دلیپ کمار کی زندگی کا سبق ـ ڈاکٹر ابویحی

دورِجدید کا تمدن تصویر پر کھڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ سیلیبرٹیز کا دور بن گیا ہے۔ لوگ پہلے بھی نامور ہوا کرتے تھے، مگر اب کچھ لوگوں کی تصویر دل و دماغ پر نقش ہوجاتی ہے۔ دلیپ کمارصاحب جن کا اصل نام یوسف خان تھا، ان کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جن کی تصویر لوگوں کے دل و دماغ پر اس طرح نقش ہے کہ ان کا انتقال، ان کا دور ختم ہونے کے پچاس سال بعد ہوا، لیکن لوگوں کو ایسا لگا جیسے کوئی اپنا رخصت ہوگیا ہو۔

دلیپ کمار صاحب نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے بہترین اداکاروں میں سے ایک تھے۔ وہ اُن گنے چنے اداکاروں میں سے ایک تھے جنھوں نے اداکاری کے شعبے میں مقام کے ساتھ عزت بھی کمائی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو دلیپ کمار صاحب کا دور ختم ہوچکا تھا، مگر مجھے ان سے ایک خصوصی تعلق تھا کہ میرے والد مرحوم جن کا سن پیدائش وہی ہے جو دلیپ کمار کا تھا یعنی 1922، اپنی جوانی میں دلیپ کمار جیسے نظر آتے تھے۔ اس خصوصی تعلق کی بنا پر دلیپ کمار صاحب کی وفات پر جو ایک دو چیزیں ذہن میں آئیں وہ قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔

دلیپ صاحب کی وفات کی خبر پڑھ کر ولیم شیکسپیئر(1564–1616) کے ڈرامے As You Like It کی کچھ سطریں ذہن میں آئیں۔ وہ کہتا ہے:
All the world’s a stage,
And all the men and women merely players;
They have their exits and their entrances,
دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد و زن اداکار۔ سب اپنے اپنے وقت پر آتے اور چلے جاتے ہیں۔

یہ سطور شاید انسانی زندگی کا جامع ترین بیان ہیں۔ میں جب کبھی دنیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اسکیم پر غور کرتا ہوں تو یہی خیال ہوتا ہے کہ ایک ڈرامے کا اسکرپٹ ہے جو مصنف نے پہلے سے لکھ دیا تھا۔ اس اسکرپٹ میں ہر طرح کے کردار تھے۔ طاقتور، کمزور، امیر، غریب، بادشاہ، فقیر، حسین، بدصورت، ذہین، کند ذہن، عالم، عامی، جرنل، سپاہی، جج، وکیل، صحافی، سیاستدان، حکمران، وزیر، لکھاری، اداکار، کھلاڑی غرض ہر وہ کردار جو ہمیں دنیا میں نظر آتا ہے، پہلے سے طے ہے۔

اس کے بعد انسان نامی مخلوق کے سامنے یہ اسکرپٹ رکھا گیا اور ہر شخص کو موقع دیا گیا کہ وہ جس کردار کو چاہے چن لے۔ اسے اپنا کردار نبھاتے ہوئے اپنے خالق کا شکر گزار اور مخلوق کا خیر خواہ بنے رہنا تھا۔ ظلم، حق تلفی، بدکاری سے دور رہنا اور عدل، احسان اور انفاق کو زندگی بنانا تھا۔ لوگوں نے اپنا اپنا کردار چن لیا اور پھر اپنے اپنے وقت پراداکاروں کو دنیا کے اسٹیج پر بھیج دیا جاتا ہے۔ یہاں آکر ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے کردار کو نبھاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ جو رول ان کو دیا گیا ہے وہ ان کا کوئی کارنامہ نہیں۔ کوئی صدر ہے یا وزیراعظم، جج ہے یا جرنل، لکھاری ہے یا صحافی، امیر ہے یا عالم؛ یہ مقام سب کو خدا کی اسکیم کے تحت ملا ہے۔

اصل چیز جو پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اپنا کردار نبھاتے ہوئے انسان خدا کو یاد رکھتا ہے یا بھول جاتا ہے۔ اخلاقی تقاضے نبھاتا ہے یا ان کو پامال کرتا ہے۔ یہی انسان کی اصل پرفارمنس ہے۔ اس کی ابدی زندگی کا فیصلہ اس پر نہیں ہوگا کہ وہ امیر تھا یا غریب، عالم تھا یا عامی۔ فیصلہ اس پر ہوگا کہ اپنا کردار نبھاتے ہوئے انسان نے کیا اخلاقی پرفارمنس دی ہے۔ میرا نیا ناول ”ادھوری کہانی“ اسی بات کو بہت تفصیل سے بیان کرتا ہے۔

یہ بات اس لیے بہت زیادہ اہم ہے کہ ہم لوگ اکثر دنیا میں اپنے کرداروں میں کھوئے رہتے ہیں اور اس اخلاقی پرفارمنس کو بھول جاتے ہیں جس پر ہمارے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اس دنیا میں کچھ لوگ دلیپ کمار بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ عام سے ”یوسف خان“ کی زندگی گزار کر مرجاتے ہیں۔ فیصلہ اس پر نہیں ہوگا کہ کون لیجنڈ (Legend) دلیپ کمار تھا اور کون عام سا ”یوسف خان“۔ فیصلہ اس پر ہوگا کہ کون بہتر بندہ تھا اور کون بہتر انسان تھا۔

دلیپ صاحب کی وفات پر ایک دوسری چیز جو ذہن میں آئی وہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت تھی۔ سن اسی کی دہائی میں جب دلیپ کمار صاحب پاکستان تشریف لائے تو منیر حسین صاحب نے ان کا ایک انٹرویو لیا جو پی ٹی وی پر نشر ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا تھا کہ انھوں نے ایکٹنگ میں اتنی مہارت کیسے حاصل کی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اداکار بننے سے قبل ایک ہی فلم کو بار بار دیکھتے تھے۔ شروع میں توجہ کہانی پر رہتی، مگر بعد میں ساری توجہ اس پر ہوجاتی کہ کسی ادکار نے کوئی جملہ کس طرح ادا کیا، چہرے کے ایکسپریشن کیا تھے، حرکات و سکنات کیا تھیں، آواز کا زیرو بم کیا تھا، کسی جذبے کا اظہار کس طرح کیا گیا تھا۔

یہ بات میں اس پس منظر میں بیان کر رہا ہوں کہ ہماری قوم میں پروفیشنل ازم کا کال پڑ چکا ہے۔ ہر شخص اداکار، لکھاری، کھلاڑی بننا چاہتا ہے، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا۔ کتنے ہی لوگ میرے پاس آتے ہیں جو مصنف یا عالم بننا چاہتے ہیں، مگر اس راہ کی الف، ب کو جانے بغیر بے دریغ لکھتے اور بولتے ہیں۔ لوگ اپنی تحریریں اشاعت کے لیے بھیجتے ہیں جن میں ہر طرح کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ لوگ بغیر علم کے پورے اعتماد سے عالم کی طرح بات کرتے ہیں۔ اسی طرح لوگ اپنی آواز میں آڈیو ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، مگر تلفظ، ادائیگی، زیر وبم، ایکسپریشن جیسی چیزوں کی ابتدا سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔

دلیپ کمار صاحب کی زندگی میں ان سب لوگوں کے لیے سبق ہے کہ کسی فن میں بلندی پر جانے کے لیے ذوق کے علاوہ محنت بہت ضروری ہے۔ ورنہ سوشل میڈیا اور فیس بک کے اس دور میں ہر غیر معیاری بات پر چند لائیکس تو مل سکتے ہیں، دنیا آپ کا اعتراف نہیں کرے گی۔