دلیپ کمار :ایک واقعہ ، ایک سبق- مولانا محمود احمد خاں دریابادی

دلیپ کمار کا انتقال ہوگیا، ویسے بھی سو سال کے قریب عمر تھی، عرصہ سے نحیف تھے، اسپتال جاتے آتے رہتے تھے، مرنا تو سبھی کو ہے، جوان کیا نوزائیدہ بچے مرجاتے ہیں، ایسے میں ایک پیرِصدسالہ کی موت پر کیسا تعجب! ہاں اُن کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر جنت اور جھنم کے جو سرٹیفکٹ بانٹے جارہے ہیں کچھ لوگ رحمۃ اللہ علیہ اور کچھ لوگ ملعون اور فی النار والسقر کے وعدے اور وعیدیں سنارہے ہیں یہ سلسلہ باعثِ تعجب ضرور ہے۔ آج کل لاک ڈاون ہے لوگوں کے پاس فرصت بہت ہے، اسی لئے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ :  خانہ خالی را دیواں می گیرند

یوں تو دلیپ کمار کو دور سے دیکھنے کا بارہا اتفاق ہوتا رہا، جلسوں میں، مشاعروں میں، تعلیمی اور رفاہی میٹنگوں میں ایک دو بار آمنا سامنا ہوا، سلام کلام کی نوبت بھی آئی، مگر جس کو ملاقات کہا جاتا ہے وہ صرف ایک بار ہوئی ہے ـ  بات ان دنوں کی ہے جن دنوں محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی بغرض علاج ممبی میں مقیم تھے ـ  ایک صبح ہمارے ایک دوست عابد پٹیل ( ان کا آبائی کاروبار تو فملوں میں کپڑے اور پرانےفرنیچر وغیرہ کرائےپر سپلائی کرنا تھا مگر اب اُسے ختم کرکے امپورٹ ایکسپورٹ شروع کیا ہے، مگر انڈسٹری سے تعلقات اب بھی ہیں) کا فون آیا، پوچھنے لگے کہ مولانا ابرار الحق صاحب مولانا تھانوی کے خلیفہ ہیں نا ؟ مجھے بہت تعجب ہوا، میں جس عابد پٹیل کو جانتا تھا وہ اتنی باریکیاں تو کبھی نہیں جانتا تھا کہ بیعت، خلیفہ اور خلافت کو سمجھ سکے، میں نے زیادہ دماغ نہ لگاتے ہوئے جواب دیا، ” جی ہاں‘‘، کہنے لگے دلیپ کمار صاحب ملاقات کرنا چاہتے ہیں، کیسے ملاقات ہوگی ؟ فورا جواب نہیں دینے کے بجائے میں نے ان سے کہا ایک گھنٹے میں بتاتا ہوں، دوسری طرف سے کہا گیا کہ دلیپ صاحب کا بہت اصرار ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ چاہیں تو ملاقات کراسکتے ہیں، میں کیا کہتا، میری ہمت نہیں پڑرہی تھی، سوچ رہا تھا کیسے حضرت کے سامنے دلیپ کمار کا نام لوں گا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں ـ شاید دوسری طرف موجود شخصیت نے میرے پس وپیش کا اندازہ کرلیا اور کہنے لگے کہ لیجئے آپ خود دلیپ صاحب سے بات کیجیے ـ  اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا دوسری طرف سے ہلکی سی آواز آئی ” السلام علیکم میں یوسف بول رہا ہوں ” میں نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا کہ میں پوری کوشش کروں گا، تھوڑا سا وقت مجھے دیں، یوسف صاحب کہنے لگے کہ بڑی امیدوں سے آپ کو فون کیا ہے ـ میں نے ایک بار پھر امید دلائی اور فون منقطع ہوگیا ـ

امید تو میں نے دلادی تھی لیکن خود میرے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے کہ اس مسئلے پر حضرت کے جاہ جلال کا سامنا کیسے ہوپائے گا؟  میں نے اپنے دوست  شہاب الدین شیخ جو حضرت کے مخلص اور بے پناہ عقیدت مندوں میں سے تھے ( اب اس دنیا میں نہیں ہیں دعافرمائیں) سے بتایا اور ان سے فرمائش کی کہ حضرت تک اس درخواست کو پہنچائیں، وہ بھی ہمت نہ کرسکے، میں نے کہا دونوں ساتھ چلتے ہیں،اس پر بھی تیار نہ ہوئے، آخر جھنجلا کر میں نے پوچھا بتاو پھر میں کیا کروں ؟ کچھ سوچنے کے بعد اُنھوں نے حضرت کے ایک قریبی بزرگ جو حضرت کے مزاج شناس بھی تھے کا نام لیا کہ وہ مدد کرسکتے ہیں، انھیں فون کیا اور صورت حال بتائی وہ بھی حضرت سے اس موضوع پر بات کرنے کی ہمت نہ کرپائے، مگر اُنھوں نے ایک ترکیب بتائی ـ انھوں نے کہا کہ الگ سے وقت لینے کے بجائے مغرب کے بعد جو مجلس ہوتی ہے اس میں ان کو بلوا لیجئے، اسی میں ملاقات کرادیتے ہیں، میں نے کہا کہ عمومی ملاقات کے بجائے شاید وہ الگ سے ملنا چاہتے ہیں، وہ بزرگ حضرت کے مزاج شناش تھے انھوں نے کہا ان شااللہ وہ بھی ہوجائے گا آپ بلوا لیجیے ـ

میں نے عابد کو فون کرکے مغرب کے فورا بعد انھیں پہنچنے کے لئے کہہ دیا ـ مغرب کے بعد حضرت کا معمول تھا کہ مجلس میں کوئی اصلاحی کتاب پڑھی جاتی تھی، کبھی نعت خوانی ہوتی تھی، درمیان میں حضرت اپنے ارشادات سے بھی نوازتے تھے ـ

 

اس دن مغرب کے بعد حضرت کی مجلس جاری تھی، حضرت کا قیام ممبئی سینٹرل کے قریب سہاگ پیلس کے نویں منزلے پر مرحوم محمد بھائی پٹنی کے فلیٹ میں ہوتا تھا وہ پورا منزلہ انھوں نے تمام سہولیات کے ساتھ بزرگوں کے قیام کے لئے مخصوص کررکھا تھا، اب بھی کئی بزرگ ممبئی آکر وہیں قیام فرماتے ہیں ـ حالانکہ مجھے دلیپ کمار کے استقبال اور رہنمائی کے لئے نیچے بلڈنگ کے احاطے میں ہونا چاہیئے تھا، مگر اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں ان کو یہاں بلوانے کی ذمے داری تنہا میرے کندھے پر آجائے اور میں عتاب کا شکار نہ ہوجاوں ،میں مجلس ہی میں بیٹھا رہا، دراصل مجھے اطمینان تھا کہ نیچے بلڈنگ کی سیکورٹی اہل کار رہنمائی کردیں گے ـ

اس دن مجلس میں نعت کا دور چل رہاتھا، وسیع بیڈ روم میں ایک طرف حضرت کا بستر تھا، جس پر حضرت کئی تکیوں سے ٹیک لگائے تشریف رکھتے تھے، سامنے فرش پر قالین بچھا تھا اس پرتمام حاضرین بھی نعت پاک سے محظوظ ہورہے تھے، اچانک باہر سے ایک صاحب آئے اور حضرت کے قریب آکر اطلاع دی کے دلیپ کمار آئے ہوئے ہیں ، حضرت نے فرمایا باہر بیٹھائیے ـ دوسرے کمرے میں خدام نے انھیں بیٹھادیا یہاں حضرت کے کمرے میں نعت خوانی جاری رہی ـ تقریبا دس منٹ بعد حضرت ایک خادم سے فرمایا کہ ایک کرسی لاؤ، باہر پلاسٹک کی کئی کرسیاں رکھی تھیں ان میں سے ایک لائی گئی اور حضرت کے بستر کے قریب رکھی گئی، پھر حضرت نے حکم دیا انھیں بلائیے،  دلیپ کمار کمرے میں داخل ہوئے،  ان چند لمحات کے دوران  بھی نعت خواں خاموش نہیں ہوئے، دلیپ کمار جب داخل ہوئے تب بھی نعت پڑھی جارہی تھی، دلیپ کمار نے آہستہ سے سلام کیا حضرت نے جواب دیتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کیا، بہت ادب کے ساتھ وہ کرسی پر بیٹھ گئے، نعت ہوتی رہی، سب لوگ ادب سے سنتے رہے درمیان میں اہستہ سے سبجان اللہ، ماشااللہ کی ہلکی ہلکی آوازیں بھی مجلس سے اٹھتی رہیں، جو نعت خواں پڑھ رہے تھے وہ فارغ ہوئے تو دوسرے کی طرف حضرت نے اشارہ کیا انھوں نے پڑھنا شروع کیا، میں نے دیکھا کہ دلیپ کمار مکمل ادب سے ساتھ بیٹھے ہیں اور وہ بھی ہر شعر پر سبحان اللہ، ماشااللہ کہہ رہے ہیں ـ  نعت مکمل ہوئی تو حضرت نے فرمایا عشاء کا وقت ہورہا ہے جو لوگ بیمار یا معذور نہیں ہیں وہ سب لوگ مسجد میں جاکر نماز پڑھیں، ہر مجلس کے بعد حضرت اس طرح کا اعلان فرماتے تھے ـ مجلس ختم ہوئی سب لوگ باہر آگئے میں نے اشارہ کیا دلیپ صاحب بھی باہر آگئے، مجلس کے بعد اکثر حضرت ایک دو لوگوں کو ملاقات کا وقت دیتے تھے اور سب کو ہدایت تھی کہ خصوصی ملاقات کے وقت میں کوئی دوسرا شامل نہ ہو، صرف خادم کچھ دور پر رہتا تھا تاکہ کسی فوری ضرورت کی تعمیل کرسکے ـ باہر آنے کے بعد عابد کہنے لگے کہ ابھی تو صرف زیارت ہوئی ہے ملاقات کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا تشریف رکھیں، ابھی انتظام کرتے ہیں ـ

میں نے ان بزرگ کو گھیرا جنھوں اس مجلس میں بلوانے کا مشورہ دیا تھا کہ حضرت اب کیا ؟ وہ بیچارے فورا اندر گئے اور حضرت سے درخواست کی کہ دلیپ کمار ملاقات کرنا چاہتے ہیں، حضرت نے فرمایا کہ پہلے سے جن کو وقت دیا جاچکا ہے ان کے بعد ملاقات ہوگی ـ انھوں نے باہر آکر مجھے بتایا میں نے دلیپ کمار کو اطمینان دلایا کہ آپ اطمینان سے تشریف رکھیں، تھوڑی دیر میں ملاقات ہوجائے گی ـ  دلیپ کمار جتنا بڑا نام تھا، جو ان کی شہرت تھی کہ بڑے بڑے لوگ خود ان کے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے، کتنے لوگ ایک جھلک پانے کے دھکے کھاتے ہیں، یہاں پر وہی دلیپ کمار ایک اللہ والے سے ملنے کی اجازت کا انتظار کررہا تھا ـ اس موقع پر ایک لطیفہ اور ذکر کرنے کا جی چاہتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی عزیرالرحمان صاحب فتحپوری بھی موجود تھے، وہ مجھے کنارے لے گئے پوچھنے لگے یہ کون صاحب ہیں انتولے ہیں کیا؟  دراصل مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی کا بھی بزرگوں سے تعلق رہا ہے وہ بھی مجلسوں میں اسی طرح شریک ہوتے تھے ـ میں نے بتایا کہ یہ دلیپ کمار ہیں، تھوڑی دیر بعد میں نے مفتی صاحب کا تعارف دلیپ کمار سے کرایا کہ یہ مہاراشٹرا کے مفتی اعظم ہیں تو پتہ چلا کہ دلیپ کمار مفتی صاحب سے واقف ہیں اور ہر جمعہ کو انقلاب میں شایع ہونے والے اُن کے فتاوی پابندی سے پڑھتے ہیں، میزبان کی طرف سے چائے وغیرہ کا نظم ہوا، اسی بیچ حضرت کے کمرے سے اطلاع آگئی کہ بلایا جارہا ہے ـ

دلیپ کمار کے ساتھ  عابد اور میں حضرت کے کمرے میں پہنچے میں نے مختصرا دلیپ کمار کا تعارف یوسف خاں کے نام سے کرایا، یہ بھی بتادیا کہ سنیما میں کام کرتے ہیں ـ حضرت نے دونوں سے مصافحہ کیا اور قریب رکھی کرسی پر ان کو بیٹھنے کے لئے فرمایا، عابد کی طرف دیکھ کر ان کے لئے خادم کو ایک اور کرسی لانے کا حکم دیا، مگر عابد نے انکار کیا اور قالین پر ہی بیٹھ گئے، جب وہ  دونوں بیٹھ گئے تو میں کمرے سے باہر آگیا، باہر دیکھا تو عابد پٹیل بھی میرے پیچھے باہر آگئے تھے ـ

خیر دس منٹ بعد دلیپ صاحب باہر نکلے، اندر کیا بات ہوئی پتہ نہیں، باہر ان کے چہرے پر ایک اطمینان کی کیفیت تھی، واپسی پر میں نیچے تک رخصت کرنے آیا، اس زمانے میں دلیپ کمار ممبر پارلیمنٹ بھی تھے اس لئے ان کے ساتھ پولیس کے دوگاڑیاں بھی تھی ـ رخصت ہوتے وقت باربار میرا شکریہ ادا کررہے تھے، احسان مندی کا اظہار کررہے تھے، چلتے چلتے انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حکیم معین الدین صاحب ( ہروفیسر طبیہ کالج ممبئی اب انتقال فرماچکے ہیں، پڑھے لکھے زبردست طبیب تھے ـ)  میرے معالج ہیں ، انھوں نے مفرح یاقوتی معتدل میرے لئے تجویز کیا تھا کئی جگہ تلاش کروایا کہیں نہیں ملی، حکیم صاحب نے بتایا کہ آپ کے یہاں مل جائے گی تب سے آپ ہی کے یہاں سے منگوا کر استعمال کررہا ہوں ـ

اس پورے واقعے سے جہاں دلیپ کمار کے دل میں ایمان کی روشنی اور ان کی نظر میں اہل اللہ کی قدر ومنزلت کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں ہمارے بزرگوں کی شان بے نیازی بھی ظاہر ہوتی ہے، خاص طور پر جب ہم اپنے گردوپیش  دیکھتے ہیں کہ بیعت وارشاد کی دوکانیں کھلی ہوئی ہیں، زیادہ سے زیادہ سلیبریٹیز،  وی آئی پیز اور اصحاب ثروت کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کرنے کی ہوڑ مچی ہے ـ

دوسری طرف یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ اس وقت حضرت کی مجلس میں اور باہر کے کمروں میں ساٹھ ستر افراد ضرور موجود رہے ہوں گے، ایسے میں اچانک فلم انڈسٹری کا ایک بین الاقوامی شہرت رکھنے والا ہیرو پہنچتا ہے، وہی ہیرو ہے جس کی جھلک کے ہزاروں دیوانے ہیں، مگر وہاں اس کے آنے سے کوئی ہلچل نہیں مچتی، کچھ اتھل پتھل نہیں ہوتا، کوئی آٹوگراف نہیں لیتا، کوئی تصویر نہیں کھینچی جاتی،ایسا بھی نہیں کہ مہمان کا اکرام نہ کیا گیا ہو، ان کی تحقیر کی گئی ہو،مگر تمام لوگوں نے اپنا مومنانہ وقار برقرار رکھا،حاضرین میں سب عالم یا بزرگ بھی نہیں تھے، بیشتر لوگ عام ملازمت پیشہ یا تاجر تھے مگر اللہ والے کی ایک نظر نے سب کو دنیا کی چکاچوند سے بے نیاز کردیا تھا، کسی نے سچ کہا ہے کہ:

اس کی آنکھیں بلا کی تاجر ہیں

جس کو دیکھیں خرید لیتی ہیں