دل کو مٹھی میں لے لینے والی ’مٹھی بھر کہانیاں (قسط اول) ـ شکیل رشید

نہیں ،یہ کمزور کہانیاں نہیں ہیں۔
اپنے قاری کی آنکھیں بھگو نے ،اُسے ہنسانے اور مبتلائے حیرت کرنے والی کہانیاں کمزور ہو بھی نہیں سکتیں۔
وہ کہانیاں بھی جو بظاہر کمزور سی لگتی ہیں تھیم ،موضوع،پلاٹ، بیانیہ ، مکالموں، ہیئت اوربنت کے انوکھے پن کے سبب اکثر ’بڑےافسانہ نگاروں‘کی اُن تخلیقات پر بازی مار لیتی ہیں جنہیں عام طور پر ’شاہکار‘ سمجھا جاتا ہے ،یا شاہکار سمجھ لیا گیا ہے ۔ چونکہ یہاں مقصود موازنہ نہیں ہے اس لیے میں ایسے افسانہ نگاروں کا نام نہیں لوں گا ،جن کی عام سی کہانیاں بھی ’شاہکار‘سمجھ لی گئی ہیںیا ’ادبی مافیا ‘ان کہانیوں کو ’شاہکار‘منوانے کے لیے بے قرار رہاہے۔ان کہانیوں کے کمزور نہ ہونے ،یاچند ایک خامیاں اگر مان لی جائیں تب بھی ، ان کہانیوںکو بہتر ماننے کی وجہ ،ان کی یہ خوبی ہے کہ ، کسی کہانی کو بہتر بنانے کے مذکورہ تمام لوازمات ، یعنی تھیم،موضوع،پلاٹ،بیانیہ،مکالمے،ہیئت اور بنت ،ایک دوسرے سے زنجیر کی اٹوٹ کڑیوںکی طرح جڑے ہوئے ہیں،جس سے ہر ایک کہانی یا کہانیاں ایک وحدت میں ڈھل جاتی اور ، اپنے پڑھنے والوں کے دل مٹھی میں لے لیتی ہیں۔
ٹھہریئے ! کہانیوں پر بات کرنے سے قبل یہ جانتے چلیںکہ کس فکشن نگار کا یاکس کہانی کار کی کہانیوں کا ذکر ہو رہا ہے !بات جاوید صدیقی اور ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’مٹھی بھر کہانیاں‘‘ کی ہے ۔وہی جاوید صدیقی جنہوںنے صحافت کے میدان میںبھی نام کمایا ،اور فلمی دنیا میں آئے تو پریم چند کی کہانی ’شطرنج کے کھلاڑی‘ پر عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار ستیہ جیت رے کی ،اسی نام سے بننے والی فلم لکھی،اور پیچھےمڑ کر نہیں دیکھا ،بے مثال ہٹ فلمیں دیں جیسے ’ڈر‘اور ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘۔ ’بیگم جان ‘اور ’تمہاری امرتا‘ جیسے مقبول ڈرامے لکھے ۔ وہی جاوید صدیقی جنہوں نے اردوادب کو خاکوں کی دوبہترین کتابیں،’روشن دان ‘اور ’لنگر خانہ‘دیں،جو پاکستان سے بھی شائع ہوئیں۔ لیکن یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ اچھی فلمی کہانیاں ،اچھے فلمی منظرنامےیا مکالمے یا مقبول ڈرامے اور بہترین خاکے لکھنے والے ،اچھی کہانیاں بھی لکھ لیں!بات سچ ہی ہے ، یہ کوئی ضروری نہیں ہے ۔لیکن یہ ممکن تو ہے۔بھلے سب کے لیے یہ ممکن نہ ہو ،مگر جاوید صدیقی نے اسے ممکن کر دکھایا ہے ۔ اور ممکن کر دکھانے کی ایک بڑی وجہ، وہ اس کتاب پر اپنے اظہارِ خیال ، بعنوان ’’حقیقتوں کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے۔۔‘‘میں خود بتاتے ہیں:’’ایک اچھے افسانے کی خوبی یہ ہے کہ وہ حقیقت معلوم ہوتاہے ،اور سچی کہانی کا کمال یہ ہے کہ وہ افسانہ جیسی لگتی ہے۔سچی کہانیاں ،کسی واقعے ،حادثےیا سانحےکے عمل یا ردعمل کی پیداکردہ نہیں ہوتی ہیں۔سچی کہانیاں تحیل کی طرح آزاد بھی نہیں ہوتیں،وہ محدود اور مشروط ہوتی ہیں۔ان کی پہلی شرط وہ سچائی ہے جو کہانی کی شکل میں بیان کی جاتی ہے۔دوسری شرط یہ ہے کہ بیانیہ میں تخیل کوئی اضافہ یا ترمیم نہیںکرسکتا۔جہاں وہ مسٔلہ آجائے جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ’بڑھا ہی دیتے ہیںکچھ زیبِ داستاں کے لیے‘تو سچی کہانی سچی نہیں رہتی ،اور ایسے افسانے جن پر حقیقت کا گمان ہو اُس وقت تک نہیں لکھے جا سکتے جب تک افسانہ نگار اُن تمام جذبوں کو اپنے اندر محسوس نہ کرے ،جن سے اس کا کردار گزر رہا ہے۔یہ عمل سننے میں جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہی دشوار ہے۔زخم کھائے بغیر درد کی شدت کو محسوس کرنا لمبی ریاضت اور کٹھن تپسّیا کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی ادب میں بھی کہانی کہنے والے تولاکھوں ہیں مگر ایسے کہانی کار جن کی کہانی ہر اعتبار سے حقیقت معلوم ہو نے لگے اور دل کو چھُو لے ،بہت کم ہیں۔‘‘
جب ہم فکشن کی بات کرتے ہیں تب دو رویئے ہمارے سامنے آتے ہیں ،ایک رویہ، افسانہ نگاروں یا ناول نگاروں کا اپنی تخلیق اور اپنے خلق کیے ہوئے کرداروں سے دوری بنائے رکھنے کا ہے ،اور دوسرا رویہ تخلیق کاروں کا اپنی تخلیق اور اپنے کرداروں کے ساتھ ساتھ چلنے کا ہے ۔پہلے رویے کی کلاسیکی مثال مرحوم نیّر مسعود ہیں ،یہ نہ اپنی کہانیوں کے ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی اپنے کرداروں کے ساتھ ۔نیّر صاحب کی کہانیاں مجھے پسند ہیں ،کیونکہ وہ اپنے کسی ایک کردار کے ساتھ بھی جانبداری نہیں برتے ،اور سارے منظرنامے کو دور سے دیکھتے ہوئے بیان کرنے کے باوجود ،کہانی پر ان کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑتی ،سارا منظر ،پوری فضا،قاری کے سامنے آ جاتی ہے۔ یہاںبات نیّر مسعود کی نہیں جاوید صدیقی کی ہے ،جو فکشن کے اس رویے کو سامنے لاتے ہیں ،جو پہلے والے رویے کی ضد ہے۔یعنی اپنی کہانی اور کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ چلنا ۔ اور یہ ساتھ ساتھ چلنے کا عمل کچھ ایسا ہے جیسے کہ وہ خود اپنی کہانی اور اس کے کرداروں کے ساتھ جی رہے ہیں ، تڑپ رہے اور ہنس رہے ہیں ۔جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے پتہ چلتا ہےکہ زخم کھائے بغیر درد کی شدت کو محسوس کرنا آسان نہیں ہے ۔اور جاوید صدیقی کا ،اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ساتھ ساتھ چلنے کا عمل ، اِن کہانیوں کو یادگار بنا دیتا ہے۔ اپنے اظہارِ خیال میں انہوں نے مزید ایک بات کہی ہے :’’خاکہ اگر کسی غیر معروف شخصیت کا ہو تو اُس پر کہانی کا الزام لگادینا کوئی مشکل کام نہیںہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔میرے کچھ بہت اچھے خاکوں کو من گڑھنت کہانی کہہ کر اس مقام سے محروم کر دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔اور تب میں نے سوچا کہ کہانیاں ہی کیوں نہ لکھی جائیں ۔چونکہ میں ان پیشہ ور لکھنے والوں میں سے نہیں ہوںجو قطرے کو دریا اور روئی کو بادل بنا دینے کا فن جانتے ہیں،اس لیے مجھے اپنی کہانیوں کا گھرونداکھڑا کرنے کے لیے تھوڑی سی مٹّی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ مِل ہی جاتی ہے ،کبھی کسی کے ہونٹوں سے نکلی بات میں، کبھی کسی کی آنکھ کی سُرخی میں اور کبھی اپنے ہی دل کی گہرائی میں۔‘‘ تو بات واضح ہو گئی ،ان کہانیوں کی بنیاد ’سچ ‘ پر ہے ،اور ’سچ‘ کو ایک ’ کہانی‘ کی طرح لکھنے کے لیے ،لازمی یا ضروری تو نہیں ، مگر بہتر ہے کہ لکھنے والا خاکے لکھنا بھی جانتا ہو ،تاکہ ایک خاکے اور ایک کہانی کے بنیادی فرق کو ملحوظ رکھ سکے۔ جاوید صدیقی اس فرق کو خوب جانتے ہیں ۔مثلاً اس مجموعے کی کہانی ’’شب ‘‘ لے لیں۔میں اس کہانی کو پڑھنے کے بعد بڑی دیر تک گم سم سا تھا ،کچھ کھویا کھویاسا ،یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کسی اپنے بہت ہی قریبی شخص کی کہانی ہو،جیسے جو کچھ گزرا ہے اُس کا مجھ سے کوئی تعلق ہو۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی احساس تھا کہ نہیں یہ نہ میری کہانی ہے اور نہ ہی کسی قریبی واقف کارکی کہانی ہے ۔یہ تو بس ایک کہانی ہے ۔ہاں! لیکن یہ کہانی سچ ہو سکتی ہے ،اور ممکن ہے کہ یہ لکھنے والے کی اپنی ہی کہانی ہو ،یا اس کے کسی بہت ہی قریبی دوست کی۔یہ ’ کہانی کو سچ ماننے اور سچ کو کہانی ماننے‘ کا وہ احساس تھا یا وہ احساس ہے جو جاوید صدیقی کی اس کہانی کو ہی نہیں، تمام کہانیوں کو خاکوں سےمنفرد کر دیتا ہے۔ کہانی ’’شب‘‘ ایک لڑکی کے ٹوٹ کر ایک ایسے شخص کو چاہنے یا با الفاظ دیگر اُس سے محبت کرنے کی کہانی ہے ، جو اُسے خود بھی چاہتا ہے ،لیکن ایک دوست کے لیے ایک ایسا قدم اُٹھا دیتا ہے جو اُسے ہمیشہ کے لیے اُس لڑکی سے دور کر دیتا ہے۔ پلاٹ بظاہر سیدھا اور سادا ہے ،لیکن بباطن پیچیدہ ہے ۔کہانی کاآ غاز ہوتا تو لندن سے ہے ،مگر کہانی اس سے کہیں پہلے دیہات سے شروع ہوچکی ہوتی ہے، اور اس طرح کہ راوی اس لڑکی کو چھیڑتا اور اس کی سانولی رنگت اور دبلے پتلے ہونے کے سبب اسے ’چھپکلی‘ کہتا،اور اُس کے نام شبنم کو ’شب ‘ میں بدل دیتا ہے:’’تو اتنی کالی ہے کہ تیرا نام شب ہونا چاہیے۔‘‘جاوید صدیقی نے دونوں کے درمیان تلخ نوک جھونک اور اس نوک جھونک کے پیار میں ،وہ بھی گہرے پیار میں ، تبدیل ہونے کے مناظر اس خوبی سے کھینچے ہیں ،کہ قاری کو لگتا ہےکہ وہ سب اس کی اپنی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہانی کی بنت ، ہئیت ،پلاٹ ، تھیم ،مکالموں اور بیانیہ کا ذکر کیا ہے ،وہ سب اس کہانی میںزنجیر کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ، نہ مکالمے کہانی سے نکالے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بیانیہ میں کتر بیونت ممکن ہے ۔ایک اچھے فلمی منظر نامے کی طرح یہ کہانی ’چست‘ ہے ۔ آغاز ،جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے،حال سے ہوتا ہے،جب راوی طویل عرصہ بعد لڑکی سے ،جو اب عمر دراز ہے ،لندن میں اچانک ملتا ہے ،پھر کہانی فلیش بیک میں چلی جاتی ہے اور وہاں سے گھوم کر پھر حال میں واپس لوٹ آتی بلکہ ختم ہو جاتی ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلمی منظر نامے کی تکنیک اپنائی گئی ہے ۔کہانی کی آخری سطریں یوں ہیں:
’’ ’پھر ملو گی ۔میں یہاں چار دن اور ٹھہروں گا۔‘
’نہیں!‘
اس نے کہا اور سڑک پار کر کے ان ہزاروں لوگوں کی بھیڑ میں گم ہوگئی جو پتہ نہیں آ رہے تھے یا جا رہے تھے۔‘‘
میں اس کہانی پر مزید کچھ نہیں کہوں گا ،سوائے اس کے کہ اس کا بیانیہ ،مکالموں کے ساتھ چلتا ہے ،اور جس ماحول کی کہانی ہے اسی ماحول کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ بمبئی جانے سے ایک دن پہلے وہ خود ملنے کے لیے آ گئی ۔ ڈوبتے سورج کی روشنی میں وہ زرد اور کمزور لگ رہی تھی ۔ جی چاہا اسے گلے لگا لوں اور کہوں میں تجھے چھوڑ کے کہیں نہیں جا رہا ہوںشب۔ مگر چاروں طرف بکھری ہوئی میرے گھر کی بے سروسامانی نے یاد دلایا کہ جانا تو پڑے گا۔اس معصوم کو کیوں دھوکہ دے رہا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ دھوکا ایک ہی ہے مگر خود کو دیا جائے تو امید کہلاتا ہے اور دوسروںکو دیا جائے تو گناہ ہے۔‘‘