دہلی ہائی کورٹ نے وکلا کو مالی مدددینے سے متعلقہ درخواست واپس لینے کی اجازت دی

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو بار کونسل آف دہلی (بی سی ڈی) کے رجسٹرڈ وکلا کو کوڈ19 عالمی وبا کے دوران مالی امداد کی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت کو پتہ چلا کہ یہ درخواست بغیر کسی بنیاد کے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں ای ایم آئی پر قرض کی ادائیگی اور عالمی وبا معمول نہ ہونے تک قرضوں کی ادائیگی کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ جسٹس ہما کوہلی اور جسٹس سبرامنیم پرساد نے کہاکہ درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی درخواست کی ہے کیونکہ سپریم کورٹ اس معاملے سے واقف ہے اور اس درخواست کو نمٹا راکردیا گیا۔ سنیل کمار تیواری کی درخواست میں دلیل دی گئی کہ لاک ڈاؤن کے دوران قرضوں اور کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں پر سود اس اسکیم کا مقصد نہیں پاسکتی ہے جس نے عالمی وبائی حالت کے دوران امداد فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔ وکیل مکیش کمار سنگھ کے توسط سے دائر درخواست میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کی حالت کے دوران نہ تو مرکز اور نہ ہی دہلی حکومت نے وکلاء کو کوئی مالی مدد فراہم کی لیکن انہوں نے کارپوریٹس، صنعتوں اور مزدوروں کو مالی امداد فراہم کی۔اس میں کہا گیا ہے کہ صرف بی سی ڈی کے ذریعہ غریب وکلاء کو ریلیف دیا گیا تھا، جنہوں نے ایک بار 5000 روپے دے کر ایسے وکیلوں کی مدد کی۔ تاہم درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رقم اس کی بقا کے لئے کافی نہیں ہے۔