ڈاکٹر عابد اللہ غازی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی کا اظہار تعزیت

نئی دہلی:ڈاکٹر عابد اللہ غازی کے انتقال سے علمی اور ملی حلقوں میں افسردگی کا ماحول ہے۔ 11/ اپریل 2021 کو شکاگو میں 85 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو ا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عابد اللہ غازی ذاتی صلاحیتوں کے علاوہ ایک نامور خاندان کے فرد تھے۔ ان کے خانوادے نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی میں نہایت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر عابد اللہ ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس نے قومی اور ملی خدمات کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ دینیات ان کے پر دادامولانا عبداللہ انصاری کی یادگار ہے، جنھوں نے سر سید کی نماز جنازہ کی قیادت بھی فرمائی تھی۔ ڈاکٹر عابد اللہ اپنے زمانہئ طالب علمی سے ہی نہایت فعال تھے۔ وہ اسٹوڈنت یونین کے صدر بھی رہے۔ پولیٹیکل سائنس سے ایم اے کرنے کے بعد انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس کا رخ کیا اور وہاں سے ہارورڈ یونیورسٹی پہنچ کر اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ وہ مسلسل قلم اور عمل کے میدان میں سرگرم رہے۔ مغربی مسلمانوں کی نئی نسل کی تربیت اور انھیں اپنے بنیادی ورثے سے واقف کرانے میں ان کی قلمی اور عملی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کے انتقال سے مجھے ذاتی طور پر بہت صدمہ پہنچا ہے۔ میں اپنی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ان کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور خدا سے دعا گو ہوں کہ ان کے درجات بلند فرمائے۔