دل وہ حجرہ ہے جہاں دکھ بھی خوشی سے آیا ـ جواد شیخ

ایسا مت کہہ کہ یہاں تُو غلطی سے آیا
دل وہ حجرہ ہے جہاں دکھ بھی خوشی سے آیا

خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری
دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا

فتح مندی کا جو اِک رنگ ہے اُس چہرے پر
سرخروئی سے نہیں ۔۔۔۔۔ دل شکنی سے آیا

ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں
اٌس کو عجلت تھی سو بے راہ روی سے آیا

اِس کہانی میں کہیں ذکر تو آیا اُس کا
کیا ہوا جو مری کردار کشی سے آیا

نئے ملبوس میں وہ جچ تو رہا ہے لیکن
کوئی پوچھے کہ یہ کس آمدنی سے آیا

آزماتا ہوں مگر اور کسی پر ۔۔۔ افسوس !!
یہ ہنر جبکہ مجھے اور کسی سے آیا

اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں
مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا

موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جواد
جو مجھے اُسکی توجہ میں کمی سے آیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*