دہلی سرکارنے ڈاکٹرظفرالاسلام خان کوعہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کی

نئی دہلی:تبلیغی جماعت کے بعداب دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نشانے پرہیں،میڈیاٹرائل کے بعدعہدے سے ہٹانے کی کوششیں تیزہوگئی ہیں۔جس طرح تبلیغی مرکزپرعام آدمی پارٹی نے سیاست کی اوراسے فرقہ وارانہ رنگ دیا،اسی طرح کجریوال سرکارپھرمیڈیاٹرائل کے دباؤمیں آگئی ہے اوران پرکارروائی کررہی ہے۔حکومت نے سوشل میڈیا پوسٹ پرنوٹس لیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کی قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔دہلی فسادات کے بعدتبلیغی مرکزکے معاملے پرعام مسلمان کجریوال سرکارسے نالاں ہیں۔اس کی معلومات آج دہلی کی اروندکیجریوال حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو دی۔حکومت نے ہائی کورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ظفرالاسلام خان کو دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر کے عہدے سے ہٹانے کاقانونی عمل شروع ہوچکاہے۔اس دعوے کے بعد ہائی کورٹ نے اس عرضی کوخارج کر دیاہے جس میں خان کو اس عہدے سے ہٹائے جانے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ریاست کی عام آدمی پارٹی (آپ) حکومت نے ہائی کورٹ کوبتایاہے کہ لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے ظفرالاسلام کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردیاہے۔دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو سہائے اورجسٹس سنگیتاسہگل کی بنچ نے اس معاملے کی ویڈیوکانفرنسنگ سے سماعت کی ہے۔سماعت کے دوران دہلی حکومت کاموقف رکھ رہے وکیل انوپم شریواستو نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو خط لکھ کر ظفرالاسلام خان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شریواستو نے کہا کہ ایل جی نے یہ خط 30 اپریل کو ہی لکھا جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہاہے کہ وہ متعلقہ محکمہ کو دفعہ 4 کے تحت ظفرالاسلام کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دیں۔ یہ سیکشن کمیشن کے چیئرمین یا رکن کو عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق ہے۔ظفرالاسلام خان کی مدت جولائی میں ختم ہونے والی ہے۔دہلی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایل جی نے خود 8 مئی کو ایک وجہ بتاو نوٹس جاری پوچھاہے کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہونی چاہیے۔ ہائی کورٹ کی دورکنی بنچ نے مناسب وقت کے اندر فیصلہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے وہ پٹیشن نمٹا دی جس میں ہٹانے کے لیے ہدایات دئے جانے کی مانگ کی گئی تھی۔