دیسنہ لائبریری کی داستان

از ڈیوڈ بوئیک
تلخیص و ترجمہ:محمد سجاد

(پروفیسر محمد سجاد ،شعبۂ تاریخ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

نوٹ:ڈیوڈ بوئیک کا یہ مضمون، موناش یونیورسٹی، آسٹریلیا کے موقر جریدہ، ساؤتھ ایشیا: جرنل آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز، ، مئ 2020، کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ یہ شمارہ جنوبی ایشیا کے کتب خانوں پر ایک خاص نمبر ہے۔ بوئیک نے پٹنہ کے اردو معاشرے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے، اور امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں ایشیائی زبان و تہذیب کے مدرس ہیں۔ اردو قارئین کے لئے اس انگریزی مضمون کا اردو تلخیص پیش ہے۔

صوبہ بہار کی راجدھانی پٹنہ سے 65 کلومیٹر جنوب مشرق میں اور بہار شریف سے 14 کلو میٹر کی دوری پر بسا گاؤں دیسنہ دینی ، ادبی و دیگر علوم میں مشاہیر پیدا کرنے کی وجہ سے خاصا معروف ہو چکا ہے۔ سید شہاب الدین دسنوی کی آپ بیتی دیدہ و شنیدہ (1993)، سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جیرائین ندی کے کنارے بسی اس بستی کی شہرت بہت دور تک تھی۔ شمالی ہند کے دوسرے قصبوں ہی کی طرح دیسنہ میں بھی مسلم خواص اور دانشور تھے، لیکن دیگر قصبوں کے مقابلے، دیسنہ کا امتیاز یہ تھا کہ یہاں ایک اہم لائبریری بھی تھی، جسے الاصلاح لائبریری کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہاں ہزاروں کتابوں کا کلکشن تھا، بیشتر اردو میں اور یہ لائبریری کسی ایک فرد کے بجائے اس قصبے کی اجتماعی کاوش کا ثمرہ تھی۔ جس کے ارد گرد نو آبادیاتی، نا موافق حالات میں دیہی مسلمانوں کے خواص نے اپنی تہذیبی شناخت کی تحفظ کے لئے قابل ستائش اقدام کئے۔
سنہ 1899میں اس بستی یا قصبہ میں ایک انجمن یا کلب کا قیام ہوا، اس انجمن کا پہلے نام رکھا گیا "مذاکرۂ علمیہ” اور 1904 میں اسے "انجمن الاصلاح” کا نام دیا گیا۔ اس میں دیسنہ کے بشیرالحق اور عبدالحکیم، خاص طور پر پیش پیش تھے، جو سر سید کے اصلاحی خیالات و اقدام سے متاثر تھے۔
اسی انجمن نے یہ لائبریری قائم کی تھی۔ کچھ نوجوان آپس میں کتابوں کی لین دین کرتے تھے، اس شعور کے ساتھ کہ تعلیم، تہذیب، تربیت، کو ایک مہذب زندگی کا اہم ترین پہلو مانتے تھے۔ (عبدالقوی دسنوی، مرتبہ، ایک اور مشرقی کتب خانہ: کتب خانۂ الاصلاح، دیسنہ، پٹنہ، 1954)۔
عبدالحکیم کے مکان کے ایک کمرے سے یہ لائبریری شروع ہوئی اور اسے امام باڑہ کے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔
اس انجمن نے کم وقفے میں ہی اردو کتابوں اور رسالوں کا ایک بڑا ذخیرہ اکٹھا کر لیا۔ 1905 میں ہی 800 سے زائد کتابیں اور ان کے علاوہ متعدد رسائل جمع کر لئے گئے تھے۔ 1930 کی دہائی میں یہ تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی تھی، اور تب صوبائی حکومت سے کچھ امداد بھی ملنے لگی، اور اس کی اپنی عمارت قائم ہو گئی۔ 1960 میں جب یہ پٹنہ منتقل کی گئی تب آٹھ ہزار سے زیادہ کتابیں تھیں۔ اردو، عربی، فارسی، انگریزی کے علاوہ ہندی کی کتابیں بھی اس کلکشن میں آ چکی تھیں۔ 150 سے زیادہ، مسودے (manuscripts) تھے۔ اردو زبان کے تقریباً سبھی اہم رسائل کی مکمل فائلیں اور جلدیں دستیاب تھیں۔ 1909 میں اس لائبریری نے ایک مدرسہ بھی قائم کیا، اور 1918 میں "جمیعت الطلبا” کا بھی قیام ہوا۔ قصبہ کے قبرستان کی دیکھ ریکھ، اور شادیوں کے لئے برتن، وغیرہ کی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داریاں اب یہ ادارہ بنانے لگا تھا۔
بشیر الحق تو اپنے بچپن سے ہی اس کام میں سرگرم تھے، جو بعد میں پولیس انسپکٹر بن گئے۔ نجیب اشرف ندوی نے ، کلکتہ میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں، فورٹ ولیم کالج کی کلکشن اور خیام کی رباعیات (سولہویں صدی عیسوی) کی نادر کلکشن بھی لاکر اس لائبریری کی زینت افزائی کی۔
دیگر لوگوں کی اجتماعی خدمات اور علمی دلچسپی کا ذکر "دیدہ و شنیدہ” (1993) میں تفصیل سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس نے حکیم چچا یا حکیم بھائی کے حکم کی تعمیل نہ کی، سمجھو کہ وہ اپنے وطن دیسنہ کا نہیں مانا جائے گا۔ اس طرح دیسنہ کے لوگوں کا اپنے قصبہ یعنی وطن سے گہرے جذباتی لگاؤ کا ذکر ملتا ہے۔ جس کو گاؤں یا موضع کہہ کر پکارتے تھے اور ایک اجتماعی شناخت کے طور پر اس تعلق کا اظہار کرتے تھے۔
اس انجمن کے سالانہ جلسوں میں نہ صرف دیسنہ کے لوگ (جو ملک کے مختلف علاقوں میں رہ رہے تھے) بلکہ شمالی ہند کے دانشور اور سیاست دانوں کی بھی شرکت ہوا کرتی تھی۔ راجندر پرشاد، شفیع داؤدی، شوکت علی، سید محمود، جے بی کر پلانی، وغیرہ نے اس لائبریری اور اس انجمن کی علمی سرگرمیوں کی تعریفیں کیں۔ انجمن ترقی اردو کے بانی مولوی عبدالحق نے 1938 میں کہا کہ اردو کتابوں اور رسالوں کا جیسا کلکشن دیسنہ لائبریری میں ہے، ویسا تو بڑے شہروں کی لائبریریوں میں بھی نہیں۔
شروع میں اہل دیسنہ لائبریری نے اس ادارے کو ہندی کے اردو مخالفت کے رویے کی مزاحمت کرتے ہوئے، اردو تہذیب کے دفاع اور ترقی کے لئے ، ایک اہم مرکز اور ادارہ کے طور پر دیکھا، اور پیش کیا۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کا یہ وہ عہد تھا، جب اردو اور ہندی اور ہندو اور مسلمان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات ظاہر ہو رہے تھے۔ اس عہد میں قائم کی گئی دوسری لائبریریوں ہی کی طرح اس لائبریری اور اس کی کتابوں کو بھی دانشورانہ اور سیاسی جنگ لڑنے کے آلہ کار کے طور پر دیکھا گیا۔ اہل دیسنہ کو اپنے اس رول پر فخر تھا، اور یہ افتخار اس عہد کے ہندوستان کے اردو بولنے والے مسلمانوں کے شبہات، خدشات (anxieties) اور توقعات (aspirations) کی بھی غمازی کر رہا تھا۔ اور اس طرح وہ لوگ شریف نستعلیق اردو تہذیب کے محافظ کے طور پر اس ادارے کی آبیاری کر رہے تھے۔
تقسیم ہند نے شمالی ہند کے مسلمانوں کو کئی اعتبار سے متاثر کیا، دیسنہ اور اس کی لائبریری بھی متاثر ہوئی۔ یوں تو اس قصبہ میں تشدد اور خوں ریزی نہیں ہوئی، لیکن دیسنہ کے کئی لوگ پاکستان ہجرت کر گئے۔ جو لوگ یہاں رہ گئے ان کو اس لائبریری کے مستقبل کی فکر ہونے لگی۔ سنہ 1960 میں اس لائبریری کو خدا بخش لائبریری، پٹنہ میں منتقل کر دیا گیا، جہاں "دیسنہ کلکشن”، کے نام سے یہ سیکشن جانا جاتا ہے۔ اس پر آج بھی دیسنہ والوں کو بجا طور پر فخر ہے، اور یہ افسوس بھی ہے کہ دیسنہ سے اس لائبریری کو منتقل کر نا پڑا۔ کراچی میں دیسنہ ویلفئر ایسوسی ایشن ہے جس سے ہند و پاک اور دیگر ممالک میں بسے دسنوی لوگ یا دیسنہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔
اتر پردیش کے قصباتی مسلم خواص کی طرح ہی، دیسنہ کے مسلم خواص بھی اپنے اجداد کو مغل حکمرانوں کی عطا کی ہوئی جاگیروں اور منصبوں سے تعلق رکھنے والا بتاتے ہیں، گو کہ ان کے مطابق، وہ لوگ مغلوں سے قبل ہی یہاں آ کر بس گئے تھے۔
دیسنہ سے 19ویں صدی کے اخیر اور بیسویں صدی کی شروعات میں کئی دانشور اور ادیب پیدا ہوئے۔ ان میں زیادہ شہرت سید سلیمان ندوی (1884-1952) کو ملی، جو مورخ، دینی علوم کے دانشور، دارالمصنفین، یعنی شبلی اکیڈمی، کے رسالہ معارف کے بانی اور علامہ شبلی نعمانی کے شاگرد خاص کے طور پر معروف ہیں۔ کئی اور دسنوی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ، اسلامیہ، دارالعلوم ندوة العلما (لکھنؤ) جیسے معروف اداروں سے تعلق کی وجہ کر اور کئی معروف رسالوں میں لکھنے کی وجہ سے گیا، لاہور، اورنگ آباد، وغیرہ جیسے دور اور نزدیک کے خطوں میں شہرت و احترام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ایسے ہی رسالوں میں ایک رسالہ تھا الپنچ، پٹنہ، جس سے دیسنہ اور استھا نواں کے لوگ کئی اعتبار سے منسلک تھے۔ اور اس طرح گاؤں، قصبات، شہروں کو آپس میں جوڑ کر ایک صوبائی اردو پبلک اسفیئر (Public Sphere) کی تعمیر کی۔ یعنی دیسنہ ایک دور افتادہ بستی تھی لیکن اہل دیسنہ نہ تو علیحدگی (isolation) کے شکار تھے اور نہ ہی علمی و اصلاحی اعتبار سے تساہل کے شکار تھے۔ اپنی تہذیبی، اصلاحی، علمی و ادبی سرگرمیوں کے لئے یہ لوگ نہ تو بڑے شہروں پر منحصر تھے نا ہی وہ ان کی طرف کسی امید سے دیکھ رہے تھے۔

