دل کو مٹھی میں لے لینے والی ’مٹھی بھر کہانیاں‘(قسط دوم) ـ شکیل رشید

 

اِس کہانی کی شبنم کی طرح ،اس مجموعے کی تقریباً تمام ہی کہانیوں میں خواتین کے کردار، خوداعتمادی سے بھرےہوئے ،اورباہمت ہیں۔ کہانی ’’چاہنے والے‘‘ کی رشیدہ بی کی مثال لے لیں ،کہانی کی راوی رسولن کے مطابق:’’ایسا گھر اور ایسی لڑکی کہ ہتھیلی پر دیا رکھ کے بھی ڈھونڈو تو نہیں ملے۔‘‘ نواب صاحب کے بھتیجے اسلم میاں سے ، پہلے انکار پھر شادی ۔اور پھر یہ خبر کہ اسلم میاں طلاق دے رہے ہیں ۔کیوں؟کیونکہ نوجوان اسلم میاں ’’اولاد تو اولاد عورت کے قابل بھی نہیں ہیں۔‘‘رشیدہ بی کا سارا خاندان طلاق کے لیے بضد اور وہ خود طلاق کسی بھی حال میں نہ لینے پر مصر! شادی کی پہلی ہی رات اسلم میاں نے انہیں سب کچھ بتا دیا تھا ،لیکن رشیدہ بی طلاق لینے پر راضی نہ ہوئیں تونہ ہوئیں ،اور یہ کہتے ہوئے’’دھوپ چھاؤں کبھی ایک نہیں ہو سکتے خالو میاں، مگر پھر بھی ان کا ایک رشتہ ہوتا ہے۔دونوں کا وجود ایک دوسرے کے دم سے ہے ۔وہ ایک نہیں ہوتے پھر بھی ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔میں اسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں اور رہوں گی ،مجھے نہ طلاق چاہئیے،نہ دوسرا مرد اور نہ آپ کی صلاح۔‘‘رشیدہ بی طلاق نامے کے پرزے پرزے کر دیتی ہیں ۔یہ کہانی ایک گم ہوتے ہوئے ماحول ،اور ختم ہوتی ہوئی قدروں کی کہانی ہے ،اُن وقتوں کی جب رسولن کے بقول’’تو بی بی ایسی ہوتی تھیں ہمارے زمانے کی محبتیں،ایسے ہوا کرتے تھے چاہنے والے۔‘‘ کہانی ’’ماٹی کہے کمہار سے‘‘کی سشما کا کردار لے لیں ، یہ روی کے ساتھ،جو اپنی پتنی کرن کو، صرف دو راتیں اور ایک دن ساتھ بتا کر ،پیچھے چھوڑ آیا ہے ،بنا بیاہ کئے رہتی ہے ،لیکن جب برسوں سے پتنی کی لکھی ہوئی چٹھیاں اس کے ہاتھ آتی ہیں اور وہ انہیں پڑھ کر روی کو سناتی ہے ،تو اس کے دل کی حالت بدل جاتی ہے ،اور وہ روی سے پوچھتی ہے ،’’ تم نے کرن کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کیا؟‘‘اوریہ سننے کے بعد کہ’’وہ مجھے اچھی نہیں لگتی تھی!‘‘اپنا بکسہ اٹھاتی ہے اور چل دیتی ہے۔یہ سطریں ملاحظہ کریں:’’اس نے روی کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا،نفرت بھی اور حقارت بھی۔پھر اس نے اپنا بکسہ اٹھایا اور دروازہ کھول کے باہر نکل گئی۔