ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی یاد- مولانا بدر الحسن القاسمی

کئی دنوں سے یہ خبر آر ہی تھی کہ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی حالت تشویشناک ہے، اس کے بعد ان کی رحلت کی افسوسناک اطلاع کے آنے کا ہی خدشہ تھا جو قدرت کے فیصلہ کے مطابق واقع ہوکر ہی رہا۔ انالله وانا اليه راجعون
ايتهاالنفس اجملي جزعا
ان الذي تحذرين قد وقعا
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے مایہ ناز شاگرد تھےاور ان کی قسمت میں ان کی گدی کی وراثت بھی تھی خاص طور پر مولانا حبیب اللہ مختاروغیرہ کی شہادت کے بعد ان کی شخصیت ہی جامعہ کے امور کی دیکھ بھال کے لیے تنہا رہ گئی تھی۔ مولانا عبد الرزاق اسکندر صاحب سے میری پہلی ملاقات 1980میں لیبیا کے دار الحکومت طرابلس میں ہوئی تھی یہ کرنل معمر القذافی کے اقتدار کا زمانہ تھا، پورے ملک کی سرکاری عمارتوں پر "الکتاب الاخضر” کی عبارتوں :
شرکاء لااجراء، من تحزب خان ،الثورہ لاتأتی فی القرن الا مرة واحدة،الثروة والسلاح بيد الشعب ” وغیرہ کوپروپیگنڈہ کے انداز پر لکھا گیا تھا ،ہوٹل، بینک، سرکاری آفسوں کی عمارتیں سبھی انہی نعروں کا بورڈ نظر آتی تھیں ۔ ہم دونوں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بلائے گئے تھے۔
وہاں کا تاریخی کیلنڈر بیس سال پیچھے کردیا گیاتھا، ہجرت کے بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سےسال کا آغاز قذافی صاحب کی جدت تھی۔ انکارِ حدیث کادور دورہ تھا، البتہ قرآنی حلقات کو خوب فروغ حاصل تھا، لیبیا کانام بھی اس زمانہ میں”الجماھیریة العربية الليبة الشعبية الاشتراكية العظمی "لکھا جاتا تھا۔ شرکائے کانفرنس میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ہی میرے لیے ذہن ومزاج اور فکر و عقیدہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب تھے، گوکہ میں عمر میں ان سے چھوٹاتھا اور وہ مجھ سے بیس سال بڑے تھے لیکن ہمارے درمیان بے تکلفی کے تعلقات قائم ہوگئے اور اتنی ہم آنگی پیداہوگئی تھی کہ ہم دونوں ساتھ رہے اور ساتھ ہی اردن کے راستے سے کراچی ہوتے ہوئے واپس لوٹے۔
عبد الرزاق اسکندر صاحب کے علمی ذوق اور وقت کے انضباط کا یہ حال تھا کہ وہ ہوائی جہاز میں بھی اپنا علمی مشغلہ جاری رکھتے تھے،ان دنوں وہ مولانامناظر احسن گیلانی کی مشہور کتاب ’’تدوین حدیث‘‘ کا عربی زبان میں تر جمہ کر رہے تھے جسے پچیس تیس سال بعد اپنے عراقی محقق دوست ڈاکٹر بشار عواد معروف کے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا،گو کہ اس مقدمہ میں بعض باتیں تحقیق طلب ہیں۔
کتاب کا ایک نسخہ مسجد نبوی میں ایک ملاقات کے دوران مولانا نے بطور ہدیہ عنایت فر مایا، ہدیہ کے لیے عطر کی شیشیاں بھی ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی تھیں ۔ اردن میں ساتھ ہی ہم لوگو نے اصحاب کہف کے آثار کی زیارت کی تھی، حسان تیسیر ظبیان بھی محبت سے ملے ان کے والد کی اصحاب کہف کے بارے میں کتاب معروف ہے، وہ خود مجلہ الشریعہ کے ایڈیٹر تھے اور میرے لیبیاسے محفوظ نکل آنے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔
رابطہ عالم اسلامی کےمقامی آفس کے ذمہ دار منصور الحیاری نے بھی ہم لوگوں کی بھر پور تکریم کی، ارادہ تو عمرہ کرتے ہوئے کراچی جانے کا تھا؛ لیکن جدہ ایرپورٹ پر اس کی سہولت نہ مل سکی اور ہم احرام باندھے لوگوں کو دیکھتے رہے اوراندرونی کیفیت یہ تھی کہ :
خیال وصل کو اب ارزو جھولے جھلاتی ہے
قریب آنا دلِ مایوس کا پھر دور ہوجانا
کراچی میں ہم انہی کے مہمان رہے،جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاون کی زیارت اوراپنی محبوب شخصیت محدث اعظم علوم انور شاہ کشمیری کے شارح و ترجمان کی قبر پر حاضری کا موقع ملا۔ مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، وہیں دارالعلوم کراچی میں حاضری اور حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کی خاص عنایتیں حاصل رہیں اوران کی معیت میں حضرت ڈاکٹر عبد الحی عارفی صاحب کی مبارک مجلسوں میں شرکت کی بھی توفیق ہوئی، جس کی تاثیر کی لذت آج بھی اسی طرح محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرسے اس کے بعد ایک کانفرنس میں ملاقات ہوئی جب وہ ویل چیئر پر تھے اور ان کے صاحبزادے سعید ان کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ ایک اور ملاقات ریاض میں ہوئی جب کہ ہم دونوں امیر ترکی الفیصل کی دعوت پر ایک بڑے ہی اہم ترین پرگرام میں شریک تھے ۔ عنوان تھا "قیم الصراع في عصر العولمۃ "۔ اس سمینار میں امریکن اسکالرز بھی شریک تھے،
شاہزادہ ترکی الفیصل خود شریک تھے اور اس کا انتظام مرکز الملک فیصل للدراسات الاسلامیہ، جو ان کی ہی نگرانی میں کام کرتا ہے ،اس کی طرف سے کیا گیا تھا۔ میں نے اسلام کے اصول جنگ پر تفصیلی مقالہ لکھا تھا اور ان اصولوں کی برتری تمام دوسرے قوانین پر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، جو بحمد اللہ بے حد کامیاب رہی، جنگ عظیم اول و ثانی کے نقصانات اور بے مقصد جنگوں کی تباہ کاری پر روشنی ڈالی تھی۔ ہیئت کبار العلماء کے رکن ڈاکٹر قیس آل مبارک نے اس کا بھر پور تجزیہ کیا تھا اور مفتی لبنان اورخود امیر ترکی الفیصل نے اس کی تعریف کی تھی۔
ان دنوں میرا پریشر بھی کنٹرول میں نہیں تھا اور مولانا عبد الرزاق اسکندر صاحب تو ویل چیئر پر تھے ہی انھوں نے مجھے ایک سندھی عالم کی دعا سکھلائی تھی جو دل کے مریضوں کے لیے مفید ہے کہ ہر نماز کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر "یاقوی القادر المقتدر قونی وقلبی” سات بار پڑھی جائے۔ پھر ہم سب مدینہ طیبہ گئے، مدینہ کے گورنر امیر فیصل بن سلمان نےخاص اہتمام کیا، روضہ اقدس میں بھی جگہ مخصوص کر کے اطمینان سے عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی کے ابنائے قدیم میں ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کی تکریم کی، ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ایک طرف علامہ بنوری کے شاگرد و فیض یافتہ تھے، ساتھ ہی انہوں نے مدینہ یونیور سیٹی میں بھی تعلیم حاصل کی تھی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری جامع ازہر مصر سے لی اور ڈاکٹریٹ کا مقالہ "فقہ عبد اللہ بن مسعود "کے موضو ع لکھا تھا، جو اب غالبا کتابی شکل میں شائع ہوگیا ہے۔
علامہ محمد یوسف بنوری صاحب نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے افکار و نظریات پر جو تنقیدیں کی ہیں ان کو عربی زبان میں مولا عبد الرزاق اسکندر نے ہی منتقل کیا تھا جو "الاستاذ المودودي وشئ من افکارہ "کے نام سے شائع شدہ ہیں۔
اس وقت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کاشمار پاکستان کے چوٹی کے علما میں ہوتاتھا ،وہ جامعة العلوم الاسلامية كے مہتمم اور شیخ الحدیث، وفاق المدارس الاسلامیہ کے صدر، مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ اور متعدد علمی ودینی اداروں کے نگراں اور سرپرست تھے۔
شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خا ں کے انتقال کے بعد ان کا انتخاب وفاق کی سر براہی کے لیے کیا گیا تھا، آج وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور ایک بڑا خلا چھوڑگئے۔ ان کی پیدائش 1935 کی تھی اور آج 30 جون 2021 کو انتقال ہوا ہے۔ اللہ تعالی انہیں فردوس بریں میں جگہ دے اور اعمال کو قبولیت سے نوازےاوردرجات بلند فرمائے۔ آمین