Home تجزیہ دیکھا ہماری خاموشی نے کیسا ہوش اڑایا؟-پروفیسر مشتاق احمد

دیکھا ہماری خاموشی نے کیسا ہوش اڑایا؟-پروفیسر مشتاق احمد

by قندیل

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اپنے وطن عزیز ہندوستان میں انتخابی تشہیر اپنے شباب پر ہے ۔ اب تک دو مرحلوں کی پولنگ ہو چکی ہے اورتیسرے مرحلے کی پولنگ 7؍ مئی کو مکمل ہوگی۔ بقیہ چار مرحلوں کی پولنگ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انتخابی تشہیر کو مؤثر بنانے کے لیے پوری طاقت جھونک رکھی ہے لیکن ووٹنگ فی صد کی کمی نے ایک طرف تمام تر سیاسی ماہرین کو حیرت میں ڈال رکھا ہے تو دوسری طرف تمام سیاسی جماعتوں کے لیے باعثِ فکر مندی ہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے بھی کم دوسرے مرحلے کی ووٹنگ فیصد رہی ہے۔ تمام تر سیاسی مبصروں کا خیال ہے کہ ووٹ فیصد کا کم ہونا حکمراں جماعت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے ۔ مگر ایسا سمجھنا کبھی کبھی غلط بھی ثابت ہوا ہے کہ ووٹ فیصد کم ہونے کی وجہ سے حزب اختلاف کو نقصان پہنچا ہے ۔

بہر کیف! اب تک کے دو مرحلوں کی ووٹنگ سے سب سے زیادہ پریشانی حکمراں جماعت کو ہے کہ اس کی تمام تر امیدوں پر پانی پھرتا ہوا نظر آرہاہے ۔کیوں کہ حکمراں جماعت کو یقین تھا کہ گذشتہ دو پارلیامانی انتخابوں کی طرح اس انتخاب میں بھی نریندر مودی کی شخصی لہر اس کی نیّا کو پار لگائے گی لیکن ووٹ فیصد کی کمی نے سبھوں کے ہوش اڑا دئے ہیں ۔ واضح ہو کہ حال ہی میں سی ووٹر اور اے وی پی کا انتخابی سروے جائزہ شائع ہواہے جس میں یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ صرف 33؍فیصد ووٹر ہی مودی کی واپسی چاہتے ہیں اور 18؍فیصد راہل کو چاہتے ہیں جب کہ 49؍فیصد ووٹر موجودہ حکمراں جماعت کو پسند تو نہیں کرتے لیکن خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔ایک دوسرے سروے میں یہ حقیقت اجاگر ہوئی ہے کہ اس بار پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوان طبقے کے اندر بھی کوئی جوش وخروش نہیں دکھائی دے رہا ہے کہ صرف33؍فیصد نوجوانوں نے ووٹر لسٹ میں اپنے نام درج کرائے ہیں ۔دو مرحلوں کی پولنگ میں بھی یہ حقیقت سامنے آگئی ہے کہ اس بار نوجوان طبقے کے اندروہ جوش وخروش نہیں دکھائی دے رہاہے جو گذشتہ پارلیامانی انتخاب میں اپنے شباب پر تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ووٹر فیصد کا کم ہونا انتخابی نتائج کو متاثر کرے گا ۔ شاید اس لیے حکمراں جماعت بالخصوص ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے انتخابی جلسوں میں ہندوتو کی چنگاری کو شعلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مبینہ طورپر مسلمانوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘’’زیادہ بچہ پیدا کرنے والا ‘‘ ، ہندوئوں کی ملکیت پرغاصبانہ قبضہ کرنے والا ‘‘ بلکہ منگل سوتر جیسے مذہبی زیور کو چھیننے والا بتا کر نفرت انگیز سیاست کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔ مگر اس اشتعال انگیزی کے باوجود دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا کم فیصد رہنا حکمراں جماعت کے لیے مزید باعثِ پریشانی نظر آرہاہے ۔ ظاہر ہے کہ ملک کی قومی میڈیا اور فرقہ پرست تنظیموں کے ذریعہ جس طرح ملک کی فضا کو مکدر بنانے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے اس کے باوجود ہندوستانی عوام نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اب ملک کی جمہوریت کے تحفظ کے لئے اشتعال انگیز سیاست خسارۂ عظیم ثابت ہو رہی ہے اس لئے تمام تر شطرنجی چالیں ناکام ہورہی ہیں۔

دراصل حکمراں جماعت کے پاس سرکاری غیر سرکاری سراغ رسانی ایجنسیوں کے ذریعہ جو فڈ بیک مل رہاہے وہ ان کے لیے مایوس کن ہے ، ساتھ ہی ساتھ کئی غیر ملکی ایجنسیوں نے بھی یہ انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان کا موجودہ پارلیامانی انتخاب حکمراں جماعت کے لیے بہت آسان نہیں ہے ۔ ظاہر ہے کہ بیشتر ریاستوں میں ’’انڈیا‘‘اتحاد اور قومی جمہوری اتحاد کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے ۔ ایسی صورت میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے یہ دعویٰ کرنا کہ اس کی جیت یقینی ہے ،خیالِ خام ہے۔اس لیے ہمارے وزیر اعظم کا تیور دن بہ دن تلخ ہوتا جا رہا ہے اور مسلم اقلیت طبقے کے خلاف زہر فشانی فروغ پا رہی ہے ۔ان کی پارٹی کے دیگر لیڈروں کے ذریعہ بھی کسی نہ کسی طورپر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے دیگر لیڈروں کے بدلتے تیور اور نفرت انگیز انتخابی تشہیری بیان کو لے کر ملک اور بیرونِ ملک میں بحث ومباحثہ جاری ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی پارٹی جس فکر ونظر کی علمبردار ہے اس کا کھلا ایجنڈہ ہی مسلم دشمنی رہا ہے ۔آر ایس ایس کی بنیاد کی وجہ ہی مسلم مخالفت ہے اور اس لیے آر ایس ایس شروع سے ہی اپنا ایجنڈہ اعلانیہ رکھا ہے ۔ لیکن جب کوئی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے اور وہ جب آئین کی پاس داری کا حلف لیتی ہے تو ملک کے عوام کو یہ امید رہتی ہے کہ خواہ ہمارے وزیر اعظم یا ان کی کابینہ کے وزراء کا سیاسی نظریہ کچھ بھی ہو لیکن جب انہوں نے اپنے عہدے کی آئینی حلف برداری کر لی ہے تو وہ ملک وقوم کے مفاد میں کام کریں گے اور تمام تر نظری فکری تعصبات وتحفظات سے اوپر اٹھ کر ملک کی ترقی اورعوام کی فلاح وبہبود کے لئے عمل پیرا ہوں گے ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس انتخابی ماحول میں جس طرح کی نفرت انگیز سیاست پروان چڑھ رہی ہے وہ ہمارے ملک کی جمہوریت کے لیے کسی طورپر مفید نہیں ہوسکتی۔ہمارے وزیر اعظم کے ہاتھوں میں ایک دہائی سے ملک کی باگ ڈور ہے اور انہوں نے اس مدتِ کار میں بہت سے ایسے کام کیے ہیں جس کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکتے تھے لیکن انہوں نے ملک کی ایک بڑی اقلیت کے خلاف زہر فشانی کو ہی اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ، یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔دراصل ملک کے عوام کو ایک دہائی سے جس طرح مذہبی جنون کی فضا میں سانس لینے پر مجبور کیا گیاہے ایسی صورت میں ترقیاتی کاموں کی بدولت عوام کے درمیان جانا شاید ان کے لیے باعثِ خطرہ ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ان کی ایک آواز پر ملک کا صرف ناخواندہ طبقہ ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی تالی اورتھالی بجانے پر مجبور ہو جاتا ہے تو پھر ملک میں ترقیاتی کاموں کی فکر کسے ہے ۔بس صرف مذہبی منافرت ہی ملک کی سیاست کو کھاد پانی دیتی رہے گی۔ لیکن یہ ملک صدیوں سے مختلف مذاہب کا گہوارۂ امن رہاہے ، آپسی اتحاد وبھائی چارگی کا لہویہاں کے لوگوں کی رگوں میں دوڑتا ہے اور اگر کبھی وقتی طورپر وہ جذبات کے دھاروں میں بہہ جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی ہندوستانی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے اپنے عمل پرنادم بھی ہوتے ہیں اوراپنے پڑوسیوں سے اپنا قدیمی رشتہ نہ صرف استوار کرتے ہیں بلکہ مستحکم بھی کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھ کوششوں کے باوجود ملک کی آبادی کی اکثریت آپسی اتحاد اور بھائی چارے میں یقین رکھتی ہے اور یہی یقین کا جادو اس بار تمام تر منافرت پھیلانے والوں کے سحر کو ناکام کر رہی ہے اور ان کے ہوش اڑا رہی ہے ۔بس شرط یہ ہے کہ اب تک مسلم اقلیت طبقے نے جس طرح صبر وتحمل اور خاموشی کے ساتھ اس نفرت واشتعال انگیزتقریروں کو اپنی خاموشی سے بے اثر کردیاہے وہ عمل آخری مرحلے کی پولنگ تک جاری رہے اور جمہوری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ٹھوس لائحہ عمل تیار کرکے زیادہ سے زیادہ پولنگ بوتھوں تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تو خود بخود تمام تر سازشیں ناکام ہوں گی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو کمزور کرنے والوں کی امیدوں پر بھی پانی پھرجائے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like