دہلی فسادات:پنجڑہ توڑ کی رکن نتاشا ناروال کی ضمانت،عدالت کوتشدد بھڑکانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا

نئی دہلی:دہلی فسادات کے الزام میں پنجڑہ توڑ گروپ کی نتاشا ناروال کو کڑکڑڈوما کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ نتاشا ناروال کو ایف آئی آر نمبر 50 جعفرآباد تشدد کیس میں ضمانت ملی۔ عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے کہاکہ دہلی پولیس نے عدالت میں جو ویڈیوز دکھائے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ نتاشا تشدد میں ملوث تھی یا تشدد کو بھڑکارہی تھیں۔ تاہم ابھی انہیں جیل میں رہنا پڑے گا،کیونکہ ایک دیگر ایف آئی آر میں انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ کڑکڑڈوما کی عدالت نے نتاشا کو 30000 روپے کے ذاتی مچلکے پر بیل دی ہے۔ عدالت نے اعتراف کیا ہے کہ نتاشا غیر قانونی طور پر جمع ہجوم کا حصہ تھیں لیکن یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے تشدد کو ہوا دی۔ جعفرا آباد کے تشدد میں امان نامی شخص کی موت ہوگئی تھی۔ عدالت میںدہلی پولیس نے کہا کہ نتاشا اور دیونگنا نے منصوبہ بند انداز میں تشدد کو ہوا دی تھی۔ نتاشا ناروال کو ابھی جیل میں رہنا پڑے گا کیونکہ ایف آئی آر 59 میں دہلی پولیس نے انہیںیو اے پی اے کے تحت ملزم بنایا ہے۔ اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی دیونگنا کلیتا کو ضمانت دے چکی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دیونگنا کلیتا کو ضمانت دیتے ہوئے کہاکہ تفتیشی ایجنسیاں یہ ثابت نہیں کرسکی ہیں کہ دیوانگانا کی کسی تقریر نے کسی برادری کی خواتین کو اکسایا ہویا اس کی تقریر نے تشدد کو جنم دیاہو، جس کی وجہ سے جان اور مال کا نقصان ہوا ہو۔