دلیپ کمار :ہرشخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا -معین گریڈیہوی

9708111470
بالی ووڈ کے شہنشاہ جذبات، ہندوستانی فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ ،لیجنڈ اداکار یوسف خان عرف دلیپ کماراب اس دنیا میں نہیں رہے ۔98 سال کی عمر میں 7 جولائی بروزبدھ ممبئی کے ہندوجا اسپتال میں آخری سانس لی۔ان کے انتقال کے بعد ایک سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا۔وہ صرف بہترین اداکار ہی نہیں بلکہ بہترین انسان بھی تھے جن کی ہر شخص عزت کرتا تھا۔
ابتدائی زندگی:
یوسف خان محمد عرف دلیپ کمار11 دسمبر 1922ءکوپشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے یہاں پیدا ہوئے۔ والدہ کا نام عائشہ خان ہے ۔ان کا پورا نام محمد یوسف سرور خان ہے۔ان کے پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دیولالی میں پوری کی جب کہ بی ایس سی خالصہ کالج ممبئی سے کیا ۔وہ اپنے خاندان کے ساتھ 1935 ءمیں ممبئی کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے اور انہوں نے پونا کے فوجی کینٹین میں پھلوں کا ایک اسٹال لگا رکھا تھا۔
فلموں میں آمد:
دلیپ کمار 1940 ءکے عشرے کے وسط کے دوران سنیما کی دنیا میں داخل ہوئے۔ اپنے زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیویکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے بیس سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اوربامبے ٹاکیزکی فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا۔اس کے بعد سے اس شخص نے بھارتی فلمی صنعت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔
شہرت و مقبولیت:
دلیپ کمار کی پہلی فلم ”جوار بھاٹا“ (1944) پرکسی کا دھیان نہیں گیا تھا، اس کے بعد ’جگنو‘ (1947) باکس آفس پر ان کی پہلی بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ میلہ‘ (1948) کے بعدآئی فلم” انداز ‘ (1949 ء)نے انہیں مقبولیت دلائی۔ دیدار (1951)دیوداس (1955) یہودی (1958) اور’مدھومتی‘ (1958) سمیت کئی کامیاب فلموں میں بہترین اداکاری کرکے شہنشاہ کا خطاب جیتا۔انہوں نے961 1ءمیں ”فلم ”گنگا جمنا“ کی تخلیق بھی کی جس میں ان کے بھائی ناصر خان نے کام کیاتھا۔ انہوں نے ’انداز ‘میں راج کپور (1949) کے ساتھ اور ”انسانیت“ میں دیو آنند (1955) کے ساتھ اداکاری کی۔ نرگس ، کامنی کوشل، مینا کماری، مدھوبالا اور وجنتی مالا سمیت کئی مقبول اداکاراؤں کے ساتھ ان کی جوڑی بنی تھی۔
شہنشاہ جذبات:
انہیں المیہ فلم کے شہنشاہ کے طور پرسب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔ایک ہیرو جوکہ محبت کی ناکامی پر آنکھوں سے آنسورواں کروادیتا ہے۔ دیوداس اس کردار کا ایک نمونہ ہے۔ سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی‘ اور’ مغل اعظم‘ ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ جب کہ ”دیدار“ اور”دیوداس“ نے انہیں ٹریجڈی کنگ بنادیا۔لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور’ رام اور شیام ‘میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے تھے ۔انہوں نے مزاح کی بے انتہا استعدا دکا مظاہرہ کیا۔
کیریئر:
دلیپ کمار کا کیرئیر چھ دہائیوں اور 60 سے زائد فلموں میں پھیلا ہواہے۔ ہندی سنیما کی تاریخ میں سب سے بڑے اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے’ انداز (1949 ء) آن (1952) دیوداس (1955) آزاد (1955) مغل اعظم (1960) گنگا جمنا (1961) میں بہترین اداکاری کی۔ 1970,1980اور1990 ءکی دہائی میں انہوں نے کم فلموں میں کام کیا۔ فلم’ انقلاب‘ (1981) میں ایک اہم کردار کے ساتھ واپس ہوئے ۔ کرانتی(1981) شکتی (1982) ویدھاتا (1982)مشال (1984) دنیا (1984) کرما (1986)عزت (1990 ) سوداگر (1991) میں بہترین ایکٹر کا رول اداکیا تھا۔ان کی آخری فلم  ’قلعہ‘ (1998) تھی۔ دلیپ کمار نے سب سے زیادہ اداکارہ وجینتی مالا کے ساتھ کام کیا ۔
عوامی زندگی :
فلمی صنعت نے قومی سرحدیں عبور کی ہیں اور راج کپور اور دلیپ کمار جیسے سینما کے عظیم ستاروں کے پیار نے ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو یکجا کر دیا ۔ دلیپ کمار بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششوں میں سرگرم رہے۔وہ ہمیشہ عوامی خدمات میں پیش پیش رہے۔انہوں نے سیاسی تشہیر میں بھی حصہ لیا اور پٹنہ بھی آچکے ہیں۔ وہ 2000 کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے بھی رکن رہے ۔
ذاتی زندگی :
دلیپ کمار نے11 اکتوبر 1966 ء میں اداکارہ اور خوبصورتی مورت سائرہ بانو سے اس وقت شادی کی جب وہ 44 سال کے تھے اور سائرہ بانو22 سال کی تھیں ۔ یوسف کی دیوانی سائرہ بانو اس وقت ہوگئیں جب وہ محض آٹھ سال کی تھیں۔ 1952 ءمیں جب ہدایت کارمحبوب خان کی فلم میں نمی کے ساتھ دلیپ کمارنظر آئے تو سائرہ دلیپ پر فدا ہو گئیں۔دلیپ کمار نے 30 مئی1981 ءمیں دوسری شادی آسما جوڈے نام کی خاتون سے کی، لیکن 2 سال کے اندر20 جنوری 1983 ءکو طلاق ہو گیا ۔ازیں قبل ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علیحدہ ہو گئے۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے اسٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔ان کے بھائی ناصر خان‘ احسان خان اور اسلم خان ہیں۔ دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی ناصر خان بھی ایک اداکار تھے اور گنگا جمنا (1961) اور بیراگ(1976) میں ایک ساتھ کام کئے تھے۔ ناصر خان نے اداکارہ، بیگم پارا سے شادی کی تھی، تاہم ناصر خان 1974 میں 49 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ناصر خان کے صاحبزادے ایوب خان فلموں میں بطور اداکار کام کررہے ہیں۔
عادت و فطرت:
دلیپ کمار اردو زبان اور شاعری سے محبت رکھتے تھے۔ وہ شعروشاعری اور لطیفے کے بیحد شوقین تھے ۔عمر خیام ‘مرزا غالب‘ اکبر الہ آبادی‘ فیض احمد فیض کے شیدائی تھے۔ مشاعروں میں خوب شرکت کرتے تھے۔ دلیپ صاحب دنیا کی کسی بھی زبان کی کتاب کی بہت عزت کرتے تھے۔کرکٹ کے دیوانے تھے اور جم خانہ میں شطرنج ‘ ٹیبل ٹینس اور بیڈ منٹن کھیلتے تھے۔ایام نوجوانی میں بھی دلیپ کمار گھر میں بچے جیسی طوفانی حرکت کرتے تھے۔ ان کو اردو ‘ ہندی ‘ انگریزی‘ اور مراٹھی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ انہیں ستار بجانے کا بہت شوق تھا اور اچھا بجاتے تھے۔ انہیں ڈائری لکھنے کا بھی شوق تھا۔ انہوں نے ” مووی ٹائمس“ نامی اخبار میں ”دل ایک مندر پر“ ایک اداریہ بھی لکھا تھا‘ جس کی کٹنگ راجندر کمار نے سنبھال کررکھی تھی۔انہوں نے فلم” مسافر‘ سگینہ‘ کرما‘ اور ’سودا گر“ کے لئے گانا بھی گایا۔ دلیپ کمار موسیقی کے بیحد شوقین تھے۔ بڑے غلام علی خان کی ٹھمری اور بیگم اختر کی غزلیں سننا پسند کرتے تھے۔
چاہت :
دلیپ کمار کے دیوانے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ سرحد کے اس پار پاکستان میں بھی ہیں۔دلیپ کمار پاکستانیوں کے بھی دل میں بسے ہوئے ہیں۔اسی لئے تو انہیں پاکستان حکومت کی طرف سے 1998ء میں پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز’ نشان امتیاز ‘سے بھی نوازا گیا ۔ ان کے علاوہ صرف ایک دوسرے ہندوستانی سابق وزیر اعظم آنجہانی مرارجی ڈیسائی کو اس اعزاز سے نوازاگیا۔لہذا پشاور کے عوام ہر سال دلیپ کمار کا یوم پیدائش بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں اور انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔اتناہی نہیں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور سے تعلق رکھنے والے برصغیر ہندوپاک کی فلم انڈسٹری کے عظیم فنکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو خریدنے کا اعلان کرتے ہوئے ان میں جدید عجائب گھر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے پہلے سابق اور موجود حکومتوں نے دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو خریدنے اور اسے ثقافتی ورثہ قرار دینے کے کئی مرتبہ وعدے کیے تاہم اس سلسلے میں ابھی تک عملی اقدامات کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔یہ اعلان وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و ثقافت امجد آفریدی نے جمعرات 11 دسمبر2014 ءکو پشاور پریس کلب میں غیر سرکاری تنظیم کلچرل ہیرٹیج کونسل اور ٹورزم کارپوریشن کی طرف دلیپ کمار کی 92 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امجد آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت بہت جلد نہ صرف دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو سرکاری تحویل میں لے رہی ہے بلکہ ان دونوں مکانات کو عجائب گھروں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان فنکاروں کی جائے پیدائش کو آئندہ نسلوں تک محفوظ بنایا جا سکے۔
