دہلی تشدد:چارج شیٹ میں یوگیندریادو،ہرش مندر اور ایڈووکیٹ ڈی ایس بندراکوبھی ٹارگیٹ کرنے کی کوشش

نئی دہلی:دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں ۔دینک بھاسکرکے مطابق پولیس نے شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران ہلاک ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کے معاملے کے بارے میں جوچارج شیٹ عدالت میں دائرکی ہے۔اس میں سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو ،اسٹوڈنٹ لیڈرکولپریت کور اور ایڈوکیٹ ڈی ایس بندرا کے نام بھی شامل ہیں۔ تاہم ، یہ تینوں پولیس کی بنائی گئی 17 ملزمان کی فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔پولیس نے چارج شیٹ میں کہاہے کہ چاندباغ میں مظاہرے کے منتظمین کے ڈی ایس بندرا،آئساکی کول پریت کور،دیوگنالتااورصفورااوریوگیندریادوجیسے لوگوں سے تعلق کاچھپاہوایجنڈانظرآتاہے۔اہم بات یہ ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کی موت کے معاملے میں 17 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔قابل غوربات ہے کہ لاک ڈائون کے بعددہلی تشددکے بہانے سی اے اے مخالف اہم چہروں کونشانہ بنایاجارہاہے۔سمجھاجاتاہے کہ اس طرح سی اے اے مخالفین کی آوازدبائی جائے گی۔تاکہ یہ انصاف پسندبرادران وطن بھی ڈرکرسامنے نہ آئیں اورلاک ڈائون کی پابندیوں کی وجہ سے کوئی احتجاج بھی نہ ہواوران کی آڑمیں گرفتاریاں ہوں۔قابل غوریہ بھی ہے کہ دہلی تشددمیں ایک ہی کمیونٹی کی گرفتاری پرسوال اٹھ رہے ہیں جب کہ کپل مشرا،انوراگ ٹھاکراورپرویش ورماجیسے لوگوں کے نام تک غائب ہیں۔24 فروری کو شمال مشرقی دہلی میں تشددکیاگیاجس میں 750 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ فسادات میں مرنے والے 53 افراد میں ہیڈ کانسٹیبل رتن لال بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس چارج شیٹ میں سابق آئی اے ایس اور سماجی کارکن ہرش مندر کے نام کا بھی ذکر ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کیں۔16 دسمبر کو انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے سامنے تقریربھی کی۔ گجرات فسادات سے چوٹ پہنچنے کے بعد 2002 میں ہرش مندر نے ملازمت چھوڑ دی۔اس کے بعد وہ ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