دل اپنا دیکھیے میاں، کاسہ نہ دیکھیے ـ عزیز نبیل

دستِ طلب دراز ہے کس کا نہ دیکھیے
دل اپنا دیکھیے میاں، کاسہ نہ دیکھیے

آنکھوں کے ساتھ روح بھی سلگے گی صبح تک
بجھتے دیے کی لو کو زیادہ نہ دیکھیے

یہ جان لیں وہ پیڑ ہیں سایہ فروش پیڑ
شاخوں پہ جن کی کوئی پرندہ نہ دیکھیے

اب کیا جو آرہا ہوں ہراک شخص میں نظر
میں نے کہا بھی تھا مجھے اتنا نہ دیکھیے

جائیں مگر پھر ایسے کہ کچھ چھوڑ کر نہ جائیں
یعنی ہمیں پلٹ کے دوبارہ نہ دیکھیے

دریا کے زخم جذب نہ ہوجائیں روح میں
کچھ دور بیٹھیے، تہِ دریا نہ دیکھیے

آپ اپنے سورجوں کے سجائیں نقوش و رنگ
میں کیسے بن رہا ہوں ستارہ نہ دیکھیے

کچھ خواب مستقل یہاں محوِ طواف ہیں
آنکھیں ہماری دیکھ کے دنیا نہ دیکھیے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*