شخصیت:

دلیپ کمار ایک استاد، بلکہ ایک درس گاہ تھے ۔ ان کی باوقار اور دل آویز شخصیت، دھیمے لہجے میں بولنا، فن کی بلندیوں اور تمام تر شہرت اور عزت کے باوجود، انتہائی انکساری۔ اِن سب باتوں نے مداحوں کو ان کا گرویدہ بنائے رکھا۔ جب اداکاروں کی محفل میں بیٹھتے اور آواز کے اتار چڑھاو اور اداکاری کے رموز پر بات ہوتی تو مشہور فلموں اور اداکاروں اور خاص طور پر دلیپ کمار کا ذکر ہوتا اور پھر ان کی اداکاری کے ایسے ایسے پہلو سامنے آتے کہ رشک آتا کہ کیا فنکار تھے اور کیا انکی اداکاری تھی ۔ اور، بے اختیار جی چاہتا کہ کاش ہم بھی کبھی اس منزل پر پہنچ جائیں۔یہی وجہ ہےکہ جب کوئی ذرا اچھا کردار ادا کرتا یا جملے کی ادائیگی خوبصورت طریقے سے ادا کرتا، تو کہا جاتا کہ بھئی دلیپ کمار بن گیا۔
دلیپ صاحب چاہے مکالمے بول رہے ہوں، عام بات چیت کر رہے ہوں یا اسٹیج پر تقریر کر رہے ہوں وہ لفظوں کا چناو بہت عمدگی سے کرتے تھے ۔ اور ہر جملہ اس خوبصورتی سے ادا کرتے تھے کہ ہر لفظ انتہائی صاف طریقے سے اپنے پورے معانی کے ساتھ، پورے رچاؤ کے ساتھ سامعین تک پہنچتا ۔ چونکہ، ان کی آواز میں ایک مٹھاس ایک چاشنی ہے اور ان کے جملوں میں ایک خاص ردم، ایک ربط ہوتا تھا۔ پھر آواز کے اتار چڑھاو کابہت دھیان رکھتے تھے ۔ تو لگتا ہے کہ وہ نثر نہیں نظم پڑھ رہے ہوں اور اشعار میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ مکالموں کو اشعار کی طرح موزوں کرتے تھے اور ایسے لفظ نکلوا دیتے تھے جو سخت اور بے وزن ہوں۔
عقیدت و محبت:
ہرشخص ہی ان سے بے پناہ عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا اور کہتا کہ میں نے دلیپ کمار کی فلاں فلم دس مرتبہ دیکھی ہے، فلاں فلم کوئی پانچ مرتبہ اور دو تین بار تو شاید ہر فلم ہی دیکھی جاتی تھی۔ پورے پورے مکالمے اور مناظر لوگوں کو ازبر تھے۔ داغ، انداز، آن، مغل اعظم، دیو داس، کوہ نور، گنگا جمنا اور رام اور شیام۔ غرض، ایک سے ایک شاہکار فلم کا ذکر ہوتا۔
ہالی ووڈ :
ان کی وجیہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔
اعزازات :
دلیپ کمار وسیع پیمانے پر ہندی سنیما کی تاریخ میں سب سے بڑے اداکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔  ایک بھارتی اداکار کے طورپر انعامات کی زیادہ سے زیادہ تعداد حاصل کرنے کے لیے ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا۔ دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہے۔انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ جہاں انہیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا وہیں انہیں حکومت ہند نے 1991 میں پدم بھوشن اعزاز اور 1994 ءمیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے علاوہ1980 بمبئی شیرف سے نوازاگیا۔پاکستان حکومت کی طرف سے 1998ء میں ان کو پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز ’نشان امتیاز ‘سے بھی نوازا گیا۔ساتھ ہی 2008 ءمیں خصوصی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ۔ انہیں ” شکتی ‘ رام اور شیام‘لیڈر‘کوہ نور ‘نیادور‘ دیوداس ‘آزاد اور ”داغ“ میں بہترین داکاری کے لئے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازاگیاتھا۔
فلموں سے کنارہ کشی :
1998 میں فلم ‘ قلعہ ‘ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیارکر لی تھی۔ دلیپ کمار صرف مخصوص فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آئے۔ پارٹی میں آنے والے یا ان کے گھر پر جانے والے اکثراداکار ان کے احترام میں ان کا پیر چھونا نہیں بھولتے تھے اور اس طرح ان کی عزت کرتے تھے ۔ادھرکچھ دنوں سے وہ زیادہ بیمار رہنے لگے تھے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے۔ (آمین)۔