ڈیڑھ ماہ میں بھی الزامات کاپتہ نہیں،عمرخالدنے عدالت میں درخواست داخل کی

نئی دہلی:دہلی تشددکیس میں جیل میں بند جے این یو کے سابق لیڈر عمر خالد نے عدالت میں معاملہ اٹھایا ہے۔ عمر خالد نے عدالت میں کہا ہے کہ چارج شیٹ داخل ہوئے ڈیڑھ ماہ ہوئے ہیں ، لیکن اب تک وہ نہیں جان سکے کہ ان پر کیا الزامات ہیں۔عمر خالدنے منگل کے روز دہلی کی کرکرڈوما عدالت کے سامنے سماعت کے دوران اپنا اعتراض پیش کیاہے۔ عمر خالد نے کہا کہ ان کی چارج شیٹ کی کاپی ان کے منصفانہ سماعت کے حق کے خلاف نہیں ہے۔عمر خالد جن پریواے پی اے جیسے سنگین مقدمات میں الزام عائد کیاگیا نے اعتراض کیاہے۔ عدالت کی جانب سے حکومت کوبتایاگیاکہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور عمر خالد کو جیل کے کمپیوٹر پر چارج شیٹ کی ایک کاپی فراہم کی جائے گی ، جسے وہ پڑھ سکیں گے۔اسی دوران سماعت کے دوران دوسرے ملزم شرجیل امام اور اطہر خان نے بھی بات کی۔ شرجیل نے مقدمے کی منصفانہ سماعت کا مطالبہ کیا اور کہاہے کہ جب تشدد ہوا تو وہ جیل میں تھے اور اس میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسی دوران ، اطہر خان نے عدالت کو بتایا کہ جب بھی وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے باہر جاتے ہیں تو وہ قید میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ انھیں اپنے وکیل سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔اطہر خان کی شکایت پر ملزم کی عدالتی تحویل میں 19 جنوری تک توسیع کردی گئی ہے۔ بتادیں کہ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے گذشتہ سال نومبر کے آخری ہفتے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار عمر خالد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