ڈاکٹر حنیف ترین:ایک سرگرم زندگی کا اختتام-ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

مشہور اردو شاعر وادیب ڈاکٹر حنیف ترین صاحب جمعرات کی صبح وادیٔ کشمیر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ۶۹ سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ موصوف کی انقلابی اور جذباتی شاعری خاص کر فلسطین اور دلتوں کے حوالہ سے اردو اور ہندی زبان میں ان کی نظموں کو عرصۂ دراز تک یاد رکھا جائے گا۔
حالاتِ زندگی:

ڈاکٹر حنیف ترین کی ولادت تاریخ شہر سنبھل کے سرائے ترین محلہ میں یکم اکتوبر ۱۹۵۱ء کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم سنبھل میں حاصل کی، آٹھویں جماعت تک درسگاہ اسلامی (رامپور) میں تعلیم حاصل کرکے علی گڑھ کا رخ کیا۔ کشمیر کے ایک کالج سے MBBS کی تعلیم حاصل کرکے آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج سے منسلک ہوگئے تھے۔ تعلیم کے دوران ہی ڈاکٹر شمیم اختر(ایک کشمیری خاتون ) سے شادی کرلی تھی جو خود بھی اس وقت MBBS کی طالبہ تھیں۔ ڈاکٹر حنیف ترین ۱۹۸۴ء میں سعودی عرب چلے گئے جہاں وہ سعودی حکومت کے ادارۂ صحت سے طویل عرصہ تک منسلک رہے۔ تیس سال سعودی عرب میں گزارنے کے بعد ۲۰۱۴ء میں سعودی عرب سے واپس دہلی میں رہائش پذیر ہوکر دہلی کے مختلف ہسپتالوں میں طبی خدمات انجام دیتے رہے۔ چند سالوں سے جامعہ نگر نئی دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں اپنی کلینک چلا رہے تھے۔ موصوف گزشتہ چند ماہ سے کینسر مرض میں مبتلا تھے۔ اس دوران انہیں سرجری کے عمل سے بھی گزرنا پڑا۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ تک دہلی میں ہی مقیم تھے، لیکن آب وہوا کی تبدیلی کی غرض سے انہوں نے کشمیر جانے کا فیصلہ کیا وہاں ان کی طبیعت بگڑی اور سری نگر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔ وہیں بروز جمعرات بتاریخ ۱۷ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق ۳ دسمبر ۲۰۲۰ء کو ۶۹ سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ بعد نماز عصر جنازہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد سری نگر کے راول پورہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوںنے شرکت کی۔ پسماندگان میں اہلیہ ڈاکٹر شمیم اختر کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ بڑے صاحبزادے بھی ڈاکٹر (طبیب) ہیں، دوسرے صاحبزادے پیشہ سے انجینئر ہیں۔ ریاض میں مقیم ماہر تعلیم اور مشہور تاجر ڈاکٹر ندیم ترین صاحب کے موصوف رشتہ میں چچا زاد بھائی ہیں۔ جس وقت انہوں نے MBBS میں داخلہ لیا تھا شاید پورے شہر سنبھل میں کوئی MBBS ڈاکٹر نہیں تھا۔
شاعری سے شغف اور تعلق: موصوف جہاں ایک تجربہ کار طبیب (معالج) تھے، وہیں ایک کامیاب شاعر بھی تھے۔ انہیں شاعری سے بہت زیادہ شغف اور تعلق تھا، یعنی وہ شاعری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے تھے، اسی لئے جس محفل میں جاتے وہاںاپنی شاعری سے لوگوں کے دل جیت لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ ڈاکٹر حنیف ترین نے اردو زبان اور اردو شاعری کے تئیں اپنی زندگی وقف کردی تھی۔
سماجی زندگی:

تنہا رہنا ان کے مزاج میں نہیں تھا، وہ جہاں رہتے ہمیشہ ادبی اور سماجی محفلیں سجاکر رہا کرتے تھے۔ ریاض (سعودی عرب) کے قیام کے دوران بھی وہ بہت زیادہ متحرک تھے۔ ریاض میں میرے گھر پر متعدد مرتبہ آپ تشریف لائے اور ہر مرتبہ اپنی کسی کتاب کا تحفہ عنایت کرنے کے ساتھ اپنا کلام بھی پیش فرماتے تھے۔ ان کا نہایت والہانہ انداز میں ملنا اور چہرے پر مسکراہٹ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ شعری محفلوں کے انعقاد اور ادب نواز حلقوں کو جوڑنے کے لئے ان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ غرور وتکبر اور کینہ جیسی بیماریوں سے محفوظ زندگی بسر کرتے تھے۔ خاکساری ان کی شخصیت کی خاصیت تھی۔
شعری مجموعے:

ڈاکٹر حنیف ترین نے تقریباً چالیس سال شاعری کی۔ اس دوران آپ کی ہزاروں نظمیں منظر عام پر آئیں۔ ’رباب صحرا‘، ’کتاب صحرا‘، ’کشت غزل نما‘، ’زمین لاپتہ رہی‘، ’ابابیلیں نہیں آئیں‘، ’زلزال‘، ’روئے شمیم‘، ’لالۂ صحرائی‘ اور ’پس منظر میں منظر بھیگا کرتے ہیں‘ ان کے وہ شعری مجموعے ہیں جن میں ان کی فکر وفن کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ فلسطین کی جدوجہد آزادی پر موصوف کی نظم ’’باغی سچے ہوتے ہیں‘‘ کافی مقبول ہوئی۔ اس نظم میں مظلوموں کے درد کو موصوف نے جس بے باکانہ انداز میں بیان کیا ہے وہ دوسرے شعراء وادباء کے لئے بہترین مثال ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی موصوف کی جرأت مندانہ کاوش نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔
ہندی شاعری:

ہندوستان میں اردو زبان کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کے ساتھ موصوف نے اپنے جذبات اور خیالات کو ہر عام وخاص تک پہنچانے کی غرض سے اردو کے علاوہ ہندی زبان میں بھی چند سالوں سے شاعری شروع کردی تھی، جس کے نتیجہ میں ہندی زبان کے شعری مجموعے کی دو اہم کتابیں ’’ستیہ میو جیتے‘‘ اور ’’دلت آکروش‘‘منظر عام پر آئیں۔ ڈاکٹر حنیف ترین کی شاعری دراصل مجبوروں، مظلوموں ، دلتوں اور کمزوروں کی آواز تھی۔ ان دِنوں دلتوں پر بہت کام کررہے تھے، ان کی شاعری کے مجموعہ’’دلت کویتا جاگ اٹھی‘‘ میں ان کے عزم کی عکاسی ہے۔
عربی اور انگریزی زبان میں شعری مجموعے: ۱۹۸۴ء سے ۲۰۱۴ء تک ڈاکٹر حنیف ترین کی زندگی کا تیس سالہ سنہری دور سعودی عرب میں گزرا۔ اس دوران اردو زبان میں ان کے مختلف مجموعے شائع ہوئے اور متعدد ادبی محفلوں کو منعقد کرکے دیار غیر میں بھی اردو زبان کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی شاعری عربی زبان میں بھی متعارف ہوئی، چنانچہ ’’بعیداً عن الوطن‘‘ اور ’’لم تنزل الابابیل‘‘ دو اہم کتابیں منظر عام پر آئیں۔ انگریزی زبان میں بھی ان کی ایک کتاب ’’دی ٹرتھ آف ٹیررزم‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
ایوارڈ اور انعامات:

ڈاکٹر حنیف ترین کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو سعودی عرب میں مقیم اردو داں طبقہ اور مختلف ادبی انجمنوں اور سوسائٹیوںکی جانب سے جہاں آپ کو متعدد ایوارڈوں اور انعامات سے نوازا گیا، وہیں دہلی، یوپی اور بہار کے اردو اکیڈمیوں نے متعدد مرتبہ انہیں ایوارڑوں سے سرفراز کیا۔ملک اور بیرون ملک کے مختلف مشاعروں میں آپ کے پیش کردہ کلام کو نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ انہیں دنیا کے مقبول ترین شعراء میں شمار کیاگیا۔
نثر نگاری :

گزشتہ چند سالوں میں انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا، چنانچہ ڈاکٹر حنیف ترین قادر الکلام شاعر کے ساتھ ایک بہترین کالم نویس کے طور پر ظاہر ہوئے۔ حالات حاضرہ پر مسلسل ان کے مضامین اردو اخباروں میںشائع ہورہے تھے۔ ۳ دسمبر کی صبح ۶ بجے موصوف نے آخری سانس لی اور اسی دن ان کا آخری مضمون ’’ نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج‘‘ ہندوستان کے مختلف اخباروں میں شائع ہوا۔ جس وقت ۳ دسمبر کو بعد نماز ظہر مجھے ان کے انتقال کی خبر ملی تو میں تصدیق کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ ان کا شائع شدہ مضمون اخبار میں پڑھ کر آیا تھا۔ مگر اللہ کے فیصلہ کے سامنے ہر شخص کو سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ ڈاکٹر حنیف ترین ایک سہ ماہی ادبی رسالہ کی اشاعت کے بھی خواہشمند تھے، جس کے لئے وہ کوشاں بھی رہتے تھے، مگر ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا اور اس کی اشاعت سے قبل ہی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ غرضیکہ انہوں نے شاعری کی طرح صحافت کے میدان میں بھی بہت جلدی وہ شہرت حاصل کرلی جو آسان نہیں ہے۔
آخر میں بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے، انہیں جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے اور ان کے وارثین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