دہلی یونیورسٹی میں 97 واں کنووکیشن کا انعقاد

اردومیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہاہے:پروفیسرابن کنول

دہلی:آج دہلی یونیورسٹی کے 97 واں کنووکیشن کا انعقاد ملٹی پرپس ہال دہلی یونیورسٹی اسپورٹس کمپلکس میں ہواجس میں گذشتہ سال پی ایچ ڈی کرچکے اسکالرس کو ڈگری تفویض کی گئی ،اس کنووکیشن کے مہمان خصوصی وزیرتعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک تھے،ان کے ہاتھوں سے تمام اسکالرس کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی،اس کنووکیشن میں شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی کے متعدداسکالرزکوپی ایچ ڈی کی اسناد پیش کی گئیں جن میں شعبہ کے سینیئر استاد اورسابق صدرشعبہ پروفیسرابن کنول کے زیرنگرانی چاراسکالرس کو بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ،ان میں عبدالسمیع ،عادل احسان ،سطوت اللہ خالد اورشکیل احمدشامل ہیں ،ان چاروں اسکالرس کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسرابن کنول نے کہا کہ یہ سب محنتی اورذہین طالب علم تھے ،انہوں نے وقت پر محنت سے اپنے ریسرچ کو مکمل کیا اوراپنے موضوع سے حتی الامکان انصاف کیاہے ،انہوں نے کہاکہ عبدالسمیع کا موضوع ’’اردوزبان و ادب کے فروغ میں اطباء کی خدمات‘‘ بہت اہم تھا اوراردو میں اس موضوع پر یہ پہلی پی ایچ ڈی ہے ،چونکہ عبدالسمیع نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی یو ایم ایس کیاہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس موضوع کو بخوبی سمجھا اوراطباء کی ادبی خدمات کو بڑی عرق ریزی اورتلاش وجستجو سے جمع کیا ہے اورساتھ ہی ان کی خدمات پر اپنی رائے بھی پیش کی ہے ،عادل احسان کا موضوع ’’ہندوستان میں اردو افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ،1980 کے بعد تھا ،اس میں انہوں نے دہشت گردی ،فرقہ وارانہ تصادم ،بین المذاہب شادی اورجہیز وغیرہ کے موضوع کا بخوبی مطالعہ پیش کیاہے ،اوراس طرح کے موضوعات کو افسانہ میں پیش کرناکیوں ضروری ہے اس کو بھی واضح کیاہے ،سطوت اللہ خالد نے ’’اردو نظم پر مختلف تحریکات و رجحانات کے اثرات‘‘کو اپنی پی ایچ ڈی کا موضوع بنایا،اس میں انہوں نے اردو نظم پر مختلف تحریکات و رجحانات نے کیا اثرڈالااوراس کی وجہ سے نظم میں کیا نمایاں تبدیلی واقع ہوئی اس پر سیرحاصل گفتگو کی ہے ،شکیل احمد کے پی ایچ ڈی کا موضوع ’’اردو ادب میں غیر افسانوی نثر کی روایت (خاکہ ،انشائیہ اورمکتوب نگاری کے حوالے سے)تھا،اس میں انہوں نے غیرافسانوی نثر کی روایت کو ان تینو ں اصناف کے حوالے سے پیش کیاہے ،خاکہ ، انشائیہ اورمکتوب نگاری پر تفصیلی گفتگو کی ہے ،اخیر میں پروفیسرابن کنول نے تمام اسکالرس کو مبارکباد دیا اوران سب کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اردو والوں کوناامید نہیں ہوناچاہیے ، اردومیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