اس طرح دیسنہ کا یہ ادارہ ایک زوال آمادہ قوم کو اس کی پست ہمتی اور حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات سے نکال کر، تعلیم و اصلاح کے معرفت، خود اعتمادی بحال کرنے کا ایک نایاب طریقہ تھا، جسے مستشرقین (Orientalists) کی اسلام سے متعلق تنقیدوں کا دانشورانہ جواب دینے والے دانشور تیار کرنے کے آلۂ کار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
خدا بخش خاں بھی پٹنہ میں یہی کر رہے تھے، لیکن دیسنہ میں یہ کسی ایک شخص کے بجائے، پوری بستی کی اجتماعی کوشش تھی۔ اور رضا لائبریری (رام پور) سے بھی مماثلت کے باوجود یہ مختلف یوں تھی کہ دیسنہ کی لائبریری کو کسی ایریسٹو کریسی کی مالی امداد، سر پرستی یا پشت پناہی حاصل نہیں تھی۔
عبدالحکیم کے مطابق دیسنہ میں مدرسہ قائم کرنے کا ایک اضافی مقصد یہ بھی تھا کہ: تعلیم کی غرض سے بچوں کو شہر بھیجنے پر شہری مادیت کے زیر اثر بچوں میں اخلاقی پستی آنے کا خدشہ رہے گا، کھانا بہتر نہ ہونے کی وجہ سے، صحت خراب ہو گی، گاؤں کے مدرسہ میں کرتا پاجامہ اور سلیپر چپل سے بھی کام چل جائے گا جب کہ شہر میں کوٹ پتلون اور جوتے پہننے پڑیں گے، اور بازار کی مٹھائی دیکھ کر جو لالچ آئے گی اور انہیں خریدنے کی استطاعت نا ہوگی تو پھر یا تو بچوں کی حوصلہ شکنی ہوگی، مایوسی ہوگی، غربت کا احساس ہوگا یا پھر چور اچکے بن جائیں گے۔

