دلیپ کمار کی رحلت ـ زین شمسی

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
لاڈے، تم آج تک کے کے سب سے عظیم فنکار ہو۔ گنگا جمنا کے گنوار دیہاتی دلیپ کمار کو راج کپور نے فون کر کے جب یہ اطلاع دی تو دلیپ کے چہرے پر یوسفی مسکان کے نقوش ابھرے، دلیپ، راج اور دیوآنند کے مثلث کو آج بھی اس دور کے فلم بیں نہیں بھول سکے ہیں۔ دلیپ کمار ان دونوں سے آگے اس لئے نکل گئے کہ انہوں نے نہ کبھی کسی کی نقل کی اور نہ ہی ٹائپڈ کیریکٹر کو اپنایا۔ دیویکا رانی کو یوسف خاں کی خوبصورتی سے زیادہ ان کی اردو دانی پر پیار آیا تھا،اور یہی پیار آج تاریخ کا حصہ ہے۔ امیتابھ بچن کو آج بھی یقین نہیں آتا کہ پشاور کا پٹھان گنوار دیہاتی گنگا کا کردار اتنے سہل انداز میں کیسے کر گیا۔
محض 63فلموں میں اس شخص کی اداکاری نے انہیں بذات خود ایک انڈسٹری بنا کر رکھ دیا۔ اپنی پوری فلمی زندگی میں انہوں نے شہزادہ سلیم کی شکل میں صرف ایک بار مسلم کردار نبھایا اور وہ کردار پرتھوی راج کپور جیسے عظیم اداکار کے سامنے اتنے پرزور اور مضبوط انداز میں کھڑا نظر آیا کہ آج بھی مغل اعظم کو لوگ تاریخ کا حصہ سمجھتے ہیں اور محبت کرنے والے شہزادہ سلیم کو اپنا آدرش گردانتے ہیں کہ جس نے کہا تھا کہ میرا دل بھی آپ کا ہندوستان نہیں، جس پر آپ حکومت کر سکیں۔ اس نے کہا تھا کہ اگر عمر خیام کی رباعی کو کسی سنہرے کاغذ کی جگہ کسی سنگلاخ پتھر پر لکھ دیا جائے تو کیا اس کے معنی بدل جائیں گے؟
اور واقعی دلیپ صاحب نے اداکاری کے معنی کو بدلنے نہیں دیا، خواہ دیوداس کا وہ ڈائلاگ کہ کون کمبخت برداشت کرنے کے لیے پیتا ہے، ہم تو پیتے ہیں کہ تمہیں دیکھ سکیں، یہاں بیٹھ سکیں یا پھر یہ مکالمہ: ایک دن آئے گا جب وہ کہیں گے کہ دنیا ہی چھوڑ دو۔
اور آج وہ دن آگیا۔لیکن آج پوری دنیا دلیپ کمار کے دنیا چھوڑ دینے سے رنجیدہ ہے۔ وہ 98 سال کی پھر پور زندگی جی کر ہم سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے کا افسوس اس لیے بھی گہرا ہے کہ میرے 86 سال کے ابو اور ضعیفہ ماں کو ان کی موت کی خبر سے صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے جب مجھ سے کہا دلیپ کمار مر گئے ، دیکھو کہیں یہ اور خبروں کی طرح جھوٹ تو نہیں۔
دلیپ کمار پر مضمون باندھنا اتنا آسان نہیں کہ جس پایہ کے وہ اداکار تھے، اس پایہ کا میں مصنف نہیں، پھر بھی ان سے ہمارے قلبی رابطے ہیں، ان کی اداکاری کو ہم نے اصلی زندگی میں سنبھال کر رکھا ہے، اس لئے تال ٹھوک کر آج بھی کہتا ہوں کہ
پریم کی نگری میں ہمرا بھی حق ہوئے وے کری ـ
اگر آج واقعی ہندوستان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ پرہم نگری ہے تو بھارت کو نہ صرف دلیپ کمار کو بھارت رتن کےلیے  منتخب کرنا ہے بلکہ ان کی موت پر کم از کم 11 دن کا سوگ اور سرکاری تعطیل کا اعلان کرنا چاہیے۔