دین اسلام اور”لو جہاد“کی افسانوی اصطلاح -عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

ملک میں تعصب پسندذہنیت رکھنے والوں کا ایک طبقہ ایسا ہے؛جسے ملک کا سیکولر نظام پسند نہیں، جو بھارت کی پر امن فضا اور باشندگان وطن کے درمیان محبت آمیز تعلقات کو برداشت نہیں کرسکتا، وہ جمہوری نظام کے بالمقابل ہندوتوا نظام کا نفاذ چاہتاہے اور اس کے لیے شب و روز کوششوں میں لگا ہوا ہے،وہ وقفے وقفے سے دستور میں تبدیلی، خوف ناک فسادات،اقلیتوں کے ساتھ ظلم وستم اور مسلمانوں کی حق تلفی و محرومی دیکھنا چاہتاہے اور ان سب کو اپنا نصب العین اور فرض منصبی سمجھتاہے۔اس مخصوص فرقے کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نت نئی تحریکیں چلائی جاتی ہیں،پھر مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعہ بے گناہ مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
پچھلی بار ۳۱۰۲ء میں برسراقتدار جماعت نے لو جہادکے موضوع کوسیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا،اور یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ مسلم نوجوان،ہندو لڑکیوں کو دامِ محبت میں گرفتار کرکے ان سے شادی رچا کرتبدیلی مذہب پر مجبور کرتے ہیں؛جس کا نتیجہ صرف اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں ۲۶ لوگوں کے قتل عام اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی کی صورت میں رونما ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لو جہاد کا شوشہ محض اس لیے چھوڑ ا گیا؛تاکہ ہندو جوانوں کا خون گرمایاجائے،انہیں تشدد پر آمادہ کیاجائے اور ان کی مدد سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کا کھیل کھیلاجائے،جس میں انہیں بہ تدریج کامیابی حاصل ہوتی جارہی ہے اور ملک کے طول وعرض سے دختران ملت کے مرتدہونے کی خبریں تواتر کے ساتھ موصول ہورہی ہیں۔العیاذ باللہ
الغرض:لو جہاداور مختلف خود ساختہ اصطلاحات کے ذریعہ ملک عزیز میں جس طرح مارپیٹ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا (اوراب قانون سازی کے بعداس میں مزیداضافے کا امکان ہے) اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر گنگا جمنی تہذیب کے حامل وطن عزیز کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنے اور ملک کی دوسرے بڑی آبادی (مسلمانوں)کے تئیں نفرت کے بیج بونے کی پوری تیای کرچکے ہیں۔نیز آئے دن کبھی گاؤرکشا کے نام پر تو کبھی دہشت گردی کے عنوان سے،کبھی شریعت میں مداخلت کے ذریعہ تو کبھی شعائر اسلام کو نشانہ بناکر۔۔۔۔ مختلف بہانوں سے مسلمانوں پر عرصہئ حیات تنگ کرنے کی سازشیں بھی عروج پر ہیں۔
لوجہاد پر قانون سازی:
اتر پردیش کے بعد اب مدھیہ پردیش حکومت نے بھی لو جہاد قانون کے مسودے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کی سربراہی میں منعقدہ کابینی میٹنگ میں لو جہاد قانون کے مسودے کو پیش کیا گیا۔ مسودہ میں جہاں پہلے لو جہاد انجام دینے والوں کو۵/سے۰۱/سال کی سزا کی تجویز پیش کی گئی تھی، وہیں وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سزا کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی بھی تجویزمیں شامل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اترپردیش میں لو جہاد کو لے کر آرڈیننس پاس ہونے کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش حکومت نے بھی’لوجہاد‘  کے تعلق سے اپنے سخت موقف کو پیش کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ نے پچھلے مہینے ہی واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ محبت کے نام پر’جہاد‘ کرنے والوں کے لیے مدھیہ پردیش میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کی ہدایت پرنام نہاد لو جہاد سے متعلق ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ ڈرافٹ کمیٹی نے پہلے لو جہاد کرنے والوں کے خلاف پانچ سال کی سزا تجویزکی تھی، مگر جب اس حوالے سے حکومتی سطح پر الگ الگ بیانات سامنے آئے تو ڈرافٹ کمیٹی نے ہی سزا کو پانچ سے بڑھا کر۰۱/ سال کرنے کی تجویز پیش کردی۔ شیوراج سنگھ کی منظوری کے بعد لو جہاد قانون کے مسودے کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ اب اسے۸۲/ دسمبر سے شروع ہونے والی اسمبلی سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی سیشن میں قانون پاس ہونے کے بعد مدھیہ پردیش لو جہاد قانون کا نفاذ کردیاجائے گا۔ مدھیہ پردیش وزارت میں لو جہاد کے ڈرافٹ پر منعقدہ میٹنگ میں قانونی طور پر جن باتوں کو منظور کیا گیا ہے، ان میں متاثرہ کے علاوہ اس کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو بھی شکایت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔
ریاستی حکومتوں کی اس قانون سازی کو لے کر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کا دستور اور سپریم کورٹ باہمی رضا مندی سے دو بالغوں کو بلا امتیاز جنس بھی ایک ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے اور بغیر شادی کے بھی مرد وعورت کے ساتھ رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا تو پھر لو جہاد کے نام پر قانون سازی کیوں کی جارہی ہے۔پھر اس میں صرف لو جہاد ہی کیوں، اس میں تو ہر وہ معاملہ شامل ہونا چاہیے جو محبت کے نام پر دھوکہ دے کر کیا جاتا ہو،شادی  کے نام پر لڑکیوں کی زندگی برباد کی جاتی ہواور انہیں جنسی تشددکانشانہ بنایاجاتاہو۔ اس اصطلاح میں صرف مسلمانوں کی نشان دہی کرنے والے لفظ کو ہی کیوں شامل کیا گیا؟؟؟
یہاں پراس بات کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہوگاکہ آج سے دس گیارہ سال قبل معروف انگریزی اخبار”دی ہندو” کے 13 نومبر2009کی اشاعت میں کرناٹک سی آئی ڈی کی جانب سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی؛جس میں انہوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ غیر مسلم لڑکیوں سے مسلم لڑکوں کی شادی میں ’’لوجہاد‘‘ کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے؛اسی طرح پولیس کے جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا تھاکہ اجتماعی یا انفرادی طور پر اس طرح کی کوششیں بھی کہیں نہیں پائی گئیں۔پھر اپریل 2010 میں حکومت کرناٹک نے عدالت کو یہ رپورٹ بھی پیش کی تھی کہ ’’لو جہاد‘‘ جیسی کو ئی چیز ریاست میں نہیں ہے۔ (دی ہندو:23اپریل10ء)
بہ نظر غائر دیکھا جائے تو غیر مسلم لڑکیوں سے مسلم لڑکوں کی شادی کے واقعات کا تناسب ہی کیا ہے؟اور اگر ایک آدھ واقعہ اس طرح کا پیش آرہاہے تو اس کی وجہ مفروضہ جہاد نہیں؛بل کہ مخلوط تعلیم، آزادانہ ماحول،والدین وسرپرستوں کی غفلت وبے توجہی اور ملازمت و معاشرت میں لڑکے اور لڑکیوں کی بے حجابانہ ملاقات ہے۔اس کے برعکس ایک بڑی تعداد غیر مسلم لڑکوں کی وہ ہے جو مسلم لڑکیوں سے بیاہ کررہے ہیں اورمتشدد زعفرانی تنظیمیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں۔اس حوالے سے چند سال قبل کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں!معتبر ذرائع کے مطابق اب تک کئی ہندو لڑ کے مسلم لڑکیوں کومحبت کے جال میں پھانسنے کے بعد اسپیشل میرج ایکٹ 1954کے دفعہ 15کے مطابق شادی کو باقاعدہ رجسٹریشن کرنے کے لیے رجسٹرار آف میرجس سے رجوع ہو کر قانوناً ازدواجی زندگی میں داخل ہوئے ہیں؛ جس میں گوپال کرشنا کی شادی تسنیم کے ساتھ اسی طرح ترون شرما کی شادی ربینہ اختر کے ساتھ،آنند کی شادی تخمینہ کے ساتھ اور ان کے علاوہ کئی ایک مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ ہونے کی اطلاع بنگلورواور وجئے پور،رجسٹرارآف میرجس کے دفتر کے باہر چسپاں نوٹس بورڈ دیکھنے سے ہوئی ہے۔باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اب تک جتنی بھی مسلم لڑکیوں کی شادیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ باقاعدہ رجسٹریشن کے ذریعہ ہوئی ہیں ان تمام غیر مسلم لڑکوں کا تعلق یا تو آر ایس ایس سے ہے یا آر ایس ایس کی ان لڑکوں کو حمایت حاصل ہے۔
