26 جنوری تشدد:دیپ سدھو کے بعد اقبال سنگھ بھی گرفتار،پولیس نے رکھا تھا 50000 کا انعام

نئی دہلی:جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران لال قلعے میں ہونے والے تشدد کے معاملے میں ایک اور ملزم اقبال سنگھ کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے اقبال سنگھ کو پنجاب کے ہوشیار پور سے گرفتار کیا ہے۔ اقبال سنگھ پر پچاس ہزار روپیے کا انعام تھا۔ اقبال سنگھ پر الزام ہے کہ وہ 26 جنوری کو لال قلعہ میں موجود تھا اور لوگوں کو لال قلعے کے دروازے کو توڑنے اور پرچم لہرانے کے لیے اکسارہا تھا۔ اقبال سنگھ لدھیانہ کا رہائشی ہے اور وہ تشدد کے وقت فیس بک لائیوکر رہا تھا۔واضح رہے کہ تشدد کے دوسرے ملزم اداکار دیپ سدھو کو منگل کے روز دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔اس کے بعد دہلی پولیس نے دیپ سدھو کو عدالت میں پیش کیا ، جہاں سے انہیں سات دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دیپ کو کرائم برانچ نے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ پرگیہ گپتا کی عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے 10 دن کے ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں دیپ سدھو کے ریمانڈ کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں اس سے پوچھ گچھ کرنا ہے۔ اس کے خلاف ویڈیوگرافی کے ثبوت موجود ہیں۔ اس نے لوگوں کو اکسایا ، جس کی وجہ سے لوگوں نے عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ دیپ کے سوشل میڈیا کی بھی تفتیش کی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران کچھ لوگوں نے لال قلعے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، اورپولیس سے جھڑپ بھی ہوئی۔ ٹریکٹروں پر سوار افراد کی ایک بڑی تعداد لال قلعے میں داخل ہوئی تھی۔ دہلی پولیس ذرائع کے مطابق لال قلعہ کے لاہوری گیٹ پر جھنڈا لہرانے کے لیے ہجوم کو اکسانے والے شخص کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اقبال سنگھ پنجاب کے شہر لدھیانہ کا رہائشی ہے ، جو اس وقت لال قلعہ سے فیس بک لائیو بھی کر رہا تھا ، اس پر الزام ہے کہ اس نے لال قلعے کا اندرونی دروازہ کھولنے کے لیے بھیڑ کو اکسایا۔