ظاہر و باطن کا بھید – خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن

جب بھی مجھے کوئی تلخ جام پینا پڑا،تو اس کی تہہ میں شہد کی مٹھاس بھی تھی۔

میں جب بھی کسی مشکل گھاٹی سے گزرا تو اس کے بعد فوراً ہموار و شاداب علاقوں تک رسائی ہوئی۔

میں نے اگر رات کی تاریکی میں کسی دوست کو ضائع کیا،تو صبح کی روشنی میں وہ مل بھی گیا۔

کتنی ہی بار میں نے اپنے اندرون کے غم اور دل کی سوزش کو یہ سوچ کر صبر و تحمل کی چادر سے ڈھانپا کہ اس پر مجھے اجر اور نیکی ملے گی؛ لیکن جب میں نے اس چادر کو اتارا تو دیکھا کہ غم خوشی میں بدل چکا ہے اور سوزش ٹھنڈک اور سلامتی میں تبدیل ہوچکی ہے۔

کئی بار میں غلط اندیشی کا شکار ہوکر اپنے آپ کو شکار اور اپنے دوست کو بھیڑیا سمجھ بیٹھا،پھر جب اس خول سے باہر نکلا، تومعلوم ہوا کہ ہم دونوں ہی انسان ہیں۔

اے لوگو! میں اور آپ اپنے ظاہری احوال پر فیصلے صادر کرتے ہیں اور پوشیدہ حقیقتوں پر نظر نہیں رکھتے۔ اگر کوئی پھسل جائے تو کہتے ہیں:وہ گر گیا،کوئی لاپروائی کرے تو کہتے ہیں: وہ نقصان اٹھانے والا اور کمزور ہے۔ کوئی صاف بات نہ کرسکتا ہوتو اسے گونگا کہتے ہیں اور کوئی تکلیف کا اظہار کرے،تواسے مردہ یا قریب المرگ سمجھتے ہیں ۔

ہم اور آپ سب صرف ‘‘میں’’ کے چھلکوں اور‘‘تم’’ کی سطحیات میں الجھے رہتے ہیں؛ اس وجہ سے ہم ‘‘میں’’ اور ‘‘تم’’ کے اندرون میں مخفی رازوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

ایسے میں کیا کرنا چاہیے جبکہ ہم دھوکے میں ہوتے ہیں اور اپنے اندر چھپے حقائق سے غافل ہوتے ہیں؟

میں آپ سے کہتا ہوں (اور ہوسکتا ہے کہ میری بات بھی میرے اندر موجود حقیقت پر پردہ ڈالنے والی ہو)۔ پھر بھی میں آپ سے اور اپنے آپ سے کہتا ہوں:ہم جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں،وہ بادل سے زیادہ کچھ نہیں ہے، جو ہماری بصیرتوں کو چھپا دیتا ہے۔ جو ہم اپنے کانوں سے سنتے ہیں وہ صرف ایک تشویش انگیز آواز ہوتی ہے، جو اُس حقیقت کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے، جسے ہمارے دلوں کو سمجھنا چاہیے۔ پس اگر ہم کسی پولیس والے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو گھسیٹتا ہوا جیل کی طرف لے جا رہاہے، تو ہمیں یہ طے نہیں کرلینا چاہیے کہ گرفتار شخص مجرم ہی ہے۔ اگر ہم کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کا جسم خون آلود ہے اور دوسرے کا ہاتھ خون سے لالہ گوں ہے، تو عقل مندی یہ ہے کہ ہم صرف ظاہر کو دیکھ کر یہ نہ طے کرلیں کہ فلاں قاتل اور فلاں مقتول ہے۔ اگر کوئی شخص خوشی کے نغمے گا رہا ہے اور دوسرا نالہ و شیون کررہا ہے تو بھی ہمیں یہ جاننے کے لیے صبر سے کام لینا چاہیے کہ کون مسرور ہے اور کون رنجور!

میرے بھائی!آپ کسی چیز کے ظاہر کو دیکھ کر اس کے باطن کے بارے میں فیصلہ مت صادر کریں اور کسی کی ایک بات یا عمل کو اس کے اندرون کا پیمانہ مت بنائیں؛اس لیے کہ بہت سے ایسے لوگ جنھیں آپ ان کی قوتِ گویائی کے نقص یا بدویانہ لب و لہجے کی وجہ سے ناقابلِ التفات سمجھتے ہیں،ممکن ہے کہ وہ ذہانت و فطانت کا گنجینہ ہوں اور ان کا دل الہامِ خداوندی کا مہبط ہو۔ بہت سے وہ لوگ،جنھیں آپ ان کی بد صورتی یا معمولی طرزِ زندگی کی وجہ سے حقیر جانتے ہیں،ممکن ہے کہ وہ روے زمین کے لیے نعمتِ آسمانی اور خلقِ خدا کے لیے عطیۂ ربانی ہوں۔

بسااوقات ایک ہی دن میں آپ کا گزر محل سے بھی ہوتا ہے اور جھونپڑی سے بھی۔ ایک جگہ سے آپ مرعوب و مبہوت ہوکر نکلتے ہیں اور دوسری جگہ سے خوفزدہ و مایوس ہوکر؛لیکن اگر آپ ظاہری مناظر سے متاثر ہونا چھوڑ دیں تو آپ کے اندر پیدا ہونے والا رعب و ہیبت افسوس میں بدل جائے اور خوف تعظیم میں بدل جائے۔

صبح شام آپ کی دولوگوں سے ملاقات ہوتی ہے،ان میں سے پہلا آپ سے آندھی جیسی برق رفتار آواز میں بات کرتا ہے اور اس کی نقل و حرکت میں ایک لشکر جیسی قوت و شوکت نظر آتی ہے،جبکہ دوسرا شخص آپ سے ڈرتے ہوئے،شرماتے ہوئے،لڑکھڑاتے ہوئے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بات کرتا ہے۔ تو آپ ظاہر کو دیکھ کر پہلے شخص کو بہت بہادر، شجاع اور دوسرے کو بزدل اور کمزور سمجھ لیتے ہیں؛لیکن اگر آپ انھیں انقلاباتِ زمانہ سے دوچار ہونے یا کسی نصب العین کے لیے قربانی دینے کے موقعے پر دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ محض ڈینگیں ہانکنا بہادری نہیں ہے اور حیادار خاموشی بزدلی نہیں ہے۔

بسا اوقات آپ اپنے گھر کی کھڑکی سے جھانکتے ہیں، تو راہ گیروں میں آپ کو دائیں جانب سے ایک راہبہ گزرتی نظر آتی ہے، جبکہ بائیں طرف سے کوئی بدکار خاتون گزررہی ہوتی ہےـ یہ دیکھ کر فوری طور پر آپ کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ: راہبہ کتنی شریف و معزز خاتون ہے اور بدکار عورت کتنی بری ہے! لیکن اگر آپ اپنی نگاہ پھیریں اور ایک لمحے کو کان لگائیں، تو فضا میں ایک (الوہی) آواز گونجتی سنائی دے گی : ایک عبادات کے ذریعے میری طلب گار ہوتی ہے تو دوسری اپنے اوپر گزرنے والی تکلیفوں کے دوران مجھے یاد کرتی اور مجھی سے پر امید رہتی ہے، ان دونوں کی روحیں میری روح کا سایہ ہیں ـ

کبھی آپ تہذیب و ترقی کی تلاش میں روے زمین کا چکر لگاتے ہیں؛چنانچہ ایک شہر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں بلند و بالا عمارتیں ہیں،دیوہیکل سرکاری و غیرسرکاری ادارے ہیں،وسیع و عریض سڑکیں ہیں،لوگ اِدھر سے اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں،کوئی زمین کی پہنائیوں میں گھسا جارہا ہے، تو کوئی آسمان کی بلندیوں میں اڑ رہا ہے،کسی کے اندر بجلی سی تیزی ہے، تو کوئی ہوا سے باتیں کر رہا ہے،سب کے سب خوش قامت و خوش لباس ہیں،گویا وہ کسی تہوار یا میلے میں ہوں۔

کچھ دنوں بعد آپ کا گزر ایک دوسرے شہر سے ہوتا ہے، جہاں کے مکانات معمولی اور گلیاں تنگ ہیں،وہ شہر پانی اور بارش کی وجہ سے کیچڑوں میں لت پت ہوجاتا اور سوکھنے کے بعد مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اگر سورج اُدھر جھانکنا بھی چاہتا ہے تو غبار سے اَٹ کر لوٹ جاتا ہے۔ وہاں رہنے والے لوگ اب بھی نیچر اور سادگی کے بیچ اس طرح زندگی گزارتے ہیں جیسے کمان کے دونوں کناروں کے بیچ کی تانت۔ ان کی رفتار دھیمی،طریقۂ کارمیں آہستگی ہے،وہ آپ کو ایسے دیکھتے ہیں گویا ان کی آنکھوں کے پیچھے بھی آنکھیں ہیں، جو آپ سے دور کسی چیز کو گھورے جارہی ہیں۔آپ یہ سب دیکھ کر ناراضی و ناپسندیدگی کے احساس کے ساتھ دل میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل جاتے ہیں کہ:زندگی اور تہذیب کا یہی فرق ہے۔ وہاں طاقت و قوت کی فراوانی ہے اور یہاں ضعف اور کمزوری کی بے کرانی،وہاں خوشحالی کی بہار اور گرمی ہے اور یہاں بدحالی کی خزاں اور سردی ہے۔ وہاں تفریح گاہوں میں ہنگامہ پرور جوانیاں رقص کناں ہیں، تو یہاں بڑھاپے کا ضعف راکھ کے ڈھیر پر پڑا ہے۔

لیکن اگر آپ ان دونوں شہروں کو بصیرت کی آنکھ سے دیکھیں، تو آپ کو وہ ایک ہی باغ میں آس پاس موجود دودرخت محسوس ہوں گے۔ مزید غور سے دیکھنے کے بعد آپ کو ان کی حقیقت کا بھی ادراک ہوجائے گا ،پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ جسے آپ نے ترقی سمجھا تھا وہ تو محض وقتی چمک دمک ہے اور جسے آپ نے کمزوری و بدحالی جانا تھا،وہی تو اصل اور قوی الوجود مخفی جوہر ہے۔

یاد رکھیں کہ زندگی سطحیات نہیں؛بلکہ حقائق سے عبارت ہے، چیزوں کی ظاہری شکل پر نہیں جانا چاہیے؛بلکہ ان کے باطن پر نظر رکھنی چاہیے،لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر کوئی رائے مت قائم کریں؛بلکہ ان کے دل میں جھانک کر دیکھیں ۔

مذہب بھی عبادت گاہوں کے شکوہ اور ظاہری رسوم و روایات کا نام نہیں ہے؛ بلکہ اس کے کم و کیف کا اندازہ تو انسان کے دل اور اس کی نیتوں سے لگتا ہے۔

آرٹ بھی وہ نہیں ہے،جسے شور و شغب،نعرے بازی ، گانوں اور لفظوں کی گھن گرج کی شکل میں آپ سنتے ہیں یا اپنی آنکھوں سے جو نقوش،رنگ اور تصاویر دیکھتے ہیں؛بلکہ اصل آرٹ تو نغماتِ سرور کے بین السطور میں چھپے ہوئے خاموش فاصلوں میں پایا جاتا ہے۔ جو قصیدہ و غزل کہنے والے شاعر کی روح میں موجود وحشت،سکون و طمانیت کی شکل میں آپ تک پہنچتا ہے۔ جس کی طرف کوئی پینٹنگ یا تصویر اشارے کرتی ہے،تو آپ اسے دیکھتے ہوئے اس سے دور کسی خوب صورت چیز کو دیکھنے میں محو ہوجاتے ہیں۔

میرے بھائی!ان راتوں اور دنوں کا وجود ان کے ظواہر سے نہیں ہے اور میں جو ان کے جلو میں محوِ سفر ہوں،میں بھی اپنی باتوں کے ذریعے اپنے اندرون کا بہت معمولی اظہار کررہا ہوں۔ پس جب تک تمھیں میرے بارے میں پوری جانکاری نہ مل جائے،مجھے جاہل مت سمجھنا اور جب تک میری حقیقت کا کامل ادراک نہ ہوجائے،مجھے عبقری اور جینئس مت باور کرنا۔ میرے دل میں جھانکے بغیر کبھی یہ مت کہنا کہ یہ تو بخیل اور تنگ ہاتھوں والا ہے۔ نہ میری سخاوت کی وجہ کو جانے بغیر مجھے کریم النفس اور سخی صفت قرار دینا۔ میری محبت کے نوری و ناری پہلووں کو آزمائے بغیر اس پر فریفتہ مت ہونا اور میرے دل کے گھاؤ دیکھے بغیر کبھی مجھے صحت مندوں میں مت شمار کرنا ۔

(ماخوذ از:البدائع والطرائف،ص:۱۸۔۲۳،ط:الدرالنموذجیۃ،بیروت۲۰۱۴)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*