دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ولی اختر ندوی کا انتقال

نئی دہلی:دہلی یونیورسٹی، شعبۂ عربی کے پروفیسرولی اختر ندوی کا مختصر علالت کے بعد آج ابوالفضل، نئی دہلی کے الشفاہسپتال میں انتقال ہوگیاـ انھیں گلے میں خراش اور سانس میں تکلیف کی وجہ سے دودن قبل ہسپتال میں داخل کیا گیا تھاـ موصوف نے دار العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ سے عالمیت و فضیلت کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں- 1997 سے وہ شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے- انھیں صدر جمہوریۂ ہند کی جانب سے عربی ادب میں نمایاں خدمات پر صدارتی ایوارڈ "مہارشی بدرائن ویاس سمّان”بھی دیا گیا تھا- عربی زبان و ادب میں ان کی تدریسی و تصنیفی خدمات ناقابل فراموش ہیں- وہ رابطۂ ادبِ اسلامی سے وابستہ تھے- عربی زبان کی تدریس کے سلسلے میں انہوں نے کئی تجربات کئے تھے- اس سلسلے میں ان کی ایک کتاب اہمیت کی حامل ہے- موصوف ایک با اخلاق شخصیت کے حامل تھے، سادگی پسندطبیعت کے مالک تھے،طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھےـ ان کی غیر متوقع رحلت سے علمی و ادبی حلقوں میں سخت رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہےـ