دلوں میں امید اور محبت کی جوت جلانا عظیم کار خیر ہے:کویتا سیٹھ

روٹری کلب دہرہ دون اور آئیڈیا کمیونی کیشنز کے زیر اہتمام آن لائن مشاعرہ میں ملک بھر کی ممتاز شاعرات کی شرکت
نئی دہلی:دلوں میں امید کی جوت اور محبت کی شمع جلائے رکھنا ایک عظیم کار خیر ہے۔ کورونا کی قہر سامانیوں کے بیچ گھروں میں بند لوگوں کی مایوسیوں کو دور کرنا، انہیں ہر آفت کا تندہی اورحوصلہ سے مقابلہ کے لیے تیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔شعرو ادب، آرٹ اور میوزک اس کار خیر کا بہتر وسیلہ بن سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف پلے بیک سنگر اور صوفی مغنیہ کویتا سیٹھ نے روٹری کلب دہرہ دون اور آئیڈیا کمیونی کیشنز کے زیر اہتمام شاعرات کو معنون مشاعرہ ئ جشن چراغاں میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشاعرہ کی صدارت آئیڈیا ک کے وائس چیئر مین ڈاکٹر سید فاروق نے کی جب کہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے معروف تاجر،ماہر تعلیم اور انجمن محبان اردو ہند قطر کے سرپرست اعلیٰ حسن چوگلے نے شرکت کی۔ تعارفی کلمات آئیڈیا ک کے ڈائرکٹر آصف اعظمی نے پیش کیے جب کہ استقبال کا فریضہ روٹری کلن روٹیرین نغمہ فاروق نے اور اظہار تشکر کا فریضہ آئیڈیا ک کے چیرمین گجا نند پرساد شرما نے انجام دیا۔ ڈاکٹر وسیم راشد نے مشاعرہ کی نظامت کی۔ جن شاعرات اور کوتریوں میں اس موقع سے اپنے کلام پیش کیے ان میں نینا سحر، ممتاز نسیم، دیپتی مشرا، الکا سنہا، مردولا شکلا، نازیہ سحری، ترنم نشاط، ارونا مکیم، میناکسی راج، سعدیہ علیم، کسم خوشبو اور یاچنا پھنسل شامل تھیں۔
صدارتی کلمات میں ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ مشاعرے علم وادب کی خدمت کے ساتھ سماج کے آخری فرد سے گفتگو کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ چھوٹے بڑے امیر غریب سب کو مل کر سماج کو بہتر بنانے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ مہمان اعزازی حسن چوگلے نے کہا کہ یہ شاعری کی خوبی ہے کہ کم سے کم الفاظ میں بڑی سے بڑی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ اسی لیے ہماری گفتگو شاعری کی طرح مختصر اور پر مغز اور عمل نثر کی طرح طویل اور معنی خیز ہونا چاہیے۔ آصف اعظمی نے کہا کہ کورونا اگر دوری اور ترک تعلق کا بہانہ ہے تو آن لائن مشاعرے تجدید محبت اور رشتوں کی مضبوطی کی علامت۔ نغمہ فاروق نے روٹری کلب کی کاوشوں بالخصوص سماج کی کمزور طبقات کی امداد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں سبھی ذات اور مذہب کے افراد کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہیں۔اس موقع سے کویتا سیٹھ نے بھی اپنے معروف نغمے ’تم ہی ہو بندھو سکھا تم ہی ہو‘ اور ’وہی خدا ہے‘ وغیرہ گا کر سامعین کو خوب محظوظ کیا۔