‘‘ کہانی’’حلّودیوانی‘‘ کی حلّو دیوانی کا کردار یاد گار ہے ،ایک دیوانی جو شادی اور بیٹے کی پیدائش کے بعد اس دھڑکے کے باوجودکہ اُس کا بیٹا اُس سے کہیں چھین نہ لیا جائے ،اُسے لے کر بھاگنے اور شدید بارش میں لکڑی کی ٹال پر پڑی ترپالوں کے نیچے سے بیٹے احمد کو چھاتی سے لگائے نکل آتی ہے ،کیوں کہ اُسے احمد کی فکر ہے،پھر،’’انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھول دیا سامنے، پانی میں بھیگی ،کیچڑ میں لتھڑی ہوئی حلّو کھڑی تھی۔ مریم پھٹ پڑیں۔’’ اے خدا غارت کرے، کم بخت تو کل سے کہاں مری ہوئی تھی اور یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے ؟‘‘حلّو نے احمد کو ان کے ہاتھوں پر رکھ دیا اور کانپتی ہوئی آواز میں بولی،’’اسے تم لے لیو!‘‘حلو نے جواب کا انتظار بھی نہیں کیا اور جانے لگی ۔ مریم بی پکارتی ہی رہ گئیں۔‘ یوں تو یہ کہانی بتاتی ہے کہ اولاد کی محبت میں ایک دیوانی بھی قربانی دے سکتی ہے ،لیکن اس میں وہ چہرے بھی سامنے آتے ہیں جو دوسروں کی خوشی کو اپنا حق سمجھتے ہیں ، اور اس کہانی کو سارے سماج کی کہانی بنا دیتے ہیں ۔

مجموعے میں کُل ۱۴ کہانیاں ہیں ، سب پر بات نہیں کی جا سکتی ،لیکن اگر کہانی ’’ کیسریا بالم ‘‘ کا ذکر نہ کیا جائے تو جاوید صدیقی سے بھی اور اس کہانی سے بھی ظلم ہوگا ۔ عجیب و غریب کہانی ہے!لکھنؤ کی ایک طوائف کی بے حد حسین و جمیل بیٹی بے نظیر بیگم ،اور راجہ حیدر علی کی ، جو پہلے ہرش وردھن سنگھ تھے ،محبت کی ۔ ایسی محبت جس پر،دین و ایمان ہی نہیں تن بدن اور دل بھی لُٹ گئے۔ جب بے نظیر بیگم کے ایک طلب گار نے راجہ صاحب سے کہاکہ وہ بے نظیر بیگم کو ان کے ساتھ کشمیر بھیجنے پر راضی کردیں تو انہیں دس ہزار روپئے ملیں گے ،تو راجہ صاحب نے اس کا گریبان پکڑلیا اور کہا ’’ کیا تو ہمیں دلال سمجھتا ہے؟‘‘ جواب ملا’’ دلال نہیں تو پھر کیا ہو؟ کیا رشتہ ہے تمہارا بے نظیر بیگم کے ساتھ؟‘‘اور بے نظیر بیگم تو ایک دن ایک سڑک حادثہ میںمر گئیں مگر راجہ حیدر علی جو بنگلے سے نکلے تو ساری زندگی اس سوال کا جواب ڈھونڈھتے رہے’’کون ہیں ہم ، کون ہیں ہم ،کیا رشتہ ہے ہمارا؟‘‘پھر نہ انہیں اپنا نام یاد رہا اور نہ ہی اپناہوش رہا۔ یہ عجیب و غریب کہانی اُن افراد کی ہے جو شہر ممبئی میں کبھی جانے پہچانے تھے، مگر گمنام ہوئے تو یوں ہوئے کہ کسی کو ان کی یاد بھی نہ رہی ۔لیکن ایک کہانی کار نے انہیں اس طرح سے زندہ کر دیا ہے کہ پڑھنے والے سوچ میں پڑ جائیں کہ کیا یہ کہانی سچ ہے؟اس مجموعے کی دو کہانیاں آج کے شہر ممبئی کی ہیں ،’’چھوٹا بابو بڑا بابو‘‘دہشت گردی اور مذہب کےنام پر بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کی کہانی ہے۔ایک بچہ جب ایک مولوی کےساتھ ’’قسمت‘‘بنانے نیپال چلا جاتا ہے تو دوسرا اپنے باپ پر ، جو اسے مولوی کے ساتھ جانے نہیں دیتا ، سخت بلکہ نفرت کی حد تک ناراض ہو جاتا ہے اور ایک دن چپکے سے گھر سے پیسے لے کر بھاگ جاتا پے ،اچانک ایک دن بم دھماکہ ہوتا ہے ،اور جب آتنک وادی کے پکڑے جانے کی خبر آتی ہے اور یہ نوجوان اسے دیکھتا ہے تو اسے شدید جھٹکا لگتا ہے کہ وہ وہی ہوتا ہے جو مولوی صاحب کے ساتھ نپال گیا تھا ۔ یہ لڑکا واپس ممبئی آتا ہے ، اس کا باپ فوت ہو چکا ہے ،وہ قبرستان جا تا ہے اور اپنے باپ کی قبر کی پائینتی ہاتھ جوڑ کر بیٹھ جاتاہے ،گورکن اس سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ ہندو سے مسلمان ہوا ہے ،وہ جواب دیتا ہے ،نہیں کیوں؟ گورکن کہتا ہے کہ مسلمانوں میں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگتے ہیں ،نوجوان جواب دیتا ہے،’’میں دعا نہیں مانگ رہا ہوں ،اپنے باپ سے معافی مانگ رہا ہوں!‘‘کہانی ’’رونے والا کتا ‘‘ ممبئی کے فسادات کا ایک نیا روپ پیش کرتی ہے جس میں کتے کے رونے کو علامت بھی سمجھا جا سکتا ہے اور تشبیہ بھی ۔باقی کہانیاں’’کامریڈ کی شادی‘‘،’’پیوند‘‘،’’ دلبر جانی‘‘،’’کہانی جیسی‘‘،’’مہرو‘‘،’’گڑمبا‘‘اور ’’موگرا‘‘ان افراد کی کہانیاں ہیں جو یا تو ہمارے آس پاس موجود ہیں ،یا کبھی ہم نے ان کے بارے میں سنا ہے ،فلمی دنیا کی عیاریوں کی ، تقسیم کے بعد عزت بچا کر سرحد پار پہنچنے والوں اور وہاں جاکر بکھر جانے والوںیا وہاں کھوئی ہوئی محبت پانے والوں کی۔کہانی ’’گڑمبا‘‘ ہنساتی ہے ،اور ’’موگرا‘‘ رلاتی ہے ۔اس آخری کہانی میں مابعدالطبیعاتی عناصر کا استعمال بڑی خوبی سے کیا گیا ہے ،اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جاوید صدیقی بہترین ڈراونی کہانی بھی لکھ سکتے ہیں ۔ یہ مجموعہ مجھے تو پسند آیا ہے ،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان افراد کی سچ کہانیاں ہیں جن کی یاد میں خاکے نہیں لکھے جا سکتے تھے ، مگر ان کی کہانیاں اس قدر دلچسپ ہیں کہ ان سے گزرنے والا انہیں بتائے بغیر چین نہ پاتا ،جاوید صدیقی نے یہی کیا ہے ۔ اور جو اس مجموعے کو پسند نہیں کریں گے ان کے پاس بتانے کے لیے وجہ یہی ہو گی کہ یہ کہانیاں خاکہ نما ہیں ۔وہ ایسا سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں ،میری نظر میں تو جاوید صدیقی مبارک باد کے مستحق ہیں ،اور شاداب رشید بھی جنہوں نے اس خوبصورت کتاب کو اپنے پبلی کیشن ’کتاب دار‘(موبائل:9869321477)سے شائع کیا ہے ۔ اس مجموعے کا انتساب معروف فلمساز ،شاعر اور کہانی کار ’محترم اور مخلص دوست گلزار کے نام ‘ ہے ،جنہوں نے اس کتاب کا بہت ہی خونصورت سرورق بنایا ہے۔