دہلی فساد میں متاثرہ منی مسجد بھاگیرتی وہار پھر آباد

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے نماز جمعہ پڑھا کر کیا آغاز
دہلی:دہلی فساد میں فی الوقت دس مساجد کی تعمیر کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے آج نماز جمعہ میں خطبہ دے کر فساد میں جلائی گئی بھاگیرتی وہار کی ’منی مسجد‘ کو ایک بار پھر ذکرِ خدا سے آبادکیا۔اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند نے پرُمغز خطاب کیا اور مسلمانوں کو دین پر مضبوطی سے قائم رہنے اور خلق خدا سے انس و محبت اور ان کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے پر زور دیا۔ بعد نماز جمعہ مسجد کے ٹرسٹی حاجی شمشاد، امام وخطیب مولانا انیس و دیگر مقامی علماء اور ذمہ داروں نے روایتی پگڑی باندھ کر صدر جمعیۃ کا خصوصی استقبال کیا۔صدر جمعیۃ کے ہمراہ موجود جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے فساد کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی ہر شعبہ حیات میں نمایاں خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مولانا محمود مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند نے مظلوموں اور بے کسوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے ساتھ ان کو انصاف دلانے کے لیے ممتاز وکلاء￿ کی ایک ٹیم بھی مقرر کی ہے ۔منی مسجد کے بعد صدر جمعیۃ علما ہند نے گوکل پوری ٹائر مارکیٹ کا بھی معائنہ کیا، جو اب’جمعیۃ ٹائر مارکیٹ‘کے نام سے موسوم ہے، فساد کے بعد اس مارکیٹ کی تعمیر نومیں جمعیۃعلماء ہند کی بڑی قربانی ہے۔ٹائر مارکیٹ کے لوگوں نے صدر جمعیۃ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد صدر جمعیۃنے فاروقیہ مسجد برج پوری میں جمعیۃ کے زیر اہتمام جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا۔جمعیۃ کے وفد میں آج مذکورہ بالا دوشخصیات کے علاوہ مولانا شمیم احمد قاسمی امام و خطیب مدینہ مسجد جعفرآباد، مولانا داؤد امینی نائب صدرجمعیۃ علماء ریاست دہلی، مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا عرفان و مولانا جمال قاسمی، مولانا اخلاق قاسمی مدینہ مسجد، مولانا خالد قاسمی اورجمعیۃ یوتھ کلب کے ٹرینر اور نوجوان موجود تھے۔