ڈپریشن کا اسلامی علاج ـ قمر فلاحی

 

ڈپریشن کی تعریف:

انسان کا لگاتار غمگین رہنا،ایک ہی بات کو بار سوچنا،اقدام کی صلاحیت کا مفقود ہونا ڈپریشن کے دائرے میں آتا ہے۔

قرآن مجید میں ڈپریشن کا متبادل” حزن” ہے لہذا ہم اسی سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈپریشن کی وجوہات:

بنیادی طور پہ کسی چیز کے کھونے کا غم یا ماتم کرنا اور کسی مراد کا پورا نہ ہونا انسانوں کو ڈپریشن میں ڈالتا ہے۔

ڈپریشن کے شکار:

ڈپریشن کے شکار کوئ بھی ہوسکتے ہیں،خواہ وہ ایمانی اعتبار سے کمزور ہوں یا پھر ایمان کے اعلی مرتبہ پہ فائز ہوں۔
وقت کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اس کے شکار ہوئے اور وقت کے نبی بھی اس سے نہیں بچ سکے۔
ڈپریشن ایک فطری عمل ہے۔اہل ایمان اس سے فورا باہر نکل جاتے ہیں البتہ کم ایمان والوں کو اس سے باہر نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر مواقع پہ ڈپریشن خود کشی کا باعث بنتی ہے۔

ڈپریشن کا اسلامی علاج:
(1)انسان کا ایمان اللہ تبارک وتعالی پہ اس طرح ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ ہے۔
سورة التوبة , رقم السورة : ٩ رقم الآية : ٤٠ الآية : إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لگا کہ اب ہم دشمنوں کی زد میں آگئے اب کیا ہوگا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے.

اور اسی طرح انسانوں کو یقین ہو کہ اللہ تعالی اس کا خیر خواہ ہے،اس کی مرضی اور مشیت کے بغیر دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی۔
سورة فصلت , رقم السورة : ٤١ رقم الآية : ٣٠ الآية : إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔
اللہ تعالیٰ آسمان سے ان بندوں پہ فرشتے اتار دیتا ہے جو اپنے موقف پہ جمے رہتے ہیں اور فرشتے انہیں دلاسا دیتے ہیں۔

(2)–انسان سیرت انبیاء وصلحاء کا مطالعہ کرے کہ اس قبل جن لوگوں کو آزمائشوں کی بھٹی سےگزارا گیا وہ گنہگار نہیں تھے،اور آزمائشوں نے انہیں بے ایمان نہیں بنایا ،انہیں کمزور نہیں کیا بلکہ ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پہ برقرار رہا اور انہوں اپنے غم کی حالت میں کسی لمحے بھی اللہ تعالی کو نہیں چھوڑا۔
سب سے زیادہ زبانی ایذا رسانی کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام کو اٹھانی پڑی اس کے باوجود اللہ پاک نے آپ کو "عبدا شکورا "شکر گزار بندہ کے لقب سے نوازا۔

حضرت مریم علیھا السلام سے اللہ پاک نے فرمایا کہ غم نہ کرو ہم نے تمہارے نزدیک چشمہ جاری کردیا ہے
سورة مريم , رقم السورة : ١٩ رقم الآية : ٢٤ الآية : فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا۔
جبکہ مریم علیہا السلام کے لئے یہ چیز تقریباً ناممکن لگ رہی ہوگی،جبھی تو انہوں نے فریاد کی تھی کہ اے کاش مجھے موت آجاتی اور میں ایک قصئہ پارینہ بن جاتی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا چہیتا چھن گیا روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں مگر اپنا غم صرف اللہ تعالیٰ کو سنایا اور امید باقی رکھی کہ یوسف ضرور لوٹ کر آئیں گے۔
سورة يوسف , رقم السورة : ١٢ رقم الآية : ٨٤ الآية : وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ۔
سورة يوسف , رقم السورة : ١٢ رقم الآية : ٨٦ الآية : قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔

سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تین بیٹے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے مگر آپ نے کبھی ماتم نہ کیا۔

(3)–ایمان بالقدر ڈپریشن سے نکالنے میں معاون ہے ۔کیونکہ بندے نے اچھی اور بری تقدیر کے دونوں حصوں پہ یکساں طور پر ایمان لایا ہے اب اگر کوئ بات اچھی نہیں ہوتی ،کسی چیز سے محرومی ہوجاتی ہے تو بندہ کا ذہن فوراً تقدیر کی طرف جانا چاہیے۔

(4)صدقہ کی بہتات بھی ڈپریشن کے علاج میں معاون ہے،صدقہ اللہ تعالیٰ کےغضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سے رزق میں برکت ہوتی ہے،لوگوں کی دعائیں ملتی ہیں اور بلائیں ٹل جاتی ہیں لہٰذا اللہ پاک نے فرمایا کہ رات ودن دکھاکر اور چھپاکر جیسے بھی ہو صدقہ کرتے رہا کرو اس سے تم حزن (ڈپریشن )سے بچ سکوگے۔
سورة البقرة , رقم السورة : ٢ رقم الآية : ٢٧٤ الآية : الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

صدقہ کرتےوقت اس کا خیال رہے کہ وہ اس پہ احسان نہ جتائے،اور نہ ہی تکلیف دہ بات کرے ورنہ صدقہ ضائع ہوجاتا ہے اور کوئ فائدہ نہیں دیتا۔
سورة البقرة , رقم السورة : ٢ رقم الآية : ٢٦٢ الآية : الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ ثُمَّ لاَ يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنًّا وَلاَ أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

(5)اقامت صلوٰۃ،وعمل صالح بھی ڈپریشن میں معاون ہے۔
سورة البقرة , رقم السورة : ٢ رقم الآية : ٢٧٧ الآية : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

اللہ تعالی سے نماز کےذریعہ ربط بحال ہوتا ہے۔اور عمل صالح کا مطلب یہ ہے اکثر مصیبتیں انسانوں کی خریدی ہوئ ہوتی ہیں ،اوقات سے زیادہ خرچے ،ریاکاری ،نام نمود کا شوق،اسٹیٹس کی فکر ،غیر ضروری قرضے،سودی لین دین یہ سب پہلے سے حرام ہیں اور ان چیزوں کی حرمت پہ مصلحت بھی ہے۔جو لوگ ان چیزوں میں پھنستے ہیں وہ ڈپریشن کے بھی شکار ہوتے ہیں۔
انسانوں کے ذمہ بس اتنا کام ہے کہ اللہ پاک نے جو اسکیچ کر دیا ہے انسان اسی دائرے میں رہ کر رنگ بھرے مگر انسان کی عادت یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسکیچ بناتا ہے اور پھر اس میں رنگ بھرنےکی کوشش کرتا ہے۔
سورة البقرة , رقم السورة : ٢ رقم الآية : ٣٨ الآية : قُلْنَا اهْبِطُواْ مِنْهَا جَمِيعاً فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ۔
جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کریگا اسے غم نہ ہوگا۔ اپنی مرضی چھوڑنی ہوگی اور رب مرضی پہ چلنا ہوگا۔
سورة البقرة , رقم السورة : ٢ رقم الآية : ١١٢ الآية : بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

(6)اللہ تعالیٰ کے ولی بن جاؤ ڈپریشن سے باہر نکل سکتے ہو.
سورة يونس , رقم السورة : ١٠ رقم الآية : ٦٢ الآية : أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ۔
اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کا مطلب یہ ہے کہ انسان سکت بھر کوشش کرلے اور پھر اس کے بعد اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے اور اس کے ہر طرح کے فیصلے پہ راضی ہو۔
انسان اپنی قسمت کو دیکھے اور اس خوش رہے اوروں کو نہ دیکھے اور خود کو اوروں سے موازنہ نہ کرے۔
سورة الحجر , رقم السورة : ١٥ رقم الآية : ٨٨ الآية : لاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ۔

(7)صبر کرے یعنی اگرمصیبت آئ ہے تو اسے جھیلے، کیونکہ کوئ بھی مصیبت دائمی نہیں ہوتی ہے۔
سورة النحل , رقم السورة : ١٦ رقم الآية : ١٢٧ الآية : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللّهِ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلاَ تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ۔

(8)اپنی حیثیت کے برابر یا اس سے نیچے کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کرے۔

(9)اپنی کمائ حلال رکھے کیونکہ حرام کمائ میں اضافہ تو ہے مگر برکت اور سکون نہیں ہے۔

(10) اسراف سےبچے کیوں کہ اسراف ہی قرض کی طرف لے جاتا ہے ۔

(11)جو لوگ حوصلہ افزائی کرتے ہیں ان سے قریب رہے ۔ جو لوگ ڈپریشن کے شکار ہیں اوروں کو بھی مایوس کرتے ہیں۔

(12)جو لوگ خوش رہتے ہیں ان کی تلاش کرے اور انکے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کرے۔

(13)بیوی بچوں اور ماں باپ کو زیادہ وقت دے ، کیونکہ سب سےزیادہ یہی لوگ مخلص ہوتے ہیں۔
(14) تنہائی میں رہنے سےبچے کیونکہ اس حالت میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں۔

(15) اپنی مصیبت کو نہ چھپائے ،اس پہ مشورہ طلب کرے۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں ہر طرح کے غم اور الم سے باھر نکالے آمین۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*