، اس خاکے کی بہت تعریف کی۔ تعریف تو حنیف ترین نے بھی کی۔ لیکن یہ بھی کہہ دیا کہ ”ارے یار تم تو بڑے خطرناک آدمی ہو“۔ ان کا یہ جملہ آج تک مجھے یاد ہے۔ اس مضمون میں ان کی شاعری کے بجائے ان کی شخصیت پر میں نے روشنی ڈالی تھی اور ان کی ہنگامہ خیزی کو موضوع بنایا تھا۔ اشاروں اشاروں میں ان کی بسیار گوئی (نظم و نثر دونوں) پر میں نے طنز بھی کیا تھا۔ وہ مضمون تو کہیں کھو گیا لیکن اس کا ایک جملہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ ”ایک شریف ترین شخص نے مجھ سے کہا کہ اگر حنیف ترین اپنے مزاج میں خفیف ترین سا بدلاو ¿ لے آئیں تو ذہین ترین ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ جس دن انھوں نے اس مشورے پر عمل کیا وہ سب کچھ رہیں گے مگر حنیف ترین نہیں رہیں گے“۔ لوگوں نے اس کا خوب لطف لیا تھا۔
اسی دوران انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمھیں ماہنامہ کتاب نما کاوہ خصوصی شمارہ ایڈٹ کرنا ہے جو میرے اوپر شائع ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کے لیے مضامین چاہئیں، وہ کہاں سے آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ تم اس کی فکر مت کرو، میں نے انتظام کر لیا ہے۔ اور واقعتاً انھوں نے انتظام کر لیا تھا۔ سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال سے لے کر پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، عنوان چشتی، مظہر امام، خلیق انجم، مخمور سعیدی، وزیر آغا، نثار احمد فاروقی، مصور سبزواری، حامدی کاشمیری، ظہیر غازی پوری، اعجاز علی ارشد، مناظر عاشق ہرگانوی، عبدالصمد، صلاح الدین پرویز، صادقہ ذکی اور راشد انور راشد سمیت متعدد قلمکاروں، ادیبوں اور شاعروں کے مضامین کا بنڈل انھوں نے مجھے تھما دیا اور کہا کہ لو انھیں ترتیب دے دو۔ میں نے ترتیب دے دیا اور اس طرح کتاب نما کا جون 2004 کا شمارہ حنیف ترین پر خصوصی شمارہ تھا۔ اس کا عنوان تھا ”حنیف ترین: فن اور شخصیت“۔ بطور مرتب میں نے ان کی شاعری پر ایک طویل مضمون قلمبند کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے مکتبہ جامعہ کے اسٹاف کو نوازا بھی۔ ان کو کسی سے بھی مضمون لکھوانے کا ملکہ حاصل تھا۔ ایسا انداز اختیار کرتے کہ چار و ناچار لکھنا ہی پڑتا۔ جسے پکڑ لیتے اس کے سامنے جائے مفر نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی نے بدرجہ مجبوری نہیں لکھا۔ بلکہ جس نے بھی لکھا ان کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر لکھا۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ انھوں نے کسی سے مفت میں مضمون نہیں لکھوایا۔ جس سے بھی لکھوایا اسے نوازنے میں بخالت سے کام نہیں لیا۔
ان دنوں میں ذاکر نگر ویسٹ میں ایک کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ لیکن میں نے ان کے لاکھ اصرار کے باوجود ان کو اپنا گھر نہیں دکھایا۔ میں جانتا تھا کہ اگر ایک بار انھوں نے دیکھ لیا تو جب جی چاہیے گا دوڑے چلے آئیں گے۔ میرا چھوٹا سا گھر کہاں بٹھاو ¿ں گا، کہاں کیا کروں گا۔ لیکن میں نے ان کی ایک خواہش پوری کر دی۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے خطوط اور تخلیقات اخبارات و رسائل میں بھیجنے کے لیے تمھارا پتہ استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ضرور کیجیے۔ اس طرح وہ برسوں تک میرا پتہ استعمال کرتے رہے ہیں۔