اسلامی تعلیمات:
جہاں تک مذہب اسلام کا تعلق ہے تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی بھی مرد و زن کو جبراً اسلام میں داخل کرنے کی اجازت نہیں، جب تک کوئی شخص بہ رضا و رغبت دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوتا، وہ مسلمان ہی نہیں گردانا جاتا پھر تبدیلیئ مذہب اور قبول اسلام کے لیے جبر و اکراہ کے کیا معنی؟ اس کے علاوہ اسلام غیرمسلم عورتوں کو تو درکنار محارم کے علاوہ مسلم اجنبی عورتوں پر بھی نگاہ ڈالنے سے منع کرتا ہے، ایسا پاکیزہ مذہب کیوں کر عشق و معاشقہ کی غلط کاریوں کی اجازت دے سکتا ہے؟ دراصل یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے کہ کسی بھی طرح پرامن ماحول کو مسموم اور زہر آلود کرکے اپنی سیاسی دکان چمکائی جائے اور اقتدار کو مضبوط و مستحکم کیاجائے۔ اس تعلق سے جو پروپیگنڈے کیے گئے اور ’’لوجہاد‘‘ کے نام پرجو مختلف کہانیاں گڑھی گئیں بالخصوص یو ٹیوب وغیرہ پر ہندوبرقعہ پوش خواتین کو پیش کیا گیا اور ان سے یہ کہلوایاگیا کہ انہیں مذہب اسلام میں بہ جبر و اکراہ داخل کیا گیاہے یہ سب جھوٹ ووھوکہ اور اشتعال انگیزی کا نیا حربہ ہے۔نیز اس غلط ذہن سازی اورنفرت انگیز ماحول کو فروغ دینے کے لیے نہ صرف الیکٹرانک میڈیا: ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ کا سہارا لیا گیا بلکہ پرنٹ میڈیا کے ذریعہ بھی اس کوخوب ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔
رہی بات جہاد کی تو جاننا چاہیے کہ جہاد ایسے پاکیزہ عمل کو کہتے ہیں جس کا مقصد حق کی اشاعت اور اسلام کی سربلندی ہو، جس میں اسلامی اصول وآداب اور اخلاق وکردارکا مکمل خیال رکھا گیاہو، اور جس سے صرف اللہ کی رضا وخوش نودی مقصود ہو۔مزید یہ کہ اس کے جواز کے لیے مطلوبہ شرائط بھی پائے جاتے ہوں۔
پھرآپ ہی بتائیں! ایسے عمل کو جہاد کیسے کہہ سکتے ہیں جس کی ابتداء ہی حرام عمل سے ہوتی ہے اور جس میں ہر قدم پر گناہ ہی گناہ ہے؛ کیونکہ اسلام میں کسی بھی اجنبی لڑکی سے دوستی، شہوت و لذت کے ساتھ اس سے بات چیت، اس سے ملاقات اور اس کو دیکھناحرام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے واقعات میں عام طورپر ایسے لڑکے ملوث ہوتے ہیں جو خود دین کے تقاضوں کو پورا کرنے والے نہیں ہوتے،حرام وحلال کی تعلیم کے پابند نہیں ہوتے، نفس وشیطان کی راہ پر چلنا ان کا شیوہ ہوتا ہے، اور اسی راہ میں ان کی کسی غیر مسلم لڑکی سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا جواز فراہم کرنے کے لئے محض ذاتی جذبے کے تحت برائے نام مسلمان بناکر شادی کرلیتے ہیں جبکہ بہت سے اپنے اپنے مذہب پر باقی رہتے ہوئے کورٹ میریج کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ رہن سہن شروع کردیتے ہیں جو ان کی نظر میں شادی ہوتی ہے؛مگر مذہب اسے شادی تسلیم نہیں کرتا،اور کچھ تو اپنے ایمان تک کا سودا کربیٹھتے ہیں کہ شادی کی خاطر اپنا مذہب چھپاکر خود کو غیر مسلم ظاہر کردیتے ہیں۔اللہ ان سب کوہدایت عطا فرمائے۔
المختصر:اس طرح کے واقعات اسلام کی نظر میں جہاد نہیں ہیں؛بلکہ ایسے واقعات کو اسلام نفس پرستی، شہوت رانی اور بدکاری کہتا ہے اور بدکاری ونفس پرستی اسلام میں حرام اور بدترین گناہ ہے۔