بہر کیف، 1947 میں جو ملک کا بٹوارہ ہوا اس کے لئے دیسنہ کے لوگ ذہنی طور سے تیار نہیں تھے۔ شہاب الدین دسنوی کے مطابق، دیسنہ کے مضافات میں 1945 کے فسادات کا گہرا اثر پڑا، گرچہ دیسنہ میں کوئی فساد نہیں ہوا تھا۔ فوجیوں کا حصار کھڑا کر دیا گیا۔ خوف کا ایک ماحول تھا۔ دسنہ کے کئی لوگ پاکستان ہجرت کر گئے۔ ذاکر حسین 1957 میں بہار کے گورنر مقرر ہوئےاور شہاب الدین دسنوی بمبئ سے انہیں خطوط لکھ کر انہیں دیسنہ لائبریری کی تحفظ کے لئے آمادہ کرنے لگے۔ گورنر صاحب نے وہاں آنے کا وعدہ اور وقت دیا۔ ان کے خیر مقدم کے لئے ملک کے مختلف شہروں میں مقیم اہل دیسنہ اپنے گاؤں (وطن) آئے تو ایسا لگا کہ دیسنہ کی ویرانی اب پھر سے اسی پرانے چہل پہل میں تبدیل ہو گئ۔ لیکن یہ تو بجھتے شمع کا آخری دھواں ثابت ہوا۔

لائبریری کی بہتر دیکھ دیکھ کے لئے اہل دیسنہ کا ایک گروپ اسے پٹنہ منتقل کرنے کے لئے گورنر صاحب سے رجوع کرتے رہے، دوسرا گروپ اس کی مخالفت کرتا رہا۔ لیکن 1960 میں اسے خدا بخش پبلک لائبریری، پٹنہ، میں منتقل کر دیا گیا، جہاں اب اسے سرکاری فنڈ کی مدد سے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جذباتی طور پر، اس منتقلی کا کرب اور ماتم انہیں بھی ہوا جو اسے پٹنہ منتقل کروانے میں پیش پیش تھے۔ صباح الدین عبدالرحمن (1911-1987) نے ” یار عزیز” میں بشیرالحق نام کےپولیس کی نوکری سے سبک دوش، دیسنہ لائبریری کے اس اہم ترین نگراں کے جزبات اور کرب کا ذکر کچھ یوں کیا ہے:
بشیرالحق (متوفی 1965) تو لائبریری کی منتقلی کے غم کو عبور کر لینے کے بعد اکثر پٹنہ جاتے، بلکہ، زیادہ وقت اب دیسنہ کے بجائے پٹنہ ہی میں گزارتے، اور خدا بخش لائبریری کے دسنہ سیکشن میں ہر شام جا کر ویسے ہی بیٹھ جاتے جیسے وہ اپنے گھر پر آرام سے بیٹھتے تھے، اور اس طرح اس انجمن میں خلوت اور خلوت میں انجمن قائم کرنے کا کام کرتے تھے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*