جب 2014 میں وہ ہندوستان واپس آگئے تو انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تکونہ پارک اور اوکھلا ہیڈ کے درمیان میں واقع یونیورسٹی کے قریب تعمیر شدہ ایک عمارت میں ایک فلیٹ لے لیا تھا۔ وہاں بھی دو ایک بار میری آمد و رفت رہی۔ تاہم زیادہ تر جوگابائی والے فلیٹ ہی میں ملاقات ہوتی۔ ان کی اہلیہ مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آتیں۔ 2017 میں میں اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے گیا تھا۔ جانے سے قبل میں نے بٹلہ ہاوس چوک کے پاس کھجوری روڈ پر واقع ان کے کلینک میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ڈاکٹر شمیم صاحبہ سے ملاقات کی اور ان سے کچھ دوائیں لکھوائیں۔ وہ میری اہلیہ سے مل کر بہت خوش ہوئی تھیں۔ اس کلینک میں شام کے وقت کبھی وہ بیٹھتی تھیں اور کبھی حنیف ترین صاحب۔ لیکن پابندی سے کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ دونوں کی اپنی مصروفیات تھیں۔ اس لیے وہاں مریضوں کو میں نے بہت کم دیکھا۔ ہندوستان آنے کے بعد انھوں نے دہلی کے مشہور اسپتال اپولو میں کچھ دن اپنی خدمات پیش کیں۔ مگر پھر اسے چھوڑ دیا۔ پھر ہیفکو میڈیکل اسکریننگ سینٹر نیو فرینڈس کالونی میں خدمات انجام دیں۔ اسے بھی چھوڑنا پڑا۔ دراصل ان کا جو مزاج تھا وہ انھیں کہیں ٹکنے نہیں دیتا تھا۔ اور چونکہ وہ سعودی عرب میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دے چکے تھے اس لیے ہندوستان کے اسپتال ان کے معیار پر کھرے نہیں اترتے تھے۔ میں جب بھی ان کے کلینک کے سامنے سے گزرتا تو یہ دیکھنے کی کوشش کرتا کہ وہ ہیں یا نہیں۔ ہوتے تو ان سے مل لیتا۔ اسی درمیان انھوں نے ایک ادبی تنظیم بھی بنا لی تھی۔ جس کا نام ”عالمی اردو مجلس“ تھا۔ لیکن اس کے تحت وہ جو پروگرام کرتے یا شعری نشست منعقد کرتے تو وہ بالکل ہی مقامی ہوتی۔ ان کے حلقے میں آخری دنوں میں شامل ہونے والے شاعر و صحافی اور اپنے دوست بسمل عارفی سے میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب تو عالمی تنظیم بنائے ہوئے ہیں اور پروگرام مقامی کرتے ہیں۔ کہنے لگے کہ چونکہ خود عالمی ہیں اس لیے تنظیم بھی عالمی بنائی ہے۔ انھوں نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ اگر چہ یہ جملہ طنزیہ تھا لیکن حقیقت پر مبنی تھا۔ ادب و شاعری کی دنیا میں وہ عالمی شہرت رکھتے تھے۔
مارچ 2018 میں میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شمس کمال انجم، صدر شعبہ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، جموں کو ان کی یونیورسٹی کی جانب سے ایک باوقار ایوارڈ ملا۔ وہ دہلی آئے تو میرے گھر پر ان کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر کوثر مظہری، سید منصور آغا اور حقانی القاسمی سمیت متعدد شعرا، ادبا اور صحافیوں نے شرکت کی تھی۔ حنیف ترین صاحب بطور خاص تشریف لائے تھے۔ ان کے انتقال پر میں نے حقانی القاسمی سے اظہار تعزیت کیا اور سید منصور آغا نے مجھ سے کیا۔ کہنے لگے کہ مجھے دہلی میں آپ ہی ایسے لگے جس سے میں ڈاکٹر صاحب کے انتقال پر اظہار تعزیت کروں۔ ایک بار ڈاکٹر صاحب نے اپنے گھر پر منعقدہ ایک تقریب میں مجھے اس لیے بطور خاص مدعو کیا کہ اس میں راجوری سے کم و بیش ایک درجن افراد نے شرکت کی تھی۔ وہ لوگ کسی کام سے دہلی آئے تھے اور ڈاکٹر صاحب کے مہمان تھے۔ اس سال دہلی کی ایک ادبی تنظیم ”اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن“ کی جانب سے 9 نومبر کو عالمی یوم اردو کے موقع پر ہمارے والد مولانا ڈاکٹر حامد الانصاری انجم پر ایک یادگار مجلہ شائع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر پر ہونے والی مذکورہ نشست میں اس مجلے کا اجرا عمل میں آیا تھا۔ وہ ہم تین بھائیوں (حماد انجم (مرحوم)، سہیل انجم اور ڈاکٹر شمس کمال انجم) سے بہت محبت کرتے تھے اور اکثر و بیشتر ہمارے خاندان کی علمی خدمات کا ذکر خیر کرتے۔
ہر شخص میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیں تو کچھ خامیاں۔ انسان ان دونوں اوصاف کا مرکب ہے۔ ان میں بھی خوبیاں اور خامیاں دونوں تھیں۔ ان کے مزاج کی ہنگامہ خیزی کے سبب بہت سے گوشہ گیر یا تنہائی پسند لوگ انھیں پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن اس سے وہ انکار بھی نہیں کر سکتے کہ حنیف ترین ایک مخلص شخص کا نام تھا۔ ہندوستان آنے کے بعد انھوں نے بہت کوشش کی کہ انھیں کل ہند سطح کے مشاعروں میں پڑھوایا جائے۔ وہ لال قلعہ کے مشاعرے میں بھی پڑھنے کے مشتاق تھے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ اگر انسان کو کسی کی موت کی تاریخ پیشگی معلوم ہو جائے تو وہ چاہے گا کہ اس کی وہ خواہشیں پوری کر دی جائیں جن کی تکمیل کے لیے وہ تڑپ رہا ہے۔ لیکن قدرت نے اس کا انتظام ہی نہیں کیا ہے۔ حالانکہ وہ بہت اچھے شاعر تھے۔ لیکن ان کے مزاج کا الھڑپن ان کے راستے میں حائل ہو جایا کرتا تھا۔
انھوں نے فلسطین کے جیالوں پر ایک طویل نظم لکھی تھی ”باغی سچے ہوتے ہیں“۔ زبردست نظم ہے۔ اس میں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو مختلف پیرایوں میں نظم کیا گیا ہے۔ ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں رباب صحرا، کتاب صحرا، کشت غزل نما، زمین لاپتہ رہی، ابابیلیں نہیں آئیں، زلزال، روئے شمیم (اس مجموعہ کا نام انھوں نے اپنی اہلیہ کے نام پر رکھا تھا)، لالہ ¿ صحرائی، پس منظر میں منظر بھیگا کرتے ہیں اور دلت کویتا جاگ اٹھی۔ انھوں نے ہندی میں بھی شاعری شروع کر دی تھی جس کے نتیجے میں ستیہ میو ¿ جیتے اور دلت آکروش کے نام سے دو کتابیں منظر عام پر آئیں۔ انھوں نے معروف شاعر و ادیب ظہیر غازی پوری کی شخصیت اور ان کے فن پر ایک کتاب بھی مرتب کی تھی۔ یہاں یہ عرض کر دینا مناسب ہوگا کہ ان کے مجموعے کتاب صحرا کا عربی میں ترجمہ ڈاکٹر شمس کمال انجم نے کیا تھا اور اس کا عربی نام تھا ”بعیداً عن الوطن“۔آجکل ڈاکٹر صاحب اخباروں میں کالم لکھنے لگے تھے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن روزنامہ انقلاب میں ان کا کالم چھپا اسی دن ان کا انتقال ہوا۔
ادھر کئی مہینوں سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کشمیر چلے گئے۔ وہیں انھوں نے آخری سانس لی۔ اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے اور ان کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں اور بیٹی کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ میں ڈاکٹر شمیم اختر صاحبہ اور ان کی اولاد کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ ان کا جانا میرا بھی ایک ذاتی خسارہ ہے۔ حنیف ترین جیسی طوفان بردوش شخصیت کا دہلی کے ہنگاموں سے دور اس طرح خاموشی سے چلا جانا انتہائی تکلیف دہ ہے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا