دگ وجے نے 35-35 کروڑمیں بکنے کا لگایا الزام،چار وزراکی طرف سے ہتک عزت کا مقدمہ،18 نومبر کوہوگی سماعت

بھوپال:سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے دو دن قبل فیس بک پر لکھا تھا کہ جن لوگوں نے جمہوریت کے بہی کھاتہ میں کانگریس سے 35 سے 35 کروڑ میں بک کر غداری کی ہے،انہیں اپنا حصہ ان لوگوں کو دینا چاہیے جنھوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ دگ وجے سنگھ نے دو دن پہلے اپنے فیس بک پیج پر لکھا تھا کہ کانگریس کو دھوکہ دے کر انہیں 35 – 35 کروڑ میں بک گئے ہیں ۔کیس گووند سنگھ راجپوت ، پر دیومن سنگھ تومر ، مہیندر سنگھ سسودیا اور ایم ایل اے منالال گوئل کی طرف سے لگایا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ کا نگریس کے رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کے خلاف ریاستی حکومت کے چار وزرا نے ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ہتک عزت کا یہ مقدمہ دگ وجے سنگھ کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ کانگریس سے 35 سے 35 کروڑ میں فروخت ہوئے تھے ، انہیں اپنا حصہ ان لوگوں کو دینا چاہیے جنھوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔پیر کو ایم ایل اے اور ممبران پارلیمنٹ کے مقدمات کی سماعت کرنے والے خصوصی جج پرویندر کمار سنگھ کی عدالت میں بی جے پی حکومت میں چار وزرا کی جانب سے 10 کروڑ روپے کا ہتک عزت مقدمہ دائر کیا گیا ہے ۔ جن وزرا نے ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا ہے ان میں گووند سنگھ راجپوت ، پردیو من سنگھ تومر ، مہندر سنگھ سسودیا اور منا لال گوئل شامل ہیں۔ جج نے شکایت پر اگلی سماعت اور شکایت کنندہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے 18 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*