دیوبندمیں سی اے اے کیخلاف احتجاج جاری، مظاہرین سے مولانامحمودمدنی کاخطاب 

 

دیوبند:متنازع شہریت ترمیمی بل ۲۰۱۹ء کی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ آسام سے لے کر بنگال تک ، دلی اور یوپی سے لے کر بہار تک زبردست احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ جہاں ایک طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے اس متنازع بل کے خلاف پورے ملک میں انقلابی روح بیدار کردی ہے وہیں دوسری طرف جمعیۃ علماے ہند پورے ملک میں ایک ساتھ بارہ سو سے زائد شہروں میں اپنا احتجاج درج کراچکی ہے۔ اسی سلسلے میں جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی جانب سے عالمی شہرت یافتہ شہر دیوبند کی عیدگاہ میں پولیس اور انتظامیہ کی سخت سیکیورٹی کے درمیان غیر متعینہ مدت کیلئے احتجاجی دھرنا اور جیل بھرو آندولن جاری ہے۔ دھرنے کے پہلے روز جمعیۃ علماضلع سہارنپور کے 313 کارکنان اپنی گرفتاری دے چکے ہیں جبکہ دوسرے روز بھی 313 لوگوں نے اس سیاہ بل کے خلاف اپنی گرفتاری پیش کی۔ دھرنے میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی رہنماؤں نے بھی اپنی شرکت درج کرائی ہے۔ اس موقع پر جمعیۃ کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق راجیہ سبھا ممبر مولانا محمود مدنی نے پورے ملک میں مظاہرین پر پولیس کے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیا۔ مولانا مدنی نے دھرنے میں موجود شرکا کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء کسی بھی جانب سے کئے جانے والے تشدد کی حمایت نہیں کرتی، لیکن پرامن احتجاج کے خلاف پولیس نے جو رویہ اختیار کیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیوبند میں ہونے والے دھرنے کیلئے اگر انتظامیہ کوئی رکاوٹ کھڑی کرتی ہے تو جمعیۃ کے جیالے سہارنپور شہر میں کلکٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے اور گرفتاری پیش کریں گے۔ مولانا مدنی نے پولیس اور انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمہارے پاس ڈنڈے ہیں تو ہماری پیٹھ بھی حاضر ہے، اگر تمہارے پاس بندوق ہے تو ہمارے سینے بھی حاضر ہیں، ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تمہاری گولیاں ختم ہوجائیں گی لیکن ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے، یہ ظلم و تشدد ہمارے عزم و استقلال میں کمی نہیں لاسکیں گے، ان شاءاللہ!

مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ ہم ایک دن کے فرق سے روزانہ 313 افراد کی گرفتاری پیش کریں گے۔

اس سے قبل جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا ظہور احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علما کے جیالوں نے ان لوگوں سے ٹکر لی جن کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، ہم نے ان کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملایا اور ہم آج بھی ملک کو توڑنے والی ہر طرح کی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کررہے ہیں۔

جمعیۃ ضلع سہارنپور کے جنرل سیکریٹری سید ذہین احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی حکومت کے خلاف ہے، پولیس اور انتظامیہ ہمارے ادارے ہیں، ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ہم پولیس انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ہماری تحریک میں رکاوٹ نہ بنیں، ضلع میں امن و امان کے قیام کیلئے ہم بھی ان کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا قاری احمد عبداللہ رسول پوری نے سرفروشی پر مبنی نظم پیش کی، دھرنے کی نظامت کررہے جمعیۃ یوتھ کلب ضلع سہارنپور کے کنوینر مولانا محمود الرحمان قاسمی کے انقلابی نعروں نے لوگوں میں جوش بھردیا،اس کے علاوہ جمال الدین انصاری اور سلیم قریشی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس موقع پر جمعیۃ علماء اترپردیش کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد مدنی، جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے تمام عہدےد داران کے علاوہ شہر کے معزز افراد موجود رہے.