دہلی کے نجی اسکول اب سالانہ فیس وصول کرسکیں گے ، سپریم کورٹ کا ہائی کورٹ کے فیصلے پر پابندی لگانے سے انکار

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ کے دہلی کے نجی اسکولوں میں سالانہ اور ترقیاتی فیس لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ برقراررہے گا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر پابندی لگانے سے انکار کردیاہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے سامنے زیر التوا ہے اور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کی رائے پر بھی سماعت کیاتھا ۔ در اصل دہلی ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کو طلبہ سے سالانہ اور ترقیاتی فیس وصول کرنے کی اجازت دینے والے سنگل جج کے حکم پر پابندی لگانے سے انکار کردیا تھا ، اب اس معاملے کی سماعت 10 جولائی کو ہوگی۔واضح ہو کہ بنچ نے 450 نجی اسکولوں کی نمائندگی کرنے والی ایکشن کمیٹی سے کہا کہ وہ سنگل جج کے 31 مئی کے حکم کے خلاف عآپ حکومت اور طلبہ کی درخواستوں پر اپنا موقف واضح کریں۔ دہلی حکومت اور طلباء کا کہنا ہے کہ سنگل جج کا فیصلہ غلط حقائق اور قانون پر مبنی تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ دہلی اسکول ایجوکیشن (ڈی ایس ای) ایکٹ اور قواعد کے تحت نظامت تعلیم کو دیئے گئے اختیارات سے بالاتر ہے۔ سنگل بنچ نے 31 مئی کو اپنے حکم میںدہلی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے اپریل اور اگست 2020 میں جاری کردہ دو احکامات کو منسوخ کردیا تھا ، جوسالانہ فیس اور ترقیاتی فیس کی وصولی پر پابندی لگاتے اور ملتوی کرتے ہیں۔ ط