دلچسپ تحقیق:مشہور عرب شاعر ابو نواس کی شاعری کے پیچھے 60 خواتین کا ہاتھ تھا

عربی زبان وادب کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو قواعد وانشا، صرف ونحو اور لغت کی دنیا میں ہمیں مردوں کا مکمل غلبہ دکھائی دیتا ہے اور اس میدان میں بہت کم خواتین نظرآتی ہیں مگرآج ایک ایسی حقیقت آشکار ہوئی ہے جس نے حیران کردیا ہے کہ شعرو سخن کا ذوق رکھنے میں قدیم عرب خواتین مرد شاعروں سے پیچھے نہ تھیں۔ حتیٰ کہ کئی مشہور شاعروں کے نام سے مشہور ہونے والے کلام میں بھی بے شمار ایسے اشعار شامل ہیں جو حقیقت میں خواتین شاعروں نے کہہ رکھے تھے، تاہم انہیں مرد شاعروں کے دیوان میں شامل کیا گیا۔تاریخی مصادر سے پتا چلا ہے کہ ظہور اسلام کے کوئی ڈیڑھ صدی بعد گذرنے والے ایک عرب شاعر حسن بن ھانی ابو نواس کی شاعری میں 60 خواتین شاعروں کا کردار تھا۔ اگرچہ ابو نواس خود بھی شاعر تھا، مگر اس کے نام سے مشہور ہونے والے شاعری کے دیوان میں اس کے اشعار سے زیادہ خواتین کے اشعار تھے جو بعد میں ابو نواس کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابو نواس نے خود اعتراف کیا ہے کہ اگر خواتین نہ ہوتیں تو شاید اس میں شاعری کا ملکہ اتنا مضبوط نہ ہوتا۔ابو نواس کی پیدائش 136ھ اور 145ھ کے درمیان اور وفات 196ھ کے درمیان ہوئی۔ مشہور مورخ خطیب بغدادی نے یہ تفصیلات اپنی کتاب تاریخ بغداد میں بیان کی ہیں۔ بغدادی لکھتے ہیں کہ مشہور عرب شاعر ابو نواس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کی شاعری کے ٹیلنٹ کے پیچھے ایک دو نہیں بلکہ ساٹھ ادبی خواتین کا کردار تھا۔ ان میں مشہور شاعرہ الخنسا اور لیلیٰ الاخیلیہ بھی شامل ہیں۔ جس طرح دور جاہلیت کے شعرا میں امرا ء القیس کو شاعری کا سرخیل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح زمانہ اسلام میں عرب دنیا میں یہی مقام ابو نواس کا ہے۔ ابو نواس کو کو جدید عربی شاعری کے چوٹی کے شاعروں میں شمار کیا جاتاہے۔ جب کہ اسلامی دور کے شعرا میں یہ مقام فرزدق اور جریر کو حاصل ہے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ مرتبہ امرؤ القیس اور الاعشیٰ کو حاصل تھا۔جاحظ کا کہنا ہے کہ میں نے ابو نواس سے زیادہ لغت کا عالم، فصیح اور شیریں بیان شخص نہیں دیکھا۔ خطیب بغدادی کا کہنا ہے کہ اگر ابو نواس زمانہ جاہلیت میں ہوتے توان پر کسی اور شاعر کو فضیلت نہ دی جاتی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*