دکھ تو ایسا ہے کہ دل آنکھ سے کٹ کٹ کے بہے(۳)- نایاب حسن

استاذِ محترم مولانا نور عالم خلیل امینی کی یاد
(تیسری قسط)

عربی زبان و ادب اور مولانا:من تو شدم تو من شدی
مولانا نورعالم خلیل امینی اِس دور میں ہندوستان کی سطح پرخصوصا اور برصغیر کی سطح پر عموماً عربی زبان کے بے مثال ادیب ، معلم،مصنف اور صحافی تھے۔ اس زبان سے ان کی رسم و راہ تو طالب علمی کے ابتدائی دنوں میں ہی ہوئی،مگر مضبوط رشتہ دارالعلوم دیوبند میں داخلے اور مولانا وحید الزماں کیرانوی کی شاگردی میں آنے کے بعد قائم ہوا، جو مدرسہ امینیہ کی ایک ڈیڑھ سالہ طالب علمی اور ندوۃ العلما کی دس سالہ تدریس ، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ ،مولانا محمد الحسنیؒ کی بافیض صحبتوں اور اسی زمانے میں عربی ادب کی امہاتِ کتب مثلاً ’’وفیات الأعیان‘‘،’’الأمالي لأبي علی القالي‘‘ اور جاحظ کی شہرۂ آفاق ’’البیان والتبیین‘‘ کے علاوہ دیگر قدیم و جدید عربی ادیبوں کی کتابوں کے مطالعے کی وجہ سے دن بدن پختہ تر اور اٹوٹ ہوتا گیا،بعد کی زندگی میں مسلسل عربی زبان کی تدریس،تصنیف اور صحافت و تحریر کی وجہ سے یہ زبان ان کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی اور وہ اس منزل پر پہنچ گئے تھے کہ خود مختلف المعانی تعبیرات و تراکیب خلق کرتے اور انھیں اپنی تحریروں میں بڑی خوبی اور مہارت سے کھپاتے۔ عربی وہ بولتے بھی اچھا تھے،مگر لکھتے بہت ہی اچھا تھے اور ان کا ارتکاز زیادہ تر اسی پر تھا۔ ان کی تحریروں میں تنوع بلا کا پایا جاتا تھا اور الفاظ و عبارات میں شوخی و رنگینی اور شوکت و عظمت کے عناصر بہ تمام و کمال موجود ہوتے ۔ تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد باضابطہ جون۔ جولائی ۱۹۷۲ سے مولانا سرگرمِ عمل ہوئے،شروع کے دس سال دارالعلوم ندوۃ العلما میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اگست ۱۹۸۲سے تا حینِ حیات دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان و ادب کے استاذ اور یہاں سے شائع ہونے والے مجلہ ’’الداعی‘’کے رئیس التحریر(مدیرِ اعلیٰ)رہے(یہ رسالہ ابتداءاً پندرہ روزہ تھا اور جون ۱۹۷۶ میں اس کا پہلا شمارہ مولانا بدرالحسن قاسمی(حال مقیم کویت) کی ادارت میں نکلا تھا۔ مولانا امینی کی ادارت میں اکتوبر ۱۹۸۲ سے جولائی ۱۹۹۳ تک پندرہ روزہ نکلتا رہا اور اسی سال اگست کے مہینے سے مولانا نے اسے ماہ وار کردیا،تب سے اب تک ماہ وار ہی نکل رہا ہے) ،گویا ان کی حیاتِ عملی کا ہر لمحہ عربی زبان و ادب سے وابستہ تھا اور ان کی خدمت کا ہر زاویہ اسی ایک مرکز پر آکر ٹھہرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مولانا نہ صرف عربی زبان کے منفرد ادیب و مدرس و صحافی اور مصنف تھے؛بلکہ ان کے رگ و ریشے اور روح تک میں یہ زبان پیوست ہوگئی تھی،وہ اس زبان کے رموز و اسرار پر کامل عبور رکھتے تھے،وہ عربی ہی میں سوچنے لگے تھے اور عربی زبان کی خدمت کو وہ اتنا ضروری خیال کرتے تھے،جیسے سانس لینا،جیسے کھانا پینا،جیسے عبادت کرنا ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ دورانِ درس اپنے شاگردوں کو اس زبان کا درس عجیب ہی جوش و خروش کے ساتھ دیتے،زبان کے الفاظ و عبارات اور اسالیبِ اظہار و ادا سے ہی نہیں،اس کی روح تک سے آشنا کروانے کی کوشش کرتے ۔ کلاس میں آنے،بیٹھنے،حاضری کی کارروائی کی تکمیل کے بعد پوری کلاس پر ایک مخصوص نگاہ ڈالتے،پھر جس طالب علم کو چاہتے،عبارت پڑھنے کے لیے کہتے اور اس دوران اس کے چہرے کے نقوش و خطوط سے لے کر اس کی زبان سے ادا ہونے والے جملوں اور الفاظ کی نشست و برخاست،آواز کے زیر و بم،لہجہ اور اندازِ ادا کے اتار چڑھاؤ،وقفوں اور سکتوں کے مقامات کی رعایت تک پر بھی گہری نگاہ رکھتے۔ وہ روایتی مدرسی نظام کے برخلاف عربی زبان کو اس کے اصل مزاج و نہاد کے مطابق بولنے،پڑھنے اور لکھنے کی تاکید کرتے تھے اور اگر کسی نے بگڑے ہوئے لہجے یا ہندوستانی آمیز انداز میں عبارت پڑھ دی،تو کئی منٹ تک وہ مولانا کے عتابِ شدید سے دوچار رہتا تھا؛ یہی وجہ ہے کہ جہاں مولانا کے اسباق کی شگفتگی،افادیت کی فراوانی،مولانا کی استاذانہ فیاضی،ان کا دلنشیں طرزِ تدریس و عطا ہر طالب علم کو ان کی کلاس تک کشاں کشاں لے جاتا،وہیں اگر کوئی طالب علم کم ہمت و کسل مند اور مولانا کے اعلیٰ معیارِ ادبی و لسانی کو سہارنے کا بوتا نہیں رکھتا،تو وہ ایک درجے میں خائف بھی رہتا تھا کہ کہیں آج اسے نہ عبارت پڑھنے کے لیے کھڑا کردیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا کی کلاس جہاں ان کے پر لطف طرزِ تدریس، ظریفانہ مزاج اور وقتاً فوقتاً قہقہہ ریز باتیں کرنے کی وجہ سے زعفران زار بنی رہتی تھی،وہیں ان کا غیر معمولی رعب بھی طلبہ پر چھایا رہتا تھا۔ طالب علم سے عبارت پڑھوانے کے بعد پھر خود متعلقہ سبق کی عبارت نہایت صاف،شستہ اور واضح عربی لہجے پڑھتے،اس کے بعد اس کے ایک ایک جز کی ہندی کی چندی کرتے،بتاتے کے یہاں فلاں لفظ کے کیا معنی ہیں اور آپ اپنے جملوں میں اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ وہ سبق میں وارد ہونے والے مفردات و مرکبات،افعال و اسما اور صلات و تعبیرات کی جملہ خصوصیات پر مفصل روشنی ڈالتے،انھیں لکھواتے اور ان پر اتنے جملے بنانے اور مشق کرنے کی تاکید کرتے کہ وہ تمام تعبیرات از برہوجائیں،پھر کبھی بھی آپ بے تکلف انھیں اپنی تحریر یا تقریر میں برت سکتے ہیں۔ مولانا عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے درجۂ اجتہاد پر فائز تھے،انھوں نے پیش پا افتادہ طریقۂ تدریس کے برخلاف اپنے طلبہ کو زبان سیکھنے کی نئی راہیں سجھائیں اور نئے اسالیبِ تفہیم سے روشناس کروایا(ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے اپنے مضمون میں مثالوں سے مولانا کی تدریسی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے،اسے پڑھنا چاہیے)وہ کتاب پڑھانے سے زیادہ توجہ فن کو پڑھانے اور سکھانے پر دیتے تھے،سو جو سنجیدہ ،محنتی اور اپنے نصب العین سے آگاہ طالب علم ہوتے،وہ مولانا سے بیش از بیش فائدہ اٹھاتے۔ کامیاب اور باتوفیق و فیض رساں استاذ کے حوالے سے عربی زبان میں ایک مقولہ ہے’’لایکون المعلِّمُ مُعلِّمًا حتّٰی یَکونَ مُلھَمًا‘‘ یعنی ایک استاذ اس وقت تک صحیح معنوں میں استاذ نہیں ہوسکتا،جب تک وہ اس مقام پر نہ پہنچ جائے کہ اسے الہام ہونے لگے کہ طلبہ کو پڑھانے کا نتیجہ خیز طریقہ کونسا ہے،اس کی درسی مشکلات کیسے دور کرنی ہیں اور اس کی علمی ضروریات کی تکمیل کیسے کرنی ہے۔ مولانا نے اپنے محبوب استاذ مولانا کیرانوی کو ان کی غیر معمولی معلمانہ و مربیانہ خوبیوں کی وجہ سے اس مقولے کا مصداق قرار دیا ہے۔(پس مرگ زندہ،ص:۲۸۱،ط :ادارہ علم و ادب،دیوبند ۲۰۱۰)۔ مگر جنھوں نے مولانا کیرانوی کو نہیں دیکھا،نہ ان سے براہِ راست استفادے کا انھیں موقع ملا،ہاں! وہ مولانا نور عالم خلیل امینی کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے میں کامیاب رہے،وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا بھی اپنے دور کے’’معلمِ ملہَم‘‘ تھے، جن کے اندر طالب علموں کی خفتہ استعداد کو بیدار کرنے،خام صلاحیتوں کو پختہ کرنے،ان پر سان چڑھانے ، انھیں نکھارنے، سنوارنے،روشن اور تیز کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت تھی۔ دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان و ادب کی تدریس و تحریر کے عصری اسلوب کی ترویج کے حوالے سے ستر کی دہائی میں مولانا وحید الزماں کیرانوی نے جو انقلاب برپا کیا تھا،اللہ نے اس کی توسیع و ترقی کے لیے انہی کے بے مثال شاگرد مولانا نور عالم خلیل امینی کا انتخاب کیا،ان کے دم سے دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان و ادب کا چمن پُر بہار رہا،اس میں رنگ برنگ کے پودے لگتے،پھول اُگتے اور کھلتے رہے،جن کی خوشبوئیں ہند و بیرونِ ہند کے دوردراز کے خطوں اور گوشوں کو مہکاتی رہیں۔
عربی زبان کے تئیں مولانا کا عشق بے پناہ تھا اور اس زبان سے ان کی شیفتگی خود سپردگی کی حد تک پہنچ چکی تھی؛چنانچہ وہ اس زبان سے والہانہ لگاؤ،اسے سیکھنے اور اس میں مہارت بہم پہنچانے کو مذہبی فریضے کا درجہ دینے لگے تھے؛یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ اس زبان کی تدریس میں اپنی ساری استاذانہ مہارت و توانائی اور جدت و ابتکارِ فکر سے کام لیتے رہے،وہیں جدید نہج پر عربی زبان سکھانے والی ایک مفید ترین کتاب’’مفتاح العربیہ‘‘کے نام سے دو جلدوں میں تالیف کی۔ پہلی جلد،مکتبہ دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام پہلی مرتبہ دسمبر ۱۹۹۷ میں شائع ہوئی،جبکہ دوسری جلد کی پہلی اشاعت اپریل ۱۹۹۸ میں عمل میں آئی۔ اس کے بعد سے اب تک اس کے لاتعداد ایڈیشن چھپ چکے ہیں،یہ دارالعلوم دیوبند،اس سے تعلیمی و فکری ہم آہنگی رکھنے والے دیگر ہزاروں مدارس کے علاوہ پورے برصغیر کے سیکڑوں عربی مدارس،اسکولوں اور کالجز میں داخلِ نصاب ہے اور ابتدائی عربی درجات کے طلبہ کے لیے نہایت مفید ہے ۔ اس کے علاوہ اس زبان کو سیکھنے کی تحریض و ترغیب دینے کے لیے ۲۰۱۵ میں ایک کتاب لکھی، جس کا عنوان تھا’’تعلمواالعربیۃ فإنھا من دینکم‘‘عربی سیکھو کہ یہ زبان تمھارے مذہب کا لازمی جزہے اور اس کے ذریعے تمام صاحبانِ شعور کو عربی زبان سیکھنے،اس کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرنے اور اس کے فروغ و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے پر ابھارا،مہیز کیا۔ اس میں انھوں نے شرعی نصوص کی روشنی میں نہ صرف عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی مذہبی اہمیت کو واشگاف کیا ہے؛بلکہ فی زمانہ معاشی استحکام کے حصول میں اس زبان کے غیر معمولی کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس میں جہاں اس زبان کو سیکھنے کے طریقوں اور اسالیب کی نشان دہی کی ہے،وہیں حالیہ دور میں ہندوستان کے مدارس اور جامعات میں عربی زبان پر خاص توجہ دیے جانے پر اپنی قلبی خوشی و اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے اور عالمِ عربی سے اپیل کی ہے کہ وہ بلادِ عجم میں عربی کے کاژ کو تقویت پہنچانے والے افراد اور اداروں کی تشجیح و تحسین میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لے۔ اسی طرح لسانی و ادبی اور معاشی و اقتصادی شعبوں کی ضروریات کے علاوہ دعوت و تبلیغ کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھی اس زبان میں مطلوبہ دست گاہ کے حصول پر زور دیا ہے اور مولانا نے بتایا ہے کہ اپنی بات کو عالمی سطح پر بہتر اور مؤثر ،خوب صورت اور احسن طریقے سے پیش کرنے اور ربانی پیغامات و تعلیمات کو خلقِ خدا تک اثر انگیز ،ساحرانہ اور دل میں اترنے والے اسلوب میں پہنچانے کے لیے بھی فصیح عربی زبان سے کامل آگاہی ضروری ہے،پڑھنے کی سطح پر بھی اور لکھنے ،بولنے کی سطح پر بھی۔ الغرض یہ کتاب ہمارے سامنے ان تمام اسباب و عوامل کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے،جو ہمیں عربی زبان سیکھنے،اس میں فنکارانہ مہارت حاصل کرنے اور اس زبان میں تحریر و تقریر کی بھرپور استعداد بہم پہنچانے پر ابھارتے ہیں۔
عربی زبان کے تئیں مولانا کی غیر معمولی وارفتگی کا ہی نتیجہ تھا کہ درسِ نظامی کے عمومی ماحول کے برخلاف مولانا کو نصابی کتابوں کی اردو شرحوں ؛بلکہ ان شرحوں کے لکھنے والوں سے بھی ایک قسم کی چڑ تھی،وہ اردو شروح کو طلبہ کے لیے سمِ قاتل قرار دیتے،میں نے خود ’’درسِ نظامی‘‘کی کتابوں کے ایک بڑے مشہور شارح کے حوالے سے انھیں کہتے ہوئے سنا کہ انھیں خود بھی عربی نہیں آتی ہے؛اس لیے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی کو عربی نہ آئے اور ہر دوچار مہینے میں ایک شرح لکھ دیتے ہیں۔
(جاری)