دہلی فسادات کی ملزم دیوانگنا کالتاکو ضمانت، لیکن وہ جیل سے باہر نہیں جاسکتیں

نئی دہلی:دہلی میں تشدد کیس میں ملزم اور خواتین تنظیم پنجرہ توڑ گروپ کی ایک رکن دیوانگنا کالتا کو فسادات سے متعلق ایک کیس میں ضمانت مل گئی ہے۔ انھیں 26 فروری سے متعلق دہلی فسادات کے معاملے میں ضمانت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی تقریر میں اکسانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ پولیس نے دیوانگنا کالیتا کو اہم ملزم بتایا تھا۔ کالیتا کو 25 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت ملی ہے۔ تاہم عدالت نے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جاسکتیں اور نہ ہی وہ گواہوں کو متاثر کریںگی ۔ جسٹس سریش کمار کیت نے جے این یو کی طالبہ دیوانگنا کالیتا کو 25 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ گواہوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ضمانت ملنے کے بعد بھی دیوانگانا کالیتا جیل سے باہر نہیں آسکیں گی۔ دراصل اسپیشل سیل نے بھی ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ لہٰذا وہ ابھی جیل میں ہی رہیں گی۔ ان پر فسادات سے متعلق اور بھی بہت سے معاملات ہیں، اسپیشل سیل نے انہیں یو اے پی اے کے تحت فسادات کی سازش کے الزام میں ملزم بنا یا ہے۔دیوانگانا کالیتا کو جس کیس میں ضمانت دی گئی اس کا تعلق 26 فروری کو جعفر آباد میں ہونے والے تشدد سے ہے۔