دہلی میں’ اورنگ زیب روڈ‘برداشت نہیں،شرپسندوں کوپولیس نے حراست میں لیا

نئی دہلی:ایک طرف اورنگزیب کا نام بدلنے کی سیاست مہاراشٹرمیں ہورہی ہے، دوسری طرف دہلی میں بھی ایک واقعہ پیش آیا ہے جس سے سمجھ میں آتاہے کہ شرپسندوں کے حوصلے کس قدربلندہیں۔ہفتہ کی صبح کچھ فرقہ پرست عناصر نے اورنگزیب لین پر سائن بورڈکوخراب کردیا۔یہ واقعہ 9 جنوری کی صبح کو پیش آیا ، جب پی ایس تغلق روڈ پر کھڑی پولیس کو صبح 5.40 بجے اطلاع ملی کہ کچھ لوگوں کا ہجوم اورنگ زیب لین پر جمع ہوگیا ہے۔ یہ خبر ملتے ہی موٹرسائیکلوں پر تعینات پولیس عملہ 5 منٹ کے اندر ہی موقع پر پہنچا ، جہاں پولیس نے دیکھاہے کہ انوراگ بھارگوا نامی شخص کی سربراہی میں 11 افراد این ڈی ایم سی سائن بورڈکوخراب کررہے ہیں۔ جس پر اورنگزیب کا نام لکھا گیا تھا۔ پولیس نے موقع پر ہی ان تمام لوگوں کو تحویل میں لے لیا۔انوراگ بھگوا کا تعلق ہریانہ کے کرنال سے ہے اور وہ پیشے سے وکیل ہیں۔یہ لوگ اورنگ زیب کے سائن بورڈکوہٹارہے تھے اور اس پر گرو تیغ بہادر لین لکھا ہوا ایک پوسٹر چسپاں کر رہے تھے۔ پولیس انوراگ بھارگوا اور اس کے ساتھیوںکو تغلق روڈ پر پولیس کے ٹھکانے لے گئی ہے۔ جہاں ان تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔حال ہی میں شیوسینا نے بھی مہاراشٹر میں اورنگ آباد کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر رکھنے کا اعلان کیا ہے جس پر احتجاج مہاراشٹراحکومت کے اتحاد کے اندر شروع ہواہے۔