نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کا مظاہرہ

 

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (ڈوٹا) نے منگل کو یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے خلاف احتجاج کیا۔اساتذہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا جہاں نئی تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے تعلیمی کونسل کا اجلاس جاری تھا۔یونیورسٹی کی تعلیمی امور سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی نے پیر کے روز ہونے والے اپنے اجلاس میں اس پالیسی کو 2022-23 کے سیشن سے نافذ کرنے کے علاوہ چار سالہ انڈر گریجویٹ پروگرام کی منظوری دی۔ یونیورسٹی کے طلبہ کو اب یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایک مخصوص مدت کے بعد اپنا کورس چھوڑ دیں۔ تاہم کمیٹی نے بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز (ایم اواوسی) کے نفاذ پر بحث موخر کر دی۔اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں یونیورسٹی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات زیر بحث ہیں۔ڈوٹا نے پیر کو قائم مقام وائس چانسلر پی سی جوشی کو خط لکھ کر درخواست کی کہ ان معاملات کو تمام قانونی سطح جیسے ڈیپارٹمنٹس، فیکلٹیز اور اسٹاف کونسلز میں اکیڈمک کونسل کے حوالے کرنے سے پہلے زیر بحث لایا جائے۔ایک بیان میںڈوٹانے کہا کہ یونیورسٹی کا 2013 میں چار سالہ انڈر گریجویٹ کورس متعارف کرانے کا تجربہ انتہائی ناقص رہا ہے اور طلبہ نے اسے مسترد کر دیا ہے، طلبہ ایک اضافی سال ضائع نہیں کرنا چاہتے۔