دہلی فسادات:پولیس کی تفتیش یک طرفہ،۵؍ارکان پارلیمنٹ نے صدرجمہوریہ کو میمورنڈم سونپا

نئی دہلی:ڈی راجہ ، سیتارام یچوری ، احمد پٹیل ، کنی موژی اور منوج جھا پر مشتمل پانچ ممبران پارلیمنٹ نے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووندسے دہلی فسادات میں دہلی پولیس کی تفتیش سے متعلق اپنے مطالبات پر مبنی میمورنڈم سونپا ہے۔ان پانچ ممبران پارلیمنٹ نے دہلی پولیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے شہریت ترمیمی بل ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو فسادی اور بلوائی قرارد یا ہے ۔علاوہ ازیں دہلی پولیس نے کئی نامور دانشوروں کا نام بشمول سیتارام یچوری دنگے کا ذمہ دار قراردیا ہے،جو احتجاجی ریلیوں میں تقریر کیلئے گئے ہوئے تھے ۔ خیال رہے کہ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس کی تفتیش یکطرفہ اور جانبدارانہ ہے ، کئی ساری ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن سے فسادات میں دہلی پولیس کا مشکوک کردار بھی نظر آتا ہے۔ ایک ویڈیو میں دہلی پولیس کے متعدد اہلکار زخمی نوجوان فیضان(مرحوم) سے قومی ترانہ اور ’بھارت ماتا کی جے‘ گانے کے لئے گالیوں کے ساتھ جبر کررہے ہیں ، بعد میں اس نوجوان(فیضان) کی موت ہوگئی تھی۔میمورنڈم میں یہ بطور خاص واضح کیا گیا ہے کہ دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں اشتعال انگیز تقریر کرنے والے بی جے پی لیڈران کپل مشرا ، پرویش ورما ، انوراگ ٹھاکر کے ناموں کا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ دہلی پولیس نے فسادات میں بی جے پی قائدین کے کردار سے آنکھیں موند لی ہیں ۔میمورنڈم میں اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ59 ایف آئی آرجو فسادات کی سازش پر مبنی ہیں ، ان کے تحت شہریت ترمیمی بل (سی اے اے ) کیخلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کویو اے پی اے(UAPA) کے قانون کے تحت گرفتار کیاجارہا ہے۔