دہلی فسادات ـ مسلم علاقوں میں چھاپے ماری اور گرفتاریوں کا سلسلہ: مقصد کیاہے؟ـ خصوصی سٹوری: محمد علم اللہ 

 

 

ہندوستان بھر میں متنازع شہریتی ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاجات اور اس کے بعد شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات جن میں بڑی تعداد میں مسلم کمیونٹی کا نقصان ہوا تھا۔ ان پر تقریبا سات ماہ گذرنے کے بعد پولس کے ذریعے مسلم علاقوں میں چھاپہ ماری اور دھر پکڑ کا ماحول ہنوز جاری ہے ۔ حالیہ پیش رفت میں پولس نے جے این یو کے سابق طلبا لیڈر اور نوجوان سماجی کارکن ڈاکٹر عمر خالد کو گرفتار کیا ہے ۔ عمر خالد کی گرفتاری غیر قانونی سرگرمیوں (کی روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت کی گئی ہے۔ دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے دو ستمبر کو کچھ گھنٹے تک عمر سے پوچھ تاچھ کی تھی۔14 ستمبر بروز پیر ویڈیو لنک کے ذریعے ان کی عدالت میں پیشی ہوئی جس میں پولیس کی درخواست کے مطابق ان کا دس روزہ ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔

خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ دلی پولیس کے خصوصی سیل نے رات 11 بجے ان کے بیٹے کو گرفتار کیا۔ پولیس دوپہر ایک بجے سے خالد سے پوچھ گچھ کر رہی تھی اور 11 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد پولیس نے خالد کو فسادات کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ 33 سالہ عمر خالد کے والد کا خیال ہے کہ ان کے بیٹے کو ’اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے’۔ اس سے قبل پولس سی اے اے مظاہرے میں شامل نوجوان سماجی کارکنان میران حیدر ، خالد سیفی اور آصف اقبال تنہا وغیرہ کو گرفتار کرکے جیل بھیج چکی ہے۔

ان نوجوانوں کے علاوہ اب تک دہلی پولیس نے شمال مشرقی دہلی فسادات میں درج 751 مقدمات میں 1،575 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جب کہ دیگر کئی سماجی کارکنان کو جن میں دستاویزی فلم ساز راہل رائے اور صبا دیوان شامل ہیں کو سمن جاری کیا ہے ۔ ان فسادات میں سی پی آئی کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ، سوراج ابھیان کے لیڈر یوگیندر یادو ، جے این یو کی پروفیسر ماہر اقتصادیات جیتی گھوش، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپور وانند وغیرہ کے نام بھی ملزمان کے طور پر درج کیے ہیں۔ حالانکہ دہلی پولیس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ فی الحال زیر غور ہے۔ خیال رہے کہ دہلی پولیس براہ راست وفاقی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے، جس کا قلم دان امیت شاہ کے ہاتھوں میں ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ملزمان کی فہرست میں شامل لوگوں کے نام بعض گرفتار طلبہ اور کارکنوں کے مبینہ ‘اقبالیہ بیان‘کی بنیاد پر درج کیے گئے ہیں۔ لیکن بتایا جارہا ہے کہ الگ الگ لوگوں کے نام پر یہ بیانات تقریباً یکساں ہیں۔ حتی کہ ان میں املا کی غلطیاں بھی ایک جیسی ہیں۔

اس میں پنجرہ توڑ کی دو کارکنوں دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی گل فشاں فاطمہ کا نام بطور ملزم شامل ہے۔کلیتا اور نروال کو مئی کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ فاطمہ کو جولائی کے آخر میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تینوں کارکنوں پریو اے پی اےکے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ نتاشا نروال اوردیوانگنا کلیتا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہیں۔ کلیتا جے این یو کی سینٹر فار وومین اسٹڈیزکی ایم فل کی اسٹوڈنٹ ہیں جبکہ نروال سینٹر فار ہسٹوریکل اسٹڈیز کی پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ ہیں۔ دونوں پنجرہ توڑ کی بانی ممبر ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ دہلی پولیس نے فی الحال سیتارام یچوری، یوگیندر یادو اور جیتی گھوش کے ناموں کو ملزم کے طور پرشامل نہیں کیا ہے، بلکہ انہوں نے اس کے لیے کلیتا اور نروال کے‘دو یکساں بیانات’کا سہارا لیا ہے۔ حالانکہ دونوں ہی کارکنوں نے ان ‘بیانات’کے کچھ صفحات پر دستخط کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ کلیتا اور نروال نے دہلی فسادات میں نہ صرف اپنے رول کو قبول کیا ہے، بلکہ انہوں نے گھوش، اپوروانند اور رائے کو سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کو متاثر کرنے کے لیے اپنا رہبر بتایا ہے۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ کلیتا اور نروال نے اپنے بیانات جو کہ ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، میں کہا ہے کہ انہوں نے گھوش، اپوروانند اور رائے کے کہنے پر دسمبر میں دریا گنج میں مظاہرہ اور 22 فروری، 2020 کو سی اے اے کے خلاف جعفرآباد میں چکہ جام کیا تھا۔

ان تمام صورتحال پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے مرکزی حکومت سے دہلی پولیس کی چارج شیٹ سے متعلق سوال کیا ہے۔ سیتارام یچوری نے ٹویٹ کیا ہے کہ دہلی پولیس بی جے پی کی مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کی غیر قانونی حرکتیں بی جے پی کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ حزب اختلاف کے سوالات اور پرامن مظاہروں سے خوفزدہ ہے ، اور طاقت کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں روکنا چاہتی ہے۔سیتارام یچوری نے کہاہے کہ دہلی میں ہوئے تشددمیں 56 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نفرت انگیزتقاریر کی ویڈیوز ہیں ، ان پر کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟کیونکہ حکومت نے حکم دیاہے کہ حزب اختلاف کو کسی بھی طرح سے لپیٹ لیاجائے۔ مودی اور بی جے پی کا یہی اصلی چہرہ، کردار ، چالیں اور سوچ ہیں۔

اس حوالے سے سوراج ابھیان کے لیڈر یوگیندر یادو کا کہنا تھا ”دہلی پولیس کے دامن پر پہلے سے ہی سن 1984(سکھ مخالف فسادات) کے داغ موجود ہیں۔ سب کچھ اس کے سامنے ہوا اس کے باوجود لیپاپوتی کی گئی کیوں کہ اس وقت کی حکمراں (کانگریس) جماعت یہی چاہتی تھی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک کھیل سن 2020 میں کھیلا گیا ہے۔ جن لوگوں پر زیادتیاں کی گئیں اور جن لوگوں نے آئین کی حفاظت کے لیے پرامن مظاہرے کیے انہیں کو ملزم بنادیا گیا۔” عمر خالد پر الزامات کے حوالے سے یوگیندر یادو کا کہنا تھا، ”عمر خالد سے ڈیڑھ برس قبل میری ملاقات ہوئی تھی اور ان سے بات کر کے مجھے لگا کہ آج بھی اس ملک میں اتنے سمجھدار اور سنجیدہ نوجوان ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ ایسے لوگ ہر خاندان میں پیدا ہوں۔”

ادھر دوسری جانب اپوزیشن کے لیڈروں نے اسے حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی سازش قرار دیا ہے جبکہ سی پی ایم نے اپنے لیڈر کے خلاف پولیس کی اس حرکت پر راجیہ سبھا میں تمام کام کاج روک کر اس پر گفتگو کا نوٹس دے دیاہے۔ سابق وزیرداخلہ چدمبرم نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی پولیس نے ہندوستان کے نظام انصاف کو مذاق بنا کررکھ دیا ہے۔ پی چدمبرم نے سوال کیا ہے کہ’’کیا دہلی پولیس یہ بھول گئی ہے کہ معلومات اکٹھا کرنے ا ور چارج شیٹ داخل کرنے کے بیچ میں ایک اہم مرحلہ جانچ اور توثیق و تصدیق کا بھی ہوتا ہے؟‘‘ ملک کے سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ’’اضافی چارج شیٹ میں یچوری، کئی دیگر اسکالرس اور سماجی کارکنان کا نام لے کر دہلی پولیس نے نظام انصاف کو مذاق بنادیاہے۔‘‘

اس خبر کے بعد سیکولر اورجمہوریت پسند حلقوں سمیت مسلم کمیونٹی کے مابین سخت برہمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے ایک بڑے رہنما اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ ” حکومت ایک سازش کے تحت سماجی کارکنان کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ تاکہ وہ ڈر کے مارے کچھ نہ بولیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ گرفتاری در اصل فسادات کا رخ بدلنے کے لئے کی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے مظاہرہ کرنے والے لوگوں کو حکومت نشانہ بنا رہی ہے ۔ حالانکہ جمہوریت میں احتجاج شہریوں کا حق ہے لیکن حکومت فساد میں شامل افراد کو بچانے کے لئے ایسی حرکتیں کر رہی ہے”۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے ذریعے پیش کی گئی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ” تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایک خاص سیاسی پارٹی اور فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے منظم طریقے سے باقاعدہ فسادات کرائے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس میں جو نقصانات ہوئے ان میں سے اسی نوے فیصد نقصان مسلمانوں کا ہوا تھا ، اس کے بعد بھی یہ کہنا کہ یہ فسادات مسلمانوں نے کرایا ہے کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے ۔ انھوں نے کہاکہ دہلی اقلیتی کمیشن نے فسادات کے تعلق سے اتنی اہم رپورٹ شائع کی لیکن حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور دیگر رپورٹوں کی طرح اسے بھی در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا ۔ حالانکہ ایک سرکاری محکمے کی جانب سے اس قدر اہم رپورٹ کے آجانے کے بعد حکومت کو فورا اس پر کاروائی کرنی چاہیے تھی اور خطاکاروں کو سزا دینی چاہئے تھی لیکن ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے "۔

اس حوالے سے ایک اور سماجی کارکن اور اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں اہم کردار ادا کرنے والے ایڈوکیٹ ابو بکر سباق نے بتایا کہ ” یہ ایک طرح سے حکومت کی سماج مخالف پالیسیوں کو دبانے کے لیے ہے ۔ جب سے قوانین کے تحت حکومتیں بننا شروع ہوئی ہیں ظالم حکمرانوں نے اسی کا سہارا لیکر اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے قوانین کا استعمال کیا ہے ، یہاں بھی اسی قسم کی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور حکومت یو اے پی اے جیسے قوانین کا غلط استعمال کرکے ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حکومت کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرے، اس حفاظت کے لئے ادارے بنائے جاتے ہیں۔

دہلی فسادات کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا ” کہیں فساد ہونا یا بلوہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پولس اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہی ہے ۔ فسادات کے بارے میں جس طرح سے لوگوں نے باتیں بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑی کر دینے والی ہیں ـ پولس کی جانچ بالکل یکطرفہ ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اس پورے واقعے کو سمجھنے کے لئے صرف ایک واقعے کا ذکر کافی ہے ۔ فسادات میں تقریبا بائیس ، تئیس مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں مساجد ، مدارس اور درگاہیں وغیرہ تھیں جب کہ مسلم محلوں میں 6 منادر تھے لیکن ان کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فساد یکطرفہ تھا لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت جو لوگ مجرم تھے انھیں گرفتار کرنے کے بجائے متاثرہ طبقے کے لوگوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے ۔

عیاں رہے کہ یہ فساد تقریبا ایک ہفتے تک جاری رہا تھا جس میں 53 افراد کی موتیں جب کی بڑی تعداد میں گھروں ، دوکانوں اور مذہبی عبادت گاہوں کا نقصان ہوا تھا۔ اس دوران 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ان فسادات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر کپل مشرا کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر ابھارنے سے متعلق تین شکایات درج کرائی گئی ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی بھی ایسے فرد کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ ایسے افراد کو براہ راست حکومت کی سر پرستی حاصل ہے اسی لئے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*