دہلی اقلیتی کمیشن نے پریس کانفرنس منعقد کرکے چار رپورٹیں جاری کیں

نئی دہلی:تین سالہ دور مدت کار ختم ہونے اور دفتر چھوڑنے سے ایک دن پہلے ، دہلی اقلیتی کمیشن نے جمعرات کو ایک پریس میٹنگ منعقد کرکے چار رپورٹیں جاری کیں جو تین دن قبل دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ، لیفٹیننٹ گورنر انیل بیجل، ڈپٹی چیف منسٹر منیش سسودیا اور دہلی کے تمام وزراء اور دہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو پیش کی گئیں۔
یہ چار رپورٹیں یہ ہیں:
شمال مشرقی علاقوں میں مسلم خواتین کے بارے میں رپورٹ۔
سکھ فسادات کے متاثرین کی موجودہ صورت حال سے سے متعلق رپورٹ- شمال مشرقی ضلع میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ اور
دہلی اقلیتی کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2019-2020
پہلی رپورٹ شمال مشرقی ضلع میں مسلمان خواتین کے سماجی وتعلیمی حالات کے بارےمیں ہے۔اقلیتی کمیشن کے لئے یہ مطالعہ ڈیولپمنٹ اورینٹڈ آپریشنز ریسرچ سروےنے تیار کیا ہے۔ اس مطالعے کا فیلڈ ورک پچھلے فروری میں اس علاقے میں ہونے والے فسادات سے قبل مکمل ہوگیا تھا۔ یہ رپورٹ یہاں آن لائن ہے:
https://archive.org/details/dmc-northeast-delhi-women-status-2020
دوسرا مطالعہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں بچ جانے والوں کی سماجی و اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کے بارے میں ہے۔ اس کو ہیومن ڈویلپمنٹ سوسائٹی نے اقلیتی کمیشن کے لئے تیار کیا ہے۔یہ رپورٹ یہاں آن لائن ہے:
https://archive.org/details/DMC-sikh-status-report-1984-riot

دونوں مطالعات کو اس امید کے ساتھ دہلی حکومت کو پیش کیا گیا ہے کہ ان مطالعوں کی سفارشات کو دونوں پچھڑے ہوئے طبقات کی ترقی کے لئے رو بہ عمل لایا جائے گا۔
تیسری رپورٹ اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ہے جسے دہلی اقلیتی کمیشن نے فروری 2020 کے اواخر میں دہلی کے شمال مشرقی ضلع میں بھڑکنے والے فسادات کی تحقیقات کے لئے گذشتہ ۹ مارچ کو مقرر کیا تھا۔ 130 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ تشدد کی بنیاد ، وجوہات، مذہبی مقامات سمیت املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ایک مکمل جائزہ ہے(ذیل میں تفصیلات ملاحظہ کریں)۔
چوتھی اشاعت دہلی اقلیتی کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے سال ۲۰۱۹ ۔ ۲۰۲۰ ہے جو دہلی اقلیتی کمیشن کی موجودہ ٹیم کے عہدے کا تیسرا اور آخری سال ہے جو 19 جولائی کو ختم ہوجائے گا۔ یہ قانونی تقاضا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن ہر سال اپنی سالانہ رپورٹ سفارشات کے ساتھ دہلی حکومت کو پیش کرے جس پر حکومت غور کرے گی اور بعد میں کمیشن کے ایکٹ کے مطابق کارروائی کی گئی رپورٹ کے ساتھ حکومت اسے دہلی قانون ساز اسمبلی میں پیش کرے گی۔ 250 صفحات پر مشتمل یہ سالانہ رپورٹ کمیشن کے کام پچھلے سال کے دوران کمیشن کے کام کا ایک خلاصہ پیش کرتی ہے ۔ اس میں قومی دارالحکومت کے علاقے میں اقلیتوں کو درپیش مسائل کی ایک جھلک ملتی ہے۔یہ رپورٹ یہاں آن لائن ہے: https://archive.org/details/dmc-annual-report-2019-20_202007
ان چار رپورٹوں کے اجراء کے ساتھ دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے ذمے سارے کام پورے کر دئے ہیں حالانکہ گزشتہ دہلی انتخابات کی وجہ سے اس کے کام میں بہت رکاوٹ پیدا ہوئی تھی کیونکہ اس کے کچھ عملے کو انتخابی ڈیوٹی کے لئے طلب کر لیا گیا تھا اور الیکشن کے دوران ماڈل ضابطہ اخلاق کے انطباق نے بھی اس کا کام روک دیا تھا۔ بعد میں ، کوویڈ 19 لاک ڈاؤن نے بھی دہلی اقلیتی کمیشن کو تقریبا تین مہینے تک مفلوج کردیا حالانکہ کمیشن کے چیئرمین اور ممبران اس وقت بھی گھر سے اپنے کام جاری رکھے ہوئے تھے ۔ جون کے اواخر میں لاک ڈاؤن میں تخفیف کے بعد کمیشن کا کام پھر ایک حد تک پپٹری پر آیا ۔