دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خورشید کی کتاب پر پابندی کی درخواست خارج کردی

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کانگریس لیڈر سلمان خورشید کی کتاب ’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہوڈ ان اوور ٹائمس‘ کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت پر روک لگانے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں اگر لوگ اتنا سیریس محسوس کر رہے ہیں۔عدالت ایڈوکیٹ ونیت جندال کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس نے دعویٰ کیا کہ سابق مرکزی وزیر کی کتاب دوسروں کے عقیدے کو ٹھیس پہنچاتی ہے کیونکہ یہ ہندوتوا کا آئی ایس آئی ایس اور بوکو حرام جیسے بنیاد پرست گروپوں سے موازنہ کرتی ہے۔جسٹس یشونت ورما نے کہاکہ لوگوں سے کہو کہ کتابیں نہ خریدیں اور نہ پڑھیں، لوگوں کو بتائیں کہ یہ خراب لکھی گئی ہے، کچھ بہتر پڑھیں۔درخواست گزار کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ کتاب امن عامہ کو بگاڑ سکتی ہے اور امن برقرار رکھنا تمام لوگوں کا فرض ہے۔درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اگر لوگ اتنے حساس ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔یہاں کے ایک ایڈیشنل سول جج نے 17 نومبر کو ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی طرف سے خورشید کی کتاب کی اشاعت، سرکولیشن اور فروخت پر روک لگانے کے لیے دائر مقدمے پر کوئی فوری ہدایات جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔عدالت نے کہا تھا کہ مصنف اور پبلشر کو کتاب لکھنے اور شائع کرنے کا حق ہے۔