دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے(بیاد حضور تاجدارِ اہلِ سنت) ـ احمد سعید قادری بدایونی

(حضور تاجدارِ اہلِ سنت، فخر قادریت، حضرت شیخ عبد الحمید محمد سالم القادری – علیہ الرحمۃ والرضوان – کے وصال کے بعد ہی سے ذہن و دل عجیب کیفیت کے شکار ہیں، آپ سے وابستہ بےشمار یادیں پردہ ذہن پر اُبھر رہی ہیں سمجھ نہیں آرہا کیا لکھوں اور کیا چھوڑوں۔ بہرحال چند بے ترتیب سطریں لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ راقم)

کُچھ صدمات و حادثات ذہن و دل کو غم و اندوہ کی اننت کھائی میں دھکیل دیتے ہیں؛ جہاں سے لاکھ کوششوں کے باوجود بھی خلاصی نہیں ملتی۔ شعور و آگہی کی تمام روشنیاں ماتم و نوحہ گری کی تاریکی کی زنجیروں میں اِس قدر جکڑ جاتی ہیں کہ ذہن و فکر اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود بس ایک نقطۂ ہجر و فراق کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ دل میں حشر برپا کرنے والے جذبات کا سمندر جب زور مارتا ہے تو اُس کی بے قابو ہوتی لہروں سے پانی بھر، آنکھوں کا بادل برستے برستے، آنکھوں کے کشکول سے بہہ کر رخسار کے اُڑے ہوئے رنگ میں آنسوؤں کا رنگ بھرنے لگتا ہے، آواز رندھنے لگتی ہے، سانسیں طوفان کو دیکھ گھبراہٹ میں تیز تیز چلنے لگتی ہیں، دماغ جو اب تک سُن تھا اچانک اُس میں ایک شدید جھماکہ ہوتا ہے اور ارتعاش زدہ اُنگلیاں کاغذ پر بے ربط نقوش بنانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ بنتے مٹتے اِن نقوش میں کیا کچھ نہیں ہوتا؛ – آرزو، الفت، تمنّا، یاس، حسرت، درد و داغ – گو کہ ارتعاش کے عالم میں بھی اُنگلیاں صحرائے دل کو آباد رکھنے والے جذبوں کی بخوبی نشان دہی کر جاتیں ہے۔

یُوں تو ہم میں سے ہر کسی نے اپنے کسی نہ کسی عزیز کو کھویا ہے، ہمارے بہت سے چاہنے والے ہم سے بچھڑ گئے لیکن:
دکھ تو یہ ہے کہ میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے

حضور تاجدارِ اہلِ سنت، فخر قادریت، حضرت شیخ عبد الحمید محمد سالم القادری – علیہ الرحمۃ والرضوان – (آپ کے نام کے ساتھ علیہ الرحمہ لکھتے وقت جسم و جاں میں عجیب بے قراری کی لہر دوڑ جاتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیا ہو) – کا سانحہ ارتحال یُوں تو ہر اُس فرد کے لئے باعثِ رنج وغم ہے جو تصوف و اہل تصوف سے محبت و عقیدت رکھتا ہے لیکن آپ کے مریدین و متوسلین کے لئے یہ سانحہ قیامت سے کم نہیں ہے۔ خاص کر اُن لوگوں کے لئے جو روز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر آپ کے پند و نصائح سے مستفید ہوتے تھے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضرت اقدس جب بھی کسی کو حلقہ ارادت میں داخل کرتے تو کئی بار مرید ہونے والے سے پوچھتے کہ اپنی مرضی سے مرید ہو رہے ہو نا؟ کسی نے کوئی زبردستی تو نہیں کی ہے؟ اور جب وہ شخص عرض کرتا حضور اپنی مرضی سے آپ کے غلاموں میں شامل ہونا چاہتا ہوں تبھی مرید فرماتے اور مرید کرنے کے بعد سب سے پہلے اُس کو نماز کی پابندی کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے؛ "کہ اب سے کوئی نماز قضا نہیں ہونی چاہئے”ـ
یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں خاص شہرِ بدایوں کا رہنے والا ہوں اور وہ بھی خانقاہ سے صرف ۵ منٹ کے فاصلے پر۔ بچپن سے ابّا کے ساتھ حضرت اقدس کی بارگاہ میں حاضری ہوتی آئی ہے اب چونکہ عمومًا بدایوں و بیرون بدایوں کے اہلِ ارادت اپنے بچّوں کا نام حضرت اقدس سے رکھوانے کو باعث مسرت و سعادت سمجھتے تھے لہٰذا راقم کا نام بھی آپ ہی نے "احمد سعید” عنایت فرمایا اور "بسم اللہ” خوانی بھی آپ ہی کی شفقتوں کے سائے میں ادا ہوئی۔
۲۰۰۵ تا ۲۰۱۵ مدرسہ عالیہ قادریہ میں زیرِ تعلیم رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے کی سعادت بھی۔
مُجھے اچّھی طرح یاد ہے اور میرے وہ ساتھی جنہوں نے مدرسہ عالیہ قادریہ سے حفظ قرآن کیا وہ بھی اس بات کی تائید کریں گے کہ جب کبھی کسی طالب علم کا حفظ قرآن مکمل ہوتا اُس موقعے پر، وہ طالب علم اور متعلقہ استاذ و دیگر طلبا و مدرسین کی موجودگی میں حضرت اقدس کے سامنے فاتحہ خوانی ہوتی۔ خوشی میں حافظ متعلم حضرت اقدس کی گل پوشی کرتا نیز متعلم کے گھر والے بھی آپ کی گل پوشی کرتے، جس پر آپ فرماتے” ارے! مُجھے نہیں حافظ صاحب کو ہار پہناؤ” اور اکثر و بیشتر اپنے گلے کا ہار اُتار کر طالب علم کو پہنا دیتے۔ اسی طرح رمضان مبارک کے قریب کوئی حافظ طالب علم آپ سے ملاقات کو جاتا تو پوچھتے، "قرآن سناؤ گے؟” طالب علم نیازمندانہ عرض کرتا، "جی حضور”ـ تو خوش ہو کر پیٹھ تھپتھپاتے اور دعاؤں سے نوازتےـ
حالانکہ آپ کا کسی طالب علم کی کسی کارکردگی سے خوش ہوکر چند دعائیہ کلمات سے نوازنا ہی ہمارے لئے باعث افتخار و مسرت کی بات تھی پھر بھی طلبہ کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ایسے مبارکباد پیش کرکے حوصلہ افزائی فرماتے جیسے ہم نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہو نیز ڈھیروں دعائیں ہمارے تہی دامن میں ڈال دیتے۔
اچھا! امتحان کے دنوں میں ہم سب لوگ اپنے اپنے قلم پڑھوانے کے لئے حضرت اقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو مُسکراکر فرماتے، "صرف قلم پڑھوانے آگئے کہ کچھ تیاری بھی کی ہے”۔ ہائے! وہ تبسّم ناز جو ہر دُکھ کا درماں، ہر غم کا مداوا تھا اب کبھی میسر نہ ہوگا۔
حضرت اقدس کی سادگی، تواضع و انکساری، خوش اخلاقی، ملنساری، بندہ پروری و بندہ نوازی کی نظیر خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہے اب دیکھیں نا، آپ کے پاس کوئی بھی شخص آئے سلام کرنے میں حضرت ہمیشہ پہل فرماتے تھے، یہاں تک کہ خانقاہ میں آپ کی نششت کے پاس جو ٹیلیفون رکھا ہوا ہے اگر اُس پر بھی کوئی کال کرے تو حضرت سلام کرنے میں پہل کرتے نظر آتے۔ کوئی گاؤں سے ملنے کے لئے آیا ہے تو اپنائیت میں اُس سے اُسی کے انداز میں بات کر رہے ہیں، گاؤں والوں کی خیریت دریافت فرما رہے ہیں تو کبھی کسی مرید کا نام لیکر حال احوال معلوم کررہے ہیں۔ حد تو یہ کہ اگر پیدل کہیں جا رہے ہیں (جیسا کہ عمومًا جمعہ کو صبح درگاہ قادری تشریف لے جایا کرتے تھے) اور راستے میں لوگ مل گئے تو رُک کر سلام کرتے اور حال احوال معلوم کرتے۔
آپ کی تواضع و انکساری کا ایک واقعہ پردہ ذہن پر اُبھر رہا ہے لہٰذا آپ بھی سن لیں، ہمارے محلے میں ایک صاحب ہیں جو گیس سلینڈر ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں، نام تو اُن کا مجھے بھی نہیں معلوم البتّہ سب لوگ اُنہیں "سلَّن بھائی” کہتے ہیں، حضرت مرشد گرامی سے مرید ہیں، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ سلَّن بھائی سلینڈر ڈیلیوری کرنے کے لئے جارہے ہوتے اور سامنے سے مرشد گرامی کی کار آ جاتی، حضرت قبلہ چونکہ آگے کی سیٹ پر تشریف رکھتے تھے لہٰذا سلَّن بھائی کو دیکھتے ہی شیشہ نیچے کرکے مسکراتے ہوئے سلَّن بھائی کو مخاطب کرتے اور انتہائی محبت بھرے انداز میں "السلام علیکم سلَّن بھائی” کہتےاور خیریت دریافت فرماتے۔ (اِس منظر کا بارہا خود راقم نے مشاہدہ کیا ہے۔)
آج عید ہے اِس لئے:
سادگی ہائے تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
پردۂ ذہن پر ره رہ کر اُن لمحوں کی یادیں اُبھر رہی ہیں جو عید کی صبح حضرت اقدس کی صحبت میں گزارے جاتے تھے، ہر ارادت مند کا عید کی نماز کے بعد سب سے پہلا کام حضرت اقدس کی قدم بوسی کرکے عید کی مبارکبادی اور ڈھیروں دعائیں حاصل کرنا ہوتا تھا اور کیوں نہ ہو جب امیر خسرو اپنے بدایونی مرشد سلطان المشائخ حضور نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی شان میں یہ کہہ دیں:
عید گاہِ ما غریباں کوئے تو
انبساطِ عید دیدن روئے تو
(ترجمہ: ہم غریبوں کی عیدگاہ تو بس تیری گلی ہے اور عید کی اصل خوشی تیرے دیدار سے ہی ملے گی۔)
تو پھر آج کے بدایونی مرید اپنے بدایونی پیر کے رخ روشن کو دیکھے بغیر کیسے عید کو عید مان سکتا ہے؟ ہماری خوشیوں میں چار چاند تو اپنے میر مجلس کا دیدار کرنے کے بعد ہی لگتے تھے مگر اب:
حاصل اُس مہ لقا کی دید نہیں
عید ہے اور ہم کو عید نہیں