دہلی فسادات تقسیمِ ہند کے زمانے کے قتل عام کی یاد دلاتے ہیں:عدالت

نئی دہلی:دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات کو تقسیم کے وقت ہونے والے قتل عام کی یاد دلانے والا قرار دیا ہے۔ عدالت نے یہ تبصرہ بڑے پیمانے پر تشدد کے دوران دوسرے مذہب کے ایک لڑکے پر حملہ کرنے کے الزام میں ایک شخص کی پیشگی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے کیا۔گرفتاری کے خوف سے سراج احمد خان نے عدالت کارخ کرتے ہوئے مقدمے میں پیشگی ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ انہیں اس معاملے میں جھوٹے طور پر پھنسایاگیا اور اس کا مبینہ جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پیشگی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے کہا کہ ملزم کے خلاف الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے اور اس کی سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے اس کی موجودگی بہت ضروری ہے۔پچھلے سال فروری میں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں کے ذریعہ مخالفین کے خلاف فرقہ وارانہ فساد کو جنم دیا تھا، جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔جج نے اپنے 29 اپریل کے حکم میں کہاکہ یہ سب جانتے ہیں کہ 24/25 فروری 2020 کے دن شمال مشرقی دہلی کے کچھ حصوں نے فرقہ وارانہ جنون کا شکار ہوکر تقسیم ہند کے قتل عام کی یاد تازہ کردی۔جج نے کہاکہ جلد ہی فسادات دارالحکومت کے افق تک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے، نئے علاقے اس میں آگئے اور بہت سے بے گناہ جانیں ضائع ہوگئیں۔