دہلی سرکار سے اردواکیڈمی میں خالی عہدو ں کو پُر کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی:اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی میٹنگ میں حکومت دہلی سے مطالبہ کیاگیاہے کہ وہ اردو اکادمی میں خالی عہدوں پر جلد از جلدمستقل تقرری کرے۔ میٹنگ میں اتفاق رائے سے یہ مطالبہ بھی دوہرایاگیاہے کہ سرکاری محکموں میں اردو سیل قائم کیا جائے اور اس پر تقرری کی جائے نیز اردو اساتذہ کے تقرر کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا کیا جائے۔ میٹنگ میں معروف صحافی سالک دھامپوری نے اردو اکادمی کو متحرک بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ اردو کادمی دہلی ، ہندوستان کی تمام اردو اکاڈمیوں کے مقالبہ اپنے کارناموں کے اعتبار سے بہت نمایاں تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردوا کاڈمی میں کام کرنے والے مستقل ملازمین کی تعداد اب نہیں کے برابر رہ گئی ہے۔میٹنگ میں ڈاکٹر سید احمد خاں نے حکومت سے یہ مانگ کی کہ اردو کادمی میں خالی عہدوں پر جلد سے جلد تقرری کی جائے اسی طرح اردو اساتذوں کے خالی عہدوں پر بھی تقرری کی جائے۔ماہنامہ صلاح کار کے ایڈیٹر حامد علی اختر نے افسوس کے ساتھ کہا کہ دہلی میں اردو سرکاری زبان ہوتے ہوئے بھی منظر عام سے غائب ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی لال بہادر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ہندوستان کی تاریخ میں اردو زبان نے جو حق ادا کیا وہ زریں الفاظ میںلکھے جانے کے قابل ہے۔ جو حکومت اردو کو نظر انداز کرتی ہے وہ گویا بھارت کے آئین سے انحراف کرتی ہے۔ ڈاکٹر لال بہادر نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں اور اردو کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ڈاکٹر سید احمد خاں نے ڈاکٹر لال بہادر کے خیالات پر اتفاق ظاہر کیا۔میٹنگ کی صدرت معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے کی اور نظامت کے فرائض ایشیاء ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اشرف علی بستوی نے انجام دیے۔ میٹنگ میں محمد اویس گورکھپوری، فاروق سلیم، راشد اعظمی، حکیم عطاء الرحمن اجملی، حکیم عثمان علی بدایونی، حکیم صلاح الدین حسن پوری، وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