ڈاکٹر عابداللہ غازی:ایک منفرد انسان، ایک ممتاز دانشور-مولانا بدر الحسن القاسمی

ڈاکٹر عابد اللہ غازی سے میری پہلی ملا قات غالبا مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی جب وہ ملک عبد العزیز یونیور سٹی جدہ سے وابستہ تھے۔ پھر انہوں نے امریکہ جاکر شکاگو کو اپنا ٹھکانہ بنالیا اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اقرأ انٹر نیشنل ایجوکیشنل فاؤنڈیشن شکاگو کے نام سے نہایت کامیاب ادارہ قائم کیا اور 180کتابوں پر مشتمل دینی تعلیم کا نصاب انگریزی زبان میں تیار کیا اور اس کی شاخیں کئی ملکوں میں قائم ہیں۔ امریکہ کے اپنے سفر میں مین نے ادارہ دیکھا تھا لیکن اس پر طویل عرصہ ہوگیا۔ انہیں ابتدا میں سابق سعودی وزیر اعلام محمد عبدہ یمانی کا تعاون حاصل تھا، جو کچھ سالوں کے بعد ختم ہوگیا۔ شکاگو میں ان کی قلندرانہ شان بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جو ان کی خاندانی خصوصیات میں سے ہے، وہ کویت بھی آے تھے بے حد سلیقہ اور محبت کے انسان تھے۔
ان کے والد بزرگوار مولانا حامد الانصاری انتہائی بے تکلف ،اکتر صبح سویرے میرے کمرہ میں تشریف لاتےاور دیر تک بیٹھتے،وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد تھے اور اپنے زمانے کے نامور صحافی مصنف اور شاعربھی تھے۔ اخبار مدینہ،بجنور کے ایڈیٹر بھی رہے، انھوں نے اسلام کے نظام حکومت پر مفصل کتاب بھی لکھی تھی،جو ندوۃ المصنفین سے شائع شدہ ہے۔ ان کا دماغ بڑا زر خیز واقع ہواتھا۔ دارالعلوم کے اجلاس صد سالہ کا ماسٹر پلان تیار کیا تھا، جس سے ان کے تخیل کی وسعت اور سوچنے کے انداز پر روشنی پڑتی ہے ۔ بے حد متواضع، پریشان حالوں پر اتنی توجہ رکھنےوالے کہ خود ہی پریشانی کی حد کو پہنچ جائیں، قلندرانہ مزاج اور شاعرانہ تخیل رکھنے والے بزرگ تھے اور ان کے والد مولا نا منصور انصاری حضرت شیخ الھند کے اشارے پر مولانا سندھی کی طرح اپنی ساری زندگی قر بان کر دی۔ بیوی بچوں کو اللہ کے نام پر چھوڑ کر ساری زندگی کابل میں جلا وطنی کی حالت میں گزار دی۔
ان کی کتاب” انواع الدول” اسلامی سیاسیات پر بصیرت افروز کتاب ہے، میں نے دیوبند میں فارسی زبان میں اس پڑھا تھا۔افسوس ہے کے ہمارے مدارس میں نہ تو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے سیا ست مدن پر جو کچھ لکھا ہے، اس سے رو شناس کرایا جاتا ہے، نہ شاہ اسماعیل شہید کے منصب امامت یا انواع الدول جیسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور نہ ابن خلدون کے نظریات بتائے جاتے ہیں، نہ ابن تیمیہ کی” السیا سۃ الشرعیۃ” یا امام محمد کی” السیر الکبیر” کا اتاپتہ بتایا جاتا ہے تو صرف گائے بچھڑے کی محبت دل میں راسخ کرنے کا نتیجہ تو وہی ہوگا جو نظروں کے سامنے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جناب عابد اللہ غازی صاحب کی شخصیت کا جانا ایک اچھے انسان، ایک ممتاز دانشور اور ایک نہایت ہی کار آمد ادیب تجربہ کار نصاب ساز شاعر اور قلم کار سے محرومی ہے۔ اللہ تعالی انھیں فردوسِ بریں میں جگہ دے۔ آمین