دلیپ کمار کے ایصال ثواب کے لیے لکھی جانے والی چند سطریں ـ وقار احمد ندوی

فلمی دنیا میں محمود مزاحیہ کردار تھے، قادر خاں ہر فن مولا رہے، رفیع صاحب کی آواز کا جادو دوسری آوازوں کے حق میں عصائے موسی ثابت ہوا اور دلیپ کمار نے ایک عہد کے خالق کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوایا، اسی طرح موسیقی کی دنیا میں نوشاد بھی تا دیر یاد کیے جاتے رہیں گےـ نوشاد صاحب کی بابت مجھے کچھ نہیں معلوم لیکن اول الذکر چار لوگوں کی بابت جتنا ہم نے پڑھا اور خود ان کو سن کر انہیں سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ شخصی زندگی میں وہ لوگ شرمیلے اور نیک طبیعت کے حامل تھےـ وہ قرآن کی تلاوت بھی کرتے تھے، نمازیں بھی ادا کیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے کارہائے خیر ان کے ہاتھوں انجام پائے ہیں ـ زندگی کی آخری دہائیوں میں ان میں سے تین نے دینی تعلیمات کی نشر واشاعت میں بھی حسب توفیق حصہ لیا اور بڑی بات یہ ہے کہ احساس گناہ کے ساتھ جیتے رہے اور دوسروں کو حقیر، کم دیندار یا بے دین قرار نہیں دیاـ خدا ان سب کی اور ہماری بھی مغفرت فرمائےـ

دوسری طرف حال یہ ہے کہ دو حرف پڑھ لیتے ہیں، قلم گھسیٹ لکھاری بن جاتے ہیں یا چار پیسے کمانے لگتے ہیں اور چند لوگوں کی وقتی واہ واہی مل جاتی ہے تو ہم اور ہمارا خاندان بیگن کو ٹیگن بولنے لگتا ہےـ ہمارے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے اور ہم آسمانی دنیا کے باسی ہو جاتے ہیں، ان سب پر مستزاد عمر کے اخیر دور میں اگر داڑھی ٹوپی کے ساتھ پانچ وقت مسجد جانے لگتے ہیں تو ہم میں بہتوں کے رگ ریشے میں تقوی طہارت کا بارود کوٹ کوٹ کر بھر جاتا ہے، جو کسی بھی وقت کسی بھی "بے دین” کے خلاف پھٹ پڑتا ہےـ یہ ہے ہماری اور ہمارے سماج کی اوقات اور ان سب کے باوجود یہ باور کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہم خاندانی اور دیندار لوگ ہیں اور ہمارے سوا دوسرے لوگ کم تر حیثیت کے حامل بے دین یا کم دیندار ہیں ـ

سوال یہ ہے کہ قصائی جانور کو ذبح کر کے گناہ گار ہوتا ہے تو ان جانوروں کا گوشت کھانے والے لوگ پارسا کیوں کر رہ جاتے ہیں؟ اگر یہ سچ ہے کہ فلمی دنیا میں کام کرنے والے اور گانے بجانے والے لوگ معاشرہ میں لہو ولعب اور بعض وقت فحاشی کو فروغ دینے کے گناہ گار ہیں، لیکن وہ کون لوگ ہیں جو سنیما گھروں کو آباد رکھتے ہیں ـ یقینا ہم ہی ہیں اور ہمارے بچے ہی ہیں،جس نے پروسا وہ مجرم ہے تو کھانے والا معصوم کیوں؟ یہ کہا جانا کہ اگر پروسا نہ جاتا تو کھانے والے بھی نہ ہوتے ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ اگر کھانے والے نہ ہوتے تو پروسا ہی نہ جاتاـ اگر فلمی دنیا کے کام گناہ ہیں تو سب کے لیے ہیں اور سبھی گناہ گار ہیں، خواہ وہ فلمیں بنانے والے ہوں یا دیکھنے والےـ ان سب کے ساتھ یہ بھی نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ فلمی صنعت نے سماج کو صدیوں قدیم ظالمانہ دقیانوسی رسم ورواج سے نکالنے میں لازوال کردار ادا کیا ہے، لہذا اسے شرِ محض قرار نہیں دیا جا سکتاـ جس طرح دیگر شعری وادبی تخلیقات اور معاشی صنعتوں میں ایمانداری اور بے ایمانی کے تناسب سے خیر اور شر پایا جاتا ہے اسی طرح فلموں میں بھی اسے دریافت کیا جا سکتا ہےـ

اپنے آپ کو اور اپنے قاری کو یہ یاد دہانی کراتا چلوں کہ مذکورہ بالا فلمی شخصیات اور حالیہ دور کے ادا کار خان برادرس میں جو فرق نظر آ رہا ہے اس کے پیچھے تربیت اور تہذیبی وراثت ہےـ پہلوں کی فلمیں دیکھ کر ہمارے بزرگوں پر جو اثر پڑا وہ بھی ہمارے سامنے ہے اور موجودہ دور کے خانوں کی فلمیں ہم پر اور ہمارے بچوں پر جو اثر ڈال رہی ہیں وہ بھی ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہےـ یہ اور بات ہے کہ عامر اور شاہ رخ کی بعض فلمیں تربیتی نقطۂ نظر سے بہت اچھی بھی ہیں ـ آنے والے وقت میں کون کیا لے کر آتا ہے اور ہماری نسلیں اس سے کیا سیکھتی ہیں یہ اس بات پر بڑی حد تک منحصر ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کن خطوط پر کرتے ہیں ـ

بچوں کو یہ بتانے کا وقت گزر گیا کہ وہ کہاں اور کس سے شادی کریں یا نہ کریں، اب انہیں اس بات پر قائل کرنے کا زمانہ آ گیا ہے کہ وہ شادی ضرور کریں خواہ کہیں بھی کریں اور کسی سے بھی کریں ـ موجودہ دور کی سب سے بڑی آفت باہمی رضا مندی سے غیر شادی شدہ جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے کے عمل کا فروغ ہے، جسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہےـ بیگن کو ٹیگن کہنے کی ہی یہ بھی ایک شکل ہےـ ثقافتی پس ماندگی نے سماج کو فکری درماندگی کی اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ خاندانی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں ـ ہمیں ان سے بچنے کی بہر صورت کوشش کرنی ہےـ ممکن ہے بعض فلمیں اس میں ہمارے لیے معاون ثابت ہوں اور بعض انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ـ