دلیپ کمار کو سبھی دیکھتے ہیں، یوسف خان کو کوئی نہیں-سہیل انجم

محمد یوسف خان عرف دلیپ کمار کے انتقال کے بعد اخبارات و رسائل میں ان پر مضامین کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مضامین میں زیادہ تر ان کی فلمی شخصیت پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی فلمی شخصیت کے علاوہ بھی ایک شخصیت ہے اور اس شخصیت کا قد بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ان کے مذہبی عقائد ہوں یا سیاسی نظریات، سماج کے تئیں ان کی خدمات ہوں یا ان کی ملت و انسانیت نوازی اور اردو زبان سے عشق۔ کوئی بھی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر گھنٹوں گفتگو نہ کی جا سکے۔ اگرچہ بعض مسلم مذہبی گھرانوں میں فلموں میں کام کرنے اور فلمیں دیکھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، خود دلیپ کمار کے والد اسے پسند نہیں کرتے تھے، لیکن عوامی حلقوں میں تو انھیں عقیدت کی حد تک چاہا جاتا ہی تھا مذہبی حلقوں میں بھی انھیں قدر ومنزلت حاصل تھی اور وہ خود مذہبی شخصیات اور بزرگان دین کا بے حد احترام کرتے تھے۔ ان کے مطالعے میں جہاں مختلف موضوعات شامل تھے وہیں اسلامیات کے موضوع کو بھی قابل قدر درجہ حاصل تھا۔ محمود احمد خاں دریابادی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مجلس میں جب انھوں نے مفتی عزیز الرحمن فتحپوری کا تعارف ان سے کرایا تو انھوں نے کہا کہ وہ ان سے واقف ہیں اور ہر جمعہ کو روزنامہ انقلاب میں شائع ہونے والے ان کے فتاوے پابندی سے پڑھتے ہیں۔ شاعر و ادیب و مصنف فاروق ارگلی نے ماہنامہ ’گلفام‘ کے لیے 1982 میں ان کا ایک غیر فلمی انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے اپنے مذہبی عقیدے کے بارے میںگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی اکرم کی رسالت پر پختہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ قرآن حکیم کو برحق کلام الٰہی مانتے ہیں۔ آنحضرت کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر منزل مقصود پر پہنچنے میں یقین رکھتے ہیں۔ تمام انبیا، صحابہ کرام و شہدائے عظام کا احترام کرنا جزو ایمان سمجھتے ہیں۔ انھوں نے مذہب اسلام پر پیدا کیے جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ جب پاکستان نے 1998 میں انھیں اپنا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز نشان پاکستان تفویض کیا اور وہ پاکستان گئے تو پی ٹی وی کی طرف سے معروف فنکار معین اختر وغیرہ نے ان کا ایک پینل انٹرویو کیا تھا جس میں سنیل دت بھی تھے۔ انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو کسی بات کا خوف بھی ہے تو انھوں نے تھوڑے توقف کے بعد کہا کہ اللہ نے انھیں نوازا ہے، یہ اس کا کرم اور فیاضی ہے۔ پھر انھوں نے اداکاری کی طرف اشارہ کیا کہ میک اپ کرکے سب جھوٹ موٹ باتیں کرتے ہیں کہ ماں مر گئی ہے، اس کا نوحہ کیا جائے، جدائی ہو رہی ہے۔ جبکہ نہ ماں مری ہوتی ہے نہ جدائی ہوتی ہے۔ تو مجھے اللہ سے بڑا ڈر لگتا ہے۔
دلیپ کمار ایک ملت نواز شخص بھی تھے اور انسانیت نواز بھی۔ بابری مسجد انہدام سے ان کو بہت دکھ پہنچا تھا۔ انہدام کے بعد 1993 میں ممبئی میں فرقہ وارانہ فساد ہو گیا تو انھوں نے فساد زدگان کے لیے ریلیف کا کام کرکے ان کی بڑی مدد کی تھی۔ انھوں نے بھنڈی بازار اور محمد علی روڈ کے مسلم متاثرین کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے تھے۔ چونکہ ان کی ایک سیاسی شخصیت بھی تھی لہٰذا انھوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے فساد زدگان کے لیے بہت کام کیا تھا۔ اسی موقع پر ایک انٹرویو کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آج بامبے جل رہا ہے آپ کیا محسوس کرتے ہیں تو انھوں نے کہا تھا کہ ’بامبے کہاں جل رہا ہے یہ تو مسلمانوں کے گھر جل رہے ہیں‘۔ انھوں نے انگریزی رسالہ ’سنڈے میگزین‘ کو ایک انٹرویو دیا تھا جو 28 فروری سے چھ مارچ 1993 کے شمارے میں شائع ہوا تھا، اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مذہب کے نام پر مذہب کو ہی گالیاں دی جا رہی ہیں۔ تمام مذاہب رحم دلی اور بھائی چارے کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ممبئی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مذہب دشمنی ہے۔ ایک دوسرے انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ دلیپ کمار فلموں سے الگ ہٹ کر کیا کرتے ہیں یعنی یوسف خان کیا کرتے ہیں تو انھوں نے متاسفانہ انداز میں کہا تھا کہ ’سبھی لوگ دلیپ کمار کو دیکھتے ہیں یوسف خان کو کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ کیا کر رہا ہے‘۔ اور پھر انھوں نے مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر ممبئی میں اور خاص طورپر جھگی جھوپڑی علاقوں میں کیے جانے والے انسانیت نوازی کے اپنے کاموں کی تفصیل پیش کی تھی۔معروف صحافی و شاعر ندیم صدیقی کی روایت ہے کہ 1986 میں یا اس کے بعد ممبئی میں روزنامہ انقلاب کے پچاس سالہ جشن کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام میں دلیپ صاحب نے بھی شرکت کی تھی اور انھوں نے اپنی تقریر میں جھنجلاتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ قومی دھارا قومی دھارا کی دہائی دیتے ہیں، مجھے بتائیے وہ قومی دھارا بہتا کہاں ہے۔ وہ تعلیمی و رفاہی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور بالخصوص اگر کسی جگہ سے کسی مسلم تعلیمی و فلاحی تنظیم نے انھیں کسی پروگرام میں مدعو کیا تو وہ ضرور شریک ہوتے تھے۔
ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے وہ بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان کی بہت سی فلموں میں نہرو کے نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔ دونوں میں دوستی بھی تھی۔ ان کے والد غلام سرور خان اور دادا حاجی محمد خان پیشاور میں کانگریس پارٹی سے متعلق بھی تھے۔ پنڈت نہرو نے 1962 میں دلیپ کمار کو فون کرکے نارتھ بامبے حلقے سے کانگریس کے امیدوار وی کے کرشنا مینن کے لیے پرچار کرنے کو کہا تھا۔ وہ بہت سخت مقابلہ تھا۔ کیونکہ کرشنا مینن کے سامنے معروف سوشلسٹ رہنما آچاریہ جے بی کرپلانی تھے۔ پنڈت نہرو کے علاوہ مہاراشٹر کے سیاست داں رجنی پٹیل، بال ٹھاکرے اور شرد پوار ان کے چند سیاسی دوستوں میں شامل رہے ہیں۔ البتہ بعد کو ان کے تعلقات سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے بھی قائم ہوئے۔ رجنی پٹیل اور شرد پوار نے 1980 میں دلیپ کمار کو ’شیرف آف ممبئی‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت دلیپ کمار ممبئی سے دو سو کلومیٹر دور ایک ہل اسٹیشن مہابلیشور میں تعطیلات گزار رہے تھے کہ اسی دوران رجنی پٹیل نے ان کو فون کرکے اس کی اطلاع دی اور کہا کہ انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی اطلاع ذرائع ابلاغ کو دے دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ شیرف آف ممبئی کا منصب پہلے سے قائم تھا لیکن عوامی حلقے اس سے ناواقف تھے۔ دلیپ کمار کے شیرف بننے کے بعد ہی لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ بھی کوئی اعزازی منصب ہے۔ کانگریس پارٹی نے انھیں 2000 سے 2006 کی مدت کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے نامزد کیا تھا۔ منتخب سیاست دانوں سے ان کے تعلقات تھے اور وہ امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن وہ موجودہ طرز سیاست کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے سیاست میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ’ان کے نظریات موجودہ سیاسی تہذیب کے خانے میں فٹ نہیں ہوتے‘۔ بقول ان کے ’اگر وہ سیاست میں آگئے تو پھر وہی ہوگا کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی‘۔ اس کے باوجودانھوں نے راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے، شیرف آف ممبئی کی حیثیت سے اور ایک سوشل شخصیت ہونے کی حیثیت سے عوامی فلاح و بہبود کی بہت سی تحریکوں میں حصہ لیا اور ضرورت مند عوام کی خدمت کی۔ دلیپ کمار کا ذکر ہو اور اردو سے ان کے عشق کا تذکرہ نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ انھیں اردو زبان پر نہ صرف یہ کہ عبور حاصل تھا بلکہ وہ انتہائی شستہ و شگفتہ اردو بولتے تھے۔ الفاظ کے انتخاب، جملوں کے دروبست اور جملوں کی ادائیگی کے دوران ان کے لہجے کا زیر و بم جانے کتنوں کو اپنا عاشق بناتا تھا۔ دس فروری 1988 کی وہ صبح آج بھی میری یادداشت کے افق پر ابھرتے ہوئے سورج کی مانند روشن ہے جب دلیپ کمار نے نئی دہلی کے پرگتی میدان کے ہنس دھونی اوپن ایئر تھیئٹر میں منعقد ہونے والی تین روزہ عظیم الشان عالمی اردو کانفرنس میں تقریر کی تھی۔ انھوں نے افتتاحی سیشن میں، جس کی نظامت گوپی چند نارنگ نے کی تھی، بولتے ہوئے کہا تھا کہ آج میں دہلی کی اس سرزمین پر ہوں جہاں اردو پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔ آج اس کانفرنس کے حوالے سے دہلی کی فضاوں میں اردو کی خوشبو رچی بسی ہے۔ شام کے وقت عالمی مشاعرہ تھا جس میں پاکستان سے بھی متعدد شعرا آئے ہوئے تھے، انھیں ایک بار پھر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا۔ انھوں نے مختصر تقریر کی اور اس جملے پر اپنی بات ختم کی کہ ’یہ تمہید تھی نفس مضمون بعد میں آئے گا‘۔